Book Name:Khof e Khuda عزوجل

آپ نے فرمایا، ’’یا امیر المؤمنین !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔(یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا تھا۔) ‘‘یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  رونے لگے اور عرض کرنے لگے ، ’’کچھ اور بھی فرمائیے۔‘‘ تو آپ نے کہا، ’’ اے امیر المؤمنین ! حضرت آدم ں سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباؤ اجداد فوت ہوچکے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی ، ’’مزید کچھ بتائیے۔‘‘ آپ نے فرمایا ، ’’ آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ۔(یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

  (47)( بے شک مجھے دوجنتیں عطا کی گئیں … )

        حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے زمانہ ٔمبارک میں ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار وعبادت گزار تھا ۔حضرت عمررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبرو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیے بغیر نگاہیں جھکائے گزرجایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے اللہ   تَعَالٰی  کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آ گیا،

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ

’’بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہو جاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔ ‘‘(ترجمۂ کنزالایمان پ۹، الاعراف ۲۰۱)

        اس آیتِ پاک کے یاد آتے ہی اس کے دل پر اللہ   تَعَالٰی  کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا اور لوگوں کی مدد سے اسے اٹھوا کر گھر لے آیا۔ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ دریافت کیا ، نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے جب اس آیت ِ پاک کا ذکر کیا، تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللہ   تَعَالٰی  کا شدید خوف غالب ہوا ، اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔راتوں رات ہی اس کے غسل و کفن ودفن کا انتظام کر دیاگیا ۔

        صبح جب یہ واقعہ حضرت عمررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ اس کے باپ کے پاس تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے اس سے فرمایا کہ ’’ہمیں رات کو ہی اطلاع کیوں نہیں دی ، ہم بھی جنازے میں شریک ہو جاتے ؟‘‘اس نے عرض کی ، ’’امیر المومنین!آپ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے مناسب معلوم نہ ہوا۔‘‘آپ نے فرمایا کہ ’’مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔‘‘وہاں پہنچ کر آپ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی،

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ

اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں (ترجمۂ کنزالایمان، پ۲۷، الرحمن۴۶)

        تو قبر میں سے اس نوجوان نے  بلند آواز کے ساتھ پکار کر کہا کہ’’یا امیرَ َالمومنین!بیشک میرے رب نے مجھے دو جنتیں عطا فرمائی ہیں ۔‘‘(شرح الصدورص۲۱۳)

  (48)(آنکھ نکال دی… )

        حضرت سَیِّدُنا کعب الاحباررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانۂ مبارکہ میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا تو لوگوں نے آپ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ’’حضور! بارش کے لئے دعا کر دیجئے۔‘‘ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا، ’’میرے ساتھ پہاڑ پر چلو۔‘‘چنانچہ سب لوگ آپ کے ساتھ چل پڑے ۔آپ نے اعلان فرمایا کہ’’میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ آئے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔‘‘یہ سن کر سب لوگ واپس ہو لئے لیکن صرف ایک آنکھ والا شخص ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے اس سے پوچھا ، ’’کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟‘‘ اس نے عرض کی، ’’جی ہاں ! سنی ہے ۔‘‘ فرمانے لگے ، ’’کیا تم بالکل بے گناہ ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’حضور! مجھے اپنا کوئی گناہ یاد نہیں لیکن ایک گناہ کا تذکرہ کرتا ہوں اور وہ گناہ اب باقی رہا یا نہیں ، اس کا فیصلہ آپ ہی فرمائیں ۔‘‘آپ نے پوچھا ، ’’وہ کیا؟‘‘ اس نے بتایا، ’’ایک دن میں نے راستے سے گزرتے ہوئے کسی کے مکان میں ایک آنکھ سے جھانکا تو کوئی کھڑا تھا، کسی کے گھر میں اس طرح جھانکنے کا مجھے بہت افسوس ہوا اور میں خوفِ خدا سے لرز اٹھا۔ پھر مجھ پر ندامت غالب آئی اور میں نے وہ آنکھ نکال کر پھینک دی جس سے جھانکا تھا  ۔ اگر میرا وہ عمل گناہ تھا تو آپ فرما دیجئے ، میں واپس چلا جاتا ہوں ۔‘‘

        حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا، ’’ساتھ چلو!اب ہم دعا کرتے ہیں ۔ ‘‘ پھر آپ نے دعا فرمائی کہ’’اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ !تیرا خزانہ کبھی ختم نہیں ہونے والا اور بخل تیری صفت نہیں ، اپنے فضل وکرم سے ہم پر پانی برسا دے ۔‘‘ اتنا کہنا تھا کہ فوراً بارش شروع ہو گئی اور یہ دونوں حضرات بارش میں بھیگتے ہوئے پہاڑ سے واپس تشریف لائے ۔(کتاب التوابین ، ص۸۰  )

 (49)(رونے والا پتھر… )

        حضرت سَیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام ایک پتھر کے قریب سے گزرے جس کے دونوں طرف سے پانی بہہ رہا تھا ۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھر سے دریافت فرمایا ، ’’اے پتھر! یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہا ں جائے گا؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’ جو پانی میری سیدھی جانب سے آرہا ہے وہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہیں اور الٹی جانب سے آنے والا پانی میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔‘‘ آپ ں نے پوچھا ، ’’تم یہ آنسو کس لئے بہا رہے ہو؟‘‘ پتھر نے جواب دیا ، ’’اپنے رب کے خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا دے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۲۸، رقم الحدیث ۹۳۲)

  (50)(چٹان ہٹ گئی… )

        سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے کہ’’گزشتہ زمانے میں تین آدمی سفر میں تھے کہ رات گزارنے کے لئے انہیں ایک غار کا سہارا لینا پڑا ۔ جونہی وہ غار میں



Total Pages: 42

Go To