Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : اس کی فضیلت میں مُتعدَّ د احادیث مَروی ہیں حضرت علی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  روایت ہے ، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایاکہ جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو جاگا کرو اور اس کے  دن میں روزہ رکھو جب سورج غروب ہوتا ہے  تو اس وقت سے  اللّٰہتعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے  اور اعلان کرتاہے  کہ ہے  کوئی مغفرت طلب کرنے  والا تاکہ میں اس کوبخش دوں ، ہے  کوئی رِزق طلب کرنے  والا تاکہ میں اس کورِزق دوں ، ہے  کوئی مصیبت زَدہ تاکہ میں اس کواس سے  نجات دوں ۔یہ اعلان طلوعِ فجر تک ہوتا رہتا ہے ۔([1])

   اسی طرح امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا سے  مروی ہے  فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے  حضور کو اپنے  بستر پر نہ پایا تو میں  حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں نکلی میں نے  حضو ر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنّتُ البقیع میں پایا، حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  فرمایا : ’’اللّٰہتعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے  اور قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے  بالوں سے  بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔‘‘([2])

سوال : بڑی راتوں میں جمع ہوکر عبادت کرنا کیسا ہے  ؟

جواب : جائز ومستحسن ہے۔فتاویٰ رضویہ میں بحوالہ لَطائِفُ المعارِف ہے : ’’اہلِ شام میں آئمہ تابعین مثل خالد بن مَعدان و امام مکحول و لقمان بن عامر وغیرہُم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِم) شبِ براءت کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوششِ عظیم کرتے  اور انہیں سے  لوگوں نے  اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اَخذ کیا ہے ۔‘‘([3])

سوال : ان راتوں میں مساجد کو سجانا کیسا ہے  ؟

جواب : جائز ومستحسن ہے  کیونکہ اس سے  مقصود اس رات کی تعظیم ہوتا ہے  اور بحوالہ لطائِفُ المعارف گزر چکا کہ ائمہ تابعین اس رات کی تعظیم کیا کرتے  تھے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

شِرک و بدعت

سوال : شِرک کسے  کہتے  ہیں؟

 جواب : شِرک کہتے  ہیں کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کی اُلوہیّت میں شریک ماننا یعنی جس طرح اللّٰہتعالیٰ کی ذات ہے  اس کی مِثل کسی دوسرے  کی ذات کو ماننایا کسی دوسرے  کو عبادت کے  لائق سمجھنا ۔مزید اس کو اس طرح سمجھیں کہ شِرک توحید کی ضِدّ ہے  او رکسی شے  کی حقیقت اس کی ضِدّ سے  پہچانی جاتی ہے  لہٰذا شِرک کی حقیقت جاننے  کے  لئے  توحید کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے  ۔

’’توحید کا معنی اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کو اس کی ذات او رصفات میں شریک سے  پاک ماننا یعنی جیسا اللّٰہ تعالیٰ ہے  ویسا ہم کسی کو نہ مانیں اگر کوئی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے  سوا کسی دوسرے  کو ’’اللّٰہ‘‘تصوّر کرتا ہے  تو وہ ذات میں شِرک کرتا ہے  ۔اسی طرح اللّٰہ جیسی صفات کسی اور کے  لئے  ماننا یہ صفات میں شرک ہے ۔‘‘

سوال : شِرک کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب : شِرک کی تین اقسام ہیں :

(۱)۔۔۔جس طرح اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ وُجود میں کسی کا محتاج نہیں ہمیشہ سے  ہے  ہمیشہ رہے  گا اس کی صفات بھی ہمیشہ سے  ہیں ہمیشہ رہیں گی اس طرح کسی کا وُجود مانناشِرک ہے ۔

(۲)۔۔۔جس طرح اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کائنات کا خالق ہے  اسی طرح کسی اور کو کائنات کا خالق یا اس کی تخلیق میں شریک ماننا شِرک ہے ۔

(۳)۔۔۔اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے  علاوہ کسی کو عبادت کے  لائق سمجھنا شِرک ہے ۔

سوال : جائز اُمور کو شِرک کہنے  والوں سے  میل جول رکھنا کیسا؟

جواب : جو مسلمان کو مشرک و کافر کہے  حدیث شریف میں آیا کہ کفر کہنے  والے  کی طرف لوٹتا ہے ([4])اس لئے  مسلمانوں پر لازم ہے  کہ ایسوں سے  جو بلاوجہ مسلمانوں کو بات بات پر شِرک و بدعت کے  حکم لگاتے  ہیں  دور رہیں کہ حدیثِ مبارک میں بدمذہبوں سے  دور رہنے  اوران کے  ساتھ اُٹھنے  بیٹھنے ، سلام کرنے  وغیرہ دیگر معاملات سے  منع فرمایا گیاہے ۔

 



[1]                    ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب ماجاء فی لیلة النصف من شعبان، ۲/ ۱۶۰، حدیث : ۱۳۸۸

[2]    ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، ۲/ ۱۸۳، حدیث :  ۷۳۹

[3]    فتاوی رضویہ، ۷/ ۴۳۳

[4]     صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بيان حال إيمان من قال لأخيه المسلم : يا كافر، ص۵۱، حدیث : ۶۰



Total Pages: 50

Go To