Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : انبیائے  کرام عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَاماور اولیاء اللّٰہسے  مدد مانگنا بلا شبہ جائز ہے  جبکہ عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی امداد تو ربّ تعالیٰ ہی کی ہے  اور یہ سب حضرات اس کی دی ہوئی قدرت سے  مدد کرتے  ہیں کیونکہ ہر شے  کا حقیقی مالک و مختار صرفاللّٰہ تعالیٰ ہی ہے  اوراللّٰہتعالیٰ کی عطا کے  بغیر کوئی مخلوق کسی ذرّہ کی بھی مالک و مختار نہیں ہو تی  ۔اللّٰہتعالیٰ نے  اپنی خاص عطا اور فضلِ عظیم سے  اپنے  پیارے  حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو کونین کا حاکم و مختار بنایا ہے  اور حضو ر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اور دیگر انبیائے  کرام واولیائے  عِظام اللّٰہتعالیٰ کی عطا سے (یعنی اس کی دی ہوئی قدرت سے )مدد فرما سکتے  ہیں۔

سوال : اس کی کیا دلیل ہے ؟

    جواب :  اللّٰہتعالیٰ کی عطا سے  انبیائے  کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی مدد فرماتے  ہیں اور یہ قرآن و حدیث سے  ثابت ہے  جیسا کہ سورۃُ التحریم پارہ 28 کی آیت 4 میں اللّٰہتعالیٰ کا فرمان ہے فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(۴)

                                                                                                            (پ٢٨، التحريم : ٤)

تو بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے  اور جبریل اور نیک ایمان والے  اور اس کے  بعد فرشتے  مدد پر ہیں۔حدیث شریف میں حضرت سیّدُنا عتبہ بن غزوان  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت ہے  کہ حضور پُر نورسیّدُ العالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم فرماتے  ہیں : ’’جب تم میں سے  کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے  اور مدد چاہے  اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے  چاہئے  یوں پکارے  :  اے  اللّٰہکے  بندو! میری مدد کرو، اے  اللّٰہکے  بندو! میری مدد کرو ، کہ اللّٰہکے  کچھ بندے  ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔‘‘([1])

سوال : کیا انبیاءِ کرام اوراولیاء اللّٰہسے  ان کی وفات کے  بعد بھی مدد مانگی جاسکتی ہے ؟

جواب : جی ہاں !جس طرح زندگی میں ان سے  توسّل کرنا اور مددمانگناجائز ہے  اسی طرح ان کے  وصال کے  بعد بھی جائز ہے  ۔اللّٰہتعالیٰ کے  پیارے  نبی اور ولی اپنی قبور میں زندہ ہوتے  ہیں۔

سوال : مدد فرمانے  کے  ثبوت میں کوئی واقعہ ہو تو بیان کریں ؟

جواب : اس پر ایک نہیں بلکہ بے  شمار واقعات ذکر کئے  جا سکتے  ہیں ، یہاں ایک واقعہ ملاحظہ ہو، چُنانچہ امام طَبَرانی، علامہ ابنُ الْمُقْری اور امام ابو الشیخ ۔یہ تینوں حدیث کے  بہت بڑے  امام گزرے  ہیں اوریہ تینوں ایک ہی زمانہ میں مدینۂ منورہ کی ایک درسگاہ میں حدیث کا علم حاصل کرتے  تھے  ، ایک بار ان تینوں طُلباء ِعلمِ حدیث پر ایک وقت ایسا گزرا کہ ان کے  پاس کھانے  کو کچھ نہیں تھا ، روزے  پر روزے  رکھتے  رہے  ، مگر جب بھوک سے  نڈھال ہوگئے  اور ہمّت جواب دے  گئی تو تینوں نے  رحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  روضۂ اطہر پر حاضر ہوکر فریاد کی یارسولَ اللّٰہ! ہم لوگ بھوک سے  بیتاب ہیں ۔یہ عرض کرکے  امام طَبَرانی توآستانۂ مبارکہ ہی پر بیٹھے  رہے  اور کہا :  اس در پر موت آئے  گی یا روزی، اب یہاں سے  نہیں اُٹھوں گا ۔امام ابو الشیخ اور ابنُ الْمُقْری اپنی قیام گاہ پر لوٹ آئے ، تھوڑی دیر بعد کسی نے  دروازہ کھٹکھٹایا، دونوں نے  دروازہ کھول کر دیکھا تو عَلَوِی خاندان کے  ایک بزرگ دوغلاموں کے  ساتھ کھانا لے  کر تشریف فرماہیں اور یہ فرمارہے  ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  ابھی ابھی مجھے  خواب میں اپنی زیارت سے  مشرّف فرما کر حکم فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے  پاس کھانا پہنچادوں چُنانچہ جو کچھ مجھ سے  فی الوقت ہوسکا حاضر ہے ۔([2])

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

توسّل کرنا

سوال : انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیسے  توسّل کا کیا مطلب ہے ؟

جواب : ان سے  توسّل کا مطلب یہ ہے  کہ حاجتوں کے  بَر آنے  اور مطالب کے  حاصل ہونے کے  لئے  ان محبوب ہستیوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایاجائے  کیونکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے  ، اللّٰہ تعالیٰ ان کی دعا پوری فرماتا ہے  اور ان کی شفاعت قبول فرماتاہے ۔

سوال : انبیاءِ کرامعَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظامرَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیسے  توسّل کا کیا حکم ہے ؟

جواب : دُنیاوی اور اُخروی حاجتوں کو پورا کرنے  کے  لئے  اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان سے  توسّل شرعاً جائز ہے ۔

سوال : توسّل کرنا یعنی وسیلہ بنانے  کا کیا ثبوت ہے ؟

 



[1]               معجم کبیر، ۱۵/ ۱۱۷، حدیث : ۲۹۰

[2]     تذکرةُ الحفّاظ، رقم۹۱۳، ۳ / ۱۲۱، ملخصاً

 



Total Pages: 50

Go To