Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

کی محبت کی وجہ سے  اپنی قدرت اور طاقت کے  مُوافِق خرچ کرتا ہے  ۔قسم ہے  میری عُمر کی! اسکی جزا یہی ہے  کہاللّٰہتعالیٰ اسے  اپنے  فضلِ عمیم سے  جناتِ نعیم میں داخل کرے ۔([1])

سوال : کیا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ذات کے  حوالے  سے  بھی ولادت کی خوشی منانے  کا ثبوت ملتا ہے ؟

جواب : جی ہاں!خود نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  اپنی ولادت کی خوشی منائی جیسا کہ امام مسلمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسیّدنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  روایت کرتے  ہیں : رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے  پیر شریف کے  روزے  کے  بارے  میں سوال کیا گیا تو فرمایا : فِیْہِ وُلِدْتُ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔([2])نیز میلاد منانا آج کی ایجاد نہیں مسلمان صدیوں سے  میلاد مناتے  آئے  ہیں ، چُنانچہ ملا علی قاری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ اور علامہ برہانُ الدین حلبی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ لکھتے  ہیں : ’’مسلمان تمام مقامات اور بڑے  بڑے  شہروں میں ہمیشہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے  مہینے  میں محافل منعقد کرتے  رہے  ہیں۔([3])

سوال : ولادتِ مبارکہ کی درست تاریخ کیاہے ؟

جواب : حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادتِ مبارکہ پیر کے  دن ہو ئی ہے  اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے  اور تاریخِ ولا دت میں اقوال مختلف ہیں  ۔مشہور تاریخ بارہ ربیع الاول ہے  ساری دنیا میں اسی تاریخ کو خصوصی اہتمام کے  ساتھ جشنِ ولادت منایا جاتا ہے ۔

سوال : حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی میں جلوس نکالنا، چراغاں وغیرہ کرنا کیسا؟

جواب : نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  اس دنیامیں جلوہ فرماہونے  کی وجہ سے  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کیلئے  جلوس نکالنا ، پرچم لہرانا، اورجلوس میں شرکت کرنااور اپنی اپنی استطاعت کے  مطابق چراغاں اور روشنی کرنا جائز و مستحسن ہے ۔

سوال : مسلمان ولادتِ مبارکہ کے  موقع پر جلوس کیوں نکالتے  ہیں؟

جواب : مسلمان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت کے  موقع پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیرکیلئے  جلوس نکالتے ،  خوشیوں کا اظہار کرتے  ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر کے  لئے  جو جائز کام کیا جائے  اور اس میں کسی قسم کی خرابی بھی نہ ہو وہ جائز ومستحسن ہے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

تقلید کی ضرورت واہمیت

سوال :  تقلید کی حقیقت اور اس کے  ضروری ہونے  پر دلائل بیان کردیجئے ؟

جواب :  ایک سمجھدار بچّہ بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے  کہ ایسا شخص جو بالکل جاہل اور اَن پڑھ ہے  اور اسے  اپنے  کام سے  فرصت بھی نہیں ہے  کیا وہ یہ اہلیت و استطاعت رکھ سکتاہے  کہ کتابیں پڑھ کر ہی خود کوئی مسئلہ معلوم کر لے ، کجا یہ کہ وہ براہِ راست قرآن وحدیث سے  مسئلے  نکالے  اور اس پر عمل کرے ۔ہر عاقل کے  نزدیک اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا ۔لامحالہ وہ جاہل شخص کسی عالم سے  پوچھے  گا ۔وہ عالم اگر خود قرآن و حدیث سے  مسائل نکالنے  کی اہلیت نہیں رکھتا تو وہ اسے  ان کتب سے  پڑھ کر بتائے  گا جس میں کسی عالمِ مجتہد کے  اَخذ و مرتب کردہ مسائل لکھے  ہوں گے ، اور اس مجتہد عالم نے  وہ مسائل قرآن و سنّت ہی سے  نکال کر بیان کئے  ہوں گے  ۔تو ایک جاہل یا عالمِ غیر مجتہد جو اجتہاد کے  ذریعے  خود قرآن و حدیث سے  مسائل نکالنے  کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں رکھتا اس پر یہ ذمّے  داری عائد کر دینا کہ وہ خود قرآن و حدیث سے  مسائل نکالے  اس کے  لئے  تكليف ما لا يُطاق ہے  (یعنی ایسی تکلیف ہے  جس کی وہ طاقت و اہلیت ہی نہیں رکھتا)، بلکہ حکمِ قرآنی کے  صریح خلاف ہے ۔معمولاتِ شرعیہ سے  قطعِ نظر کرتے  ہوئے  جب ہم روزمَرّہ کے  حالات اور اپنے  طرزِ زندگی پر نظر کرتے  ہیں تو صاف نظر آتا ہے  کہ ہم اپنی زندگی کے  ہر لمحہ تقلید کے  بندھنوں میں جکڑے  ہوئے  ہیں اس میں عوام وخواص، شہری، دیہاتی ہر طبقہ کے  لوگ مساوی حصّہ دار ہیں ۔آپ غور کریں کہ ایک بچّہ ہوش سنبھالتے  ہی اپنے  ماں باپ اپنے  مُرَبّی کی تقلید کے  سہارے  پروان چڑھتا ہے ، ایک بیمار اپنے  معالج کی تقلید کرکے  ہی شفا ء یا ب ہوتا ہے ، ایک مستغیث کسی قانون داں وکیل کی تقلید کرکے  ہی اپنا حق پاتا ہے  ، راستہ سے  نابلد ایک راہ روکسی راستہ بتانے  والے  کی تقلید کرکے  منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے ، ایک ناخواندہ اپنے  مُعلّم کی تقلید ہی سے  صاحبِ علم وفضل بنتا ہے  ۔صنعت وحرفت سے  عاری کسی ماہرِ فن اُستاذ کی تقلید کرکے  ہی صنعت کار ہوتا ہے  یہ وہ روزمَرّہ کی باتیں ہیں کہ ان سے  نہ تو انکار کی کوئی گنجائش ہے  اور نہ بَحث وتمحیص کی اور یہی تقلید ہے  ۔([4])

سوال :  چاروں ائمّہ میں سے  کسی ایک کی تقلید کیوں واجب ہے  جب چاروں حق پر ہیں تو چاروں کی تقلید کی اجازت ہونی چاہئے  جب چاہیں جس امام کی تقلید کریں؟

 



[1]     المواھب اللدنیة، ذکر رضاعہ، ۱/ ۷۸

[2]     صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صيام ثلاثة ۔۔۔الخ، ص۵۹۱، حدیث : ۱۱۶۲

[3]    رسائل میلاد مصطفے ٰ، ص۲۶

[4]    مقالاتِ شارح بخاری، ۱/ ۲۵۳، ملخصاً



Total Pages: 50

Go To