Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

کھاتے  ہیں ، نہ پیتے  ہیں، ہر وقت اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہیں ۔اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے  انہیں یہ قدرت یعنی طاقت دی ہے  کہ وہ جو شکل چاہیں اختیار کریں ۔

سوال : فرشتوں کے  ذمّہ کیا کیاکام ہیں؟

جواب : وہ جُدا گانہ کاموں پر مقررہیں ۔بعض جنّت پر، بعض دوزخ پر، بعض آدمیوں کے  عمل لکھنے  پر، بعض روزی پہنچانے  پر، بعض پانی برسانے  پر، بعض ماں کے  پیٹ میں بچہ کی صورت بنانے  پر، بعض آدمیوں کی حفاظت پر ، بعض روح قبض کرنے  پر، بعض قبر میں سوال کرنے  پر، بعض عذاب پر، بعض رسول  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے  دربار میں مسلمانوں کے  درود و سلام پہنچانے  پر، بعض انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے  پاس وحی لانے  پر ۔

سوال : ملائکہ کے  پاس کس قدر طاقت ہوتی ہے ؟

جواب : ملائکہ کو اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے  بڑی قوت عطا فرمائی ہے ، وہ ایسے  کام کر سکتے  ہیں جسے  لاکھوں آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے ۔

    سوال : مشہور فرشتے  کون کون سے  ہیں؟

جواب :  تمام فرشتوں میں سے  یہ چارفرشتے  بہت مشہور اور بڑی عظمت رکھتے  ہیں :  حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اِسرافیل، حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام۔

سوال : کیا فرشتے  دیکھنے  میں آتے  ہیں؟

جواب : ہمیں تو نظر نہیں آتے  مگر جنہیں اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ چاہتا ہے  وہ فرشتوں کو دیکھتے  ہیں ۔انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام انہیں ملاحظہ فرماتے  ہیں ، ان سے  کلام ہوتا ہے  ۔قبروں میں مُردے  بھی فرشتوں کو دیکھتے  ہیں اور بھی جسے  اللّٰہ  عَزَّ    وَجَلَّ چاہے ، دیکھ سکتا ہے ۔

سوال : ہر آدمی کے  ساتھ ایک ہی فرشتہ عُمر بھر اس کے  عمل لکھا کرتا ہے  یا کئی فرشتے  لکھتے  ہیں؟

جواب : نیکی اور بدی کے  لکھنے  والے  علیحدہ علیحدہ ہیں اور رات کے  علیحدہ اور دن کے  علیحدہ ہیں۔

سوال : نامۂ اعمال لکھنے  والے  ان فرشتوں کوکیا کہتے  ہیں؟

جواب : کراماً  کاتبین۔

سوال : کُل کتنے  فرشتے  ہیں؟

جواب : بہت ہیں ہمیں ان کی تعداد معلوم نہیں۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

تقدیرکابیان

سوال :  تقدیر کسے  کہتے  ہیں ؟

جواب : دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے  اور بندے  جو کچھ کرتے  ہیں نیکی ، بدی وہ سب اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے  علمِ اَزَلی کے  مطابق ہوتا ہے  ۔ جو کچھ ہونے  والا ہے  وہ سب اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے  علم میں ہے  اور اس کے  پاس لکھا ہوا ہے ، اسی کو تقدیر کہتے  ہیں۔ ہر بھلائی برائی اس نے  اپنے  علمِ اَزَلی کے  مُوافق مُقدّر فرمادی ہے  جیسا ہونے  والا تھا اور جو جیسا کرنے  والا تھا اپنے  علم سے  جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے  لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے  بلکہ جیسا ہم کرنے  والے  تھے  ویسا اس نے  لکھ دیا زید کے  ذمّہ برائی لکھی اس لئے  کہ زید برائی  کرنے  والا تھا اگر زید بھلائی کرنے  والا ہوتا وہ اس کے  لئےبھلائی لکھتا تو اس کے  علم یا اس کے  لکھ دینے  نے  کسی کو مجبور نہیں کردیا تقدیر کے  انکار کرنے  والوں کو نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے  اس امت کا مجوس بتایا ہے ۔([1])

سوال : تقدیر کی کتنی قسمیں ہیں کیا تقدیر بدل بھی جاتی ہے  ؟

جواب : تین قسمیں ہیں (۱) مُبْرَمِ حقیقی (۲) مُعلّقِ محض (۳) معلقِ شبیہ بہ مُبْرَم پہلی قسم یعنی مُبْرَمِ حقیقی وہ ہوتی ہے  جو علمِ الٰہی میں کسی شے  پر مُعلّق نہیں ۔دوسری قسم یعنی مُعلّقِ محض وہ ہوتی ہے  جس کا ملائکہ کے  صحیفوں میں کسی شے  پر مُعلّق ہونا ظاہر فرمادیا گیا ہو۔تیسری قسم یعنی مُعلّقِ شبیہ بہ مُبْرَم وہ ہوتی ہے  جس کا ملائکہ کے  صحیفوں میں مُعلّق ہونا ظاہر نہ فرمایا گیا ہو مگر علمِ الٰہی میں  کسی شے  پرمُعلّق ہو۔ان میں سے  پہلی قسم مُبْرَمِ حقیقی کا بدلنا ناممکن ہے  اللّٰہ تعالیٰ کے  محبوب بندے  اکابرین بھی اتفاقاً اس میں کچھ عرض کرتے  ہیں تو انھیں اس خیال سے  روک دیا جاتا ہے جب قومِ لوط پر فرشتے  عذاب لے  کر آئے  تھے  تو سیّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ  عَـلَـيْهِ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام نےان کافروں کے  بارے  میں اتنی



[1]    بہار شریعت،  حصہ۱،  ۱/ ۱۱



Total Pages: 50

Go To