Book Name:Khof e Khuda عزوجل

        امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب کسی کی قبر پر تشریف لے جاتے تو اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی ۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی ، ’’جنت اور دوزخ کے تذکرے پر آپ اتنا نہیں روتے جتنا کہ قبر پر روتے ہیں ؟‘‘ تو ارشاد فرمایا ، ’’ میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ ’’قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ، اگر صاحبِ قبر نے اس سے نجات پالی تو بعد (یعنی قیامت) کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا ، ’’قبر کا منظر سب مناظر سے زیادہ ہولناک ہے ۔‘‘(جامع الترمذی ، باب ماجاء فی ذکر الموت ، رقم الحدیث ۲۳۱۵، ج۴، ص۱۳۸)

  (26)(مرنے کے بعد نہ اٹھایا جائے… )

        حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ارشادفرمایا، ’’میری خواہش ہے کہ مجھے مرنے کے بعد نہ اٹھایا جائے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (27)(راکھ ہوجانا پسند کروں گا… )

        اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا، ’’اگر مجھے جنت اور جہنم کے درمیان لایا جائے اوریہ معلوم نہ ہو کہ مجھے دونوں میں سے کس میں ڈالا جائے گا؟ تو میں وہیں راکھ ہو جانا پسند کروں گا ۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المھاجرین ، ج۱، ص۹۹، رقم الحدیث۱۸۲)

  (28)(میں تجھے تین طلاق دے چکا ہوں … )

        حضرت سَیِّدُنا ضرار کنانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ’’میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کو کئی مرتبہ دیکھا ، اس وقت کہ جب رات کی تاریکی چھارہی ہوتی ، ستارے ٹمٹما رہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزاں وترساں اپنی داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو ۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر ’’اے میرے رب ! اے میرے رب ! ‘‘پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے ، ’’تو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیرے مصائب جھیلنا آسان ہیں ، آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور ہے ۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص۸۵ )   

  (29)( اُن جیسا نظر نہیں آتا… )

        امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک مرتبہ فجر کی نماز پڑھائی، آپ اس وقت غمگین تھے اور اپنا ہاتھ الٹ پلٹ کر رہے تھے پھر فرمانے لگے کہ ’’میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہم  کو دیکھا ہے لیکن آج ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ان کی صبح اس حال میں ہوتی تھی کہ بال بکھرے ہوتے ، رنگ زرد ہوتا ، چہرے پر گردو غبار ہوتا ، ان کی آنکھوں کی درمیانی جگہ بکریوں کی رانوں کی طرح ہوتی ، ان کی راتیں اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں قیام اور سجدے میں گزرتیں ، وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ، اپنی پیشانی اور پاؤں پر باری باری زور ڈالتے ۔ صبح ہوجاتی تو اللہ   تَعَالٰی  کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح کانپتے ، جس طرح ہوا کے ساتھ درخت کے پتے ہلتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اتنے آنسو بہتے کہ ان کے کپڑے تر ہوجاتے ۔‘‘

        پھر فرمانے لگے ’’ اللہ  کی قسم! میں گویا ایسی قوم کے ساتھ ہوں جو غفلت میں رات گزارتے ہیں ۔‘‘ اتنا کہہ کر آپ کھڑے ہوگئے اور اس کے بعد کسی نے آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ابن ملجئم نے آپ کو شہید کردیا ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (30)(بھُولی بسری ہوجاؤں … )

        اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہا نے فرمایا ، ’’میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہوجاؤں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۶، رقم الحدیث ۷۹۱ )  

 (31)(کاش !میں ایک درخت ہوتا… )

        حضرت سَیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ، ’’میں چاہتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹا جاتا۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (32)( ہوا مجھے بکھیر دے… )

        حضرت سَیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا، ’’میری خواہش ہے کہ میں راکھ بن جاؤں اور سخت آندھی کے دن ہوا میرے اجزاء کو بکھیر دے ۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (33)(کاش! میں مینڈھا ہوتا… )

        حضرت سَیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ، ’’کاش! میں مینڈھا ہوتا اور میرے گھر والے مجھے ذبح کر دیتے پھر میرا گوشت کھالیتے اور شوربہ پیتے۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۶، رقم الحدیث ۷۹۰ )

  (34)(آہ! میں انسان نہ ہوتا… )

        حضرت سَیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ، ’’اے کاش! میں ایک درخت ہوتا ، جس کو کاٹا جاتا، اس کے پھل کھائے جاتے، آہ! میں انسان نہ ہوتا۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۵، رقم الحدیث ۷۸۷)

کاش !کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

قبر وحشر کا سب غم ختم ہو گیا ہوتا     

آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے

کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا

 



Total Pages: 42

Go To