Book Name:Khof e Khuda عزوجل

کاش! میں مدینے کا کوئی دنبہ ہوتا یا

سینگ والا چتکبرا مینڈھا بن گیا ہوتا

آہ! کثرت ِعصیاں ، ہائے ! خوف دوزخ کا

کاش! اس جہاں کا میں نہ بشر بنا ہوتا

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی)

  (35)     (جگر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے… )

         مروی ہے کہ ایک نوجوان انصاری صحابی پر دوزخ کا ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ مسلسل رونے لگے اور اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا ۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف لائے اور ان کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ انتقال کر گئے ۔ رسول اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’ اپنے ساتھی کے کفن ودفن کا انتظام کرو ، جہنم کے خوف نے اس کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۳۰، رقم الحدیث ۹۳۶)

  (36)( امانت رکھوا دیئے ہیں … )

        امیر المؤمنین سَیِّدُنا حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے حمص شہر میں سَیِّدُنا عمر بن سعید رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو گورنر بنا کر بھیجا۔ جب ایک سال گزر گیا تو حضرتِ عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے انہیں خط لکھا کہ اپنا مال واسباب لے کر مدینہ شریف پہنچ جاؤ ۔ جیسے ہی حضرتِ عمر بن سعید کو یہ خط ملا ، انہوں نے اپنا سامان جو کہ ایک عصا، ایک پیالے، ایک کوزے اور موزوں کے ایک جوڑے پر مشتمل تھا ، سمیٹا اور مدینۃ المنورہ روانہ ہوگئے ۔جب یہ مدینہ طیبہ میں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس پہنچے تو بڑے غمگین اور پریشان دکھائی دئیے ۔ آپ کی اس پریشانی کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے پوچھا، ’’شاید آپ کو وہ شہر راس نہیں آیا؟‘‘ تو آپ نے عرض کی ، ’’اے امیر المؤمنین ! بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس کو ئی ایسی موزوں چیز نہیں جو آپ کو دکھا سکوں اور نہ ہی میرے پاس دنیا کا مال واسباب ہے ۔‘‘ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے پوچھا ، ’’پھر آپ کے پاس کیا ہے؟‘‘ آپ نے جواب دیا، ’’میرے پاس یہ ایک عصا ہے جس سے میں سہارا لیتا ہوں ، یہ ایک پیالہ ہے جس میں کھانا کھاتا ہوں اور یہ موزے ہیں جو پاؤں میں پہنتا ہوں اور ایک کوزہ ہے جس میں پانی پیتا ہوں ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔‘‘

        یہ سن کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’کیا اس شہر میں کوئی بھی مخیر آدمی نہ تھا جو آپ کو سواری ہی مہیا کر دیتا ، آخر اللہ   تَعَالٰی  نے انہیں ایک امیر دیا تھا جو ان کے معاملات کو سنبھالتا تھا۔‘‘ پھر خادم سے فرمایا ، ’’جاؤ !ایک کاغذ اور قلم لے کر آؤ ، میں ان کے لئے نیا حکم نامہ لکھ دوں ۔‘‘ یہ سن کر آپ نے عرض کی ، ’’امیر المؤمنین ! مجھے معاف فرما دیں ، آپ کو خدا کا واسطہ مجھے اس آزمائش میں نہ ڈالیں کیونکہ میں نے ایک دن ایک نصرانی کو یہ کہہ دیا تھا کہ، ’’اللہ   تَعَالٰی  تجھے رسواء کرے۔‘‘ اب مجھے خوف ہے کہ رب   تَعَالٰی  کہیں اسی بات پر میری پکڑ نہ فرما لے ۔ ‘‘ آپ کی اس خدا خوفی کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  رو پڑے اور فرمایا، ’’ٹھیک ہے ! آپ کو یہ ذمہ داری نہیں دی جارہی۔‘‘ اس کے بعد آپ اپنے گھر چلے آئے ۔   

        حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے حقیقتِ حال جانے کے لئے ایک آدمی کوسو دینار کی تھیلی دے کر ان کے گھر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ جب تم خدا خوفی کی کوئی بات دیکھو ، یہ تھیلی ان کی خدمت میں پیش کر دینا۔ وہ آدمی تین دن تک آپ کے معمولات کا مشاہدہ کرتا رہا ۔ اس نے دیکھا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ، شام کے وقت ایک روٹی اور زیتون کے تیل کے ساتھ روزہ افطار فرماتے ہیں اورپوری رات عبادت میں گزارتے ہیں ۔جب تیسرا دن آیا تو اس نے وہ تھیلی آپ کی بارگاہ میں پیش کر دی اور ساتھ امیر المؤمنین کا حکم بھی سنایا۔ آپ یہ سب دیکھ کر رو پڑے تو اس آدمی نے آپ کے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا، ’’ مجھے سونا دے کر آزمایا گیا ہے حالانکہ میں رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا صحابی ہوں ، کاش! حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  مجھے کبھی نہ دیکھ سکیں ۔‘‘ آپ نے اس وقت ایک پرانی قمیض پہن رکھی تھی ، جسے آپ نے چاک کر دیا اور پانچ دینار اپنے پاس رکھ کر بقیہ راہِ خد امیں صدقہ کر دئیے ۔ کچھ عرصے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے آپ سے ان دیناروں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے عرض کی، ’’میں نے وہ دینار اللہ   تَعَالٰی  کے پاس امانتاً رکھوا دیئے ہیں کہ قیامت کے دن مجھے واپس کر دینا ۔‘‘

(حکایات الصالحین، ص ۱۲۴)

  (37)(مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟… )

        حضرت سَیِّدُنا مسلم بن بشیررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بیمار ہوئے تو رونے لگے ۔ جب آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا گیاتو فرمایا، ’’مجھے دنیا سے رخصتی کا غم نہیں رلا رہا بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میرا سفر کٹھن اور طویل ہے جبکہ میرے پاس زادِ سفر بھی کم ہے اور میں گویا ایسے ٹیلے پر جاپہنچاہوں جس کے بعد جنت اور دوزخ کا راستہ ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر اصحاب الصفۃ ، ج ۱، ص۳۵۰)

  (38)(رونے والا حبشی… )

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے یہ آیت تلاوت فرمائی،       

وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ

جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۲۸، التحریم۶)

        پھر فرمایا  ، ’’جہنم کی آگ ایک ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہوگئی ، پھر ایک ہزار سال تک دہکائی گئی تو سفید ہوگئی ، پھر ہزار سال بھڑکائی گئی تو سیاہ ہوگئی ، اور اب وہ سیاہ و تاریک ہے۔‘‘ یہ سن کرایک حبشی جو وہاں موجود تھا ، رونے لگا ۔ مدنی سرکارصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا ، ’’یہ کون رو رہا ہے؟‘‘عرض کی گئی ، ’’حبشہ کا رہنے والا ایک شخص ہے ۔‘‘ آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا ۔ حضرت سَیِّدُنا جبرائیل ں وحی لے کر اترے کہ رب   تَعَالٰی  فرماتا ہے ، ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! میرا جو بندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا، میں ضرور اسے جنت میں زیادہ



Total Pages: 42

Go To