Book Name:Khof e Khuda عزوجل

         یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ، ’’افسوس! تونے مجھے ہلاک کر دیا ۔‘‘ پھر آپ نے اپنے حلق میں ہاتھ ڈالا تاکہ قے کر سکیں لیکن وہ شے جسے آپ نے خالی پیٹ کھایا تھا، نہ نکل سکی۔ آپ کو بتایا گیا کہ پانی پئے بغیر یہ لقمہ نہیں نکلے گا۔ چنانچہ آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور مسلسل پانی پیتے رہے اور اس لقمہ کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے (حتی کہ اس میں کامیاب ہوگئے ) ۔ جب آپ سے عرض کی گئی کہ’’ اللہ   تَعَالٰی  آپ پر رحم فرمائے ! آپ نے ایک لقمہ کی وجہ سے اتنی تکلیف اٹھائی ۔‘‘ تو ارشاد فرمایا ، ’’میں نے سرورِ عالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جسم کا جو حصہ مال حرام سے بنا ہے ، وہ دوزخ کا زیادہ حق دار ہے ، تو مجھے خوف ہوا کہ وہ لقمہ کہیں میرے بدن کا حصہ نہ بن جائے ۔ ‘‘

(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص۳۷، رقم الحدیث ۴۱)

  (18)(رونے کی آواز… )

        حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے امیرالمؤمنین سَیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھا کہ تین صفوں تک ان کے رونے کی آواز پہنچ رہی تھی ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المھاجرین ، ج۱، ص۸۹، رقم الحدیث۱۴۱)

  (19)(سواری سے گر پڑے… )

        حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب کسی آیتِ عذاب کو سنتے تو غش کھا کر گر پڑتے اور اتنابیمار ہوجاتے کہ آپ کے ساتھی آپ کی عیادت کے لئے جایا کرتے تھے ۔ آپ کے چہرہ ٔ مبارک پر کثرت سے آنسو بہانے کے سبب دو لکیریں بن گئی تھیں ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ، ’’کاش !میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا۔‘‘ایک دن آپ کہیں سے گزر رہے تھے کہ یہ آیت سنی…

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ(۷) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ

ترجمۂ کنزالایمان :  بے شک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے ، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ۔ ۲۷، الطور۷، ۸)

         تو آپ پر غشی کی کیفیت طاری ہوگئی اور آپ سواری سے گر پڑے ، لوگ آپ کو گھر لے آئے ۔پھر آپ ایک مہینہ تک گھر سے باہر نہ نکل سکے ۔(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۳)

  (20) (کوڑوں کے نشانات… )

        منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے پاس ایک رجسٹر تھا جس میں وہ اپنے ہفتہ واراعمال لکھا کرتے تھے ۔ جب جمعہ کا دن آتا تو وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتے اور جس عمل کو (اپنے گمان میں )رضائے الٰہی کے لئے نہ پاتے تو خود کو درہ مارتے اور فرماتے ، ’’تم نے یہ کام کیوں کیا؟‘‘ جب آپ کا وصال ہوگیا اور لوگ آپ کو غسل دینے لگے تو دیکھا کہ آپ کی پیٹھ اور پہلوؤں پر کوڑوں کے نشانات تھے ۔(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۳)

  (21) (کاش! میری ماں نے مجھ کو نہ جنا ہوتا… )

        حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک مرتبہ زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا ،   

 ’’کاش! میں یہ تنکا ہوتا ، کاش! میرا ذکر نہ ہوتا ، کاش ! مجھے بھلا دیا گیا ہوتا ، کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی ۔‘‘ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (22) (بے ہوش ہو کر گر پڑے… )

        حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے کہ’’جو اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتا ہے وہ غصہ نہیں دکھاتا اور جو اللہ   تَعَالٰی  کے ہاں تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اپنی مرضی نہیں کرتا اور اگر قیامت نہ ہوتی تو ہم کچھ اور دیکھتے ۔‘‘آپ نے ایک مرتبہ یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی،     

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱)

جب دھوپ لپیٹی جائے ۔‘‘(ترجمۂ کنزالایمان ۔پ۳۰، التکویر)

پھر جب اس آیت پر پہنچے ، وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰)

اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں ۔(ترجمۂ کنزالایمان، پ۳۰، التکویر۱۰)‘‘ تو بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (23) (آگے نہ پڑھ سکے… )

        حضرت عبید بن عمررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فجر کی نماز پڑھائی اور سورۂ یوسف کی قرأت کی ، جب اس آیت پر پہنچے ،

وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(۸۴)

اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں تو وہ غصہ کھاتا رہا ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۱۳، یوسف ۸۴)

        تو رونے لگے اور خوف ِخدا کے غلبہ کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور رکوع کردیا۔(کنزالعمال ج۱۲، ص۲۶۴، رقم الحدیث۳۵۸۲۸)     

  (24)   (اگر تونے اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کا خوف نہ رکھا… )

        حضرت سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کو ایک باغ کی دیوار کے پاس دیکھا کہ وہ اپنے آپ سے فرما رہے تھے ، ’’واہ ! لوگ تجھے امیر المؤمنین کہتے ہیں (پھر بطور عاجزی فرمانے لگے ) اور تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ  سے نہیں ڈرتا ، اگر تونے رب   تَعَالٰی  کا خوف نہ رکھا تو اس کے عذاب میں گرفتار ہوجائے گا ۔‘‘

(کیمیائے سعادت ج۲ص۸۹۲ )

  (25)(قبرکامنظر سب مناظر سے ہولناک ہے… )

 



Total Pages: 42

Go To