Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

سوال : مُرتد مسلمان ہوگیا ، اب اِرتداد سے  پہلے  جو عبادات ادا کی تھیں کیا ان کو دوبارہ ادا کرنا ہوگا؟اور جو عبادات اِرتداد سے  پہلے  قضا تھیں کیا ان کی ادائیگی اب بھی لازم ہے ؟

جواب :  زمانۂ اسلام میں کچھ عبادات قضا ہوگئیں اور ادا کرنے  سے  پہلے  مُرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضاکرے  اور جو ادا کر چکا تھا اگرچہ اِرتداد سے  باطل ہو گئیں مگر اس کی قضا نہیں البتہ اگر صاحبِ استطاعت ہو تو حج دوبارہ فرض ہوگا۔

سوال : مَرد نے  کفرِ قطعی کیا تو اس کے  نکاح کا کیا حکم ہے  ؟

جواب :  اگر کفرِ قطعی ہو تو عورت نکاح سے  نکل جائے  گی پھر اسلام لانے  کے  بعد اگر عورت راضی ہو تو دوبارہ اس سے  نکاح ہو سکتاہے  ورنہ جہاں پسند کرے  نکاح کر سکتی ہے  اس کا کوئی حق نہیں کہ عورت کو دوسرے  کے  ساتھ نکاح کرنے  سے  روک دے  اور اگر اسلام لانے  کے  بعد عورت کو بدستور رکھ لیا دوبارہ نکاح نہ کیا تو قربت زنا ہوگی اور بچے  ولدُالزّنا اور اگر کفرِ قطعی نہ ہو یعنی بعض علما کافر بتاتے  ہوں اور بعض نہیں یعنی فقہاکے  نزدیک کافر ہو اور متکلمین کے  نزدیک نہیں تو اس صورت میں بھی تجدید ِاسلام و تجدید ِنکاح کا حکم دیا جائیگا ۔

سوال : عورت مُرتد ہو گئی تواسکے  نکاح کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  عورت مُرتد ہوگئی پھر اسلام لائی تو شوہرِ اول سے  نکاح کرنے  پر مجبور کی جائے  گی یہ نہیں ہو سکتا ہے  کہ دوسرے  سے  نکاح کرے  اسی پر فتوی ہے  ۔

سوال : مُرتد کے  نکاح کا کیا حکم ہے  ؟اسکا نکاح کس سے  ہوسکتا ہے ؟

جواب :  مُرتد کا نکاح بالاتفاق باطل ہے  وہ کسی عورت سے  نکاح نہیں کر سکتا نہ مسلِمَہ سے  نہ کافرہ سے  نہ مُرتدہ سے  نہ حُرّہ سے  نہ کنیز سے  ۔

سوال : تجدیدِنکاح کیسے  کیا جائے ؟

جواب : تجدیدِ نکاح کا معنیٰ ہے  : ’’نئے  مَہر سے  نیا نکاح کرنا۔‘‘اِس کیلئے  لوگوں کو اِکٹھا کرنا ضروری نہیں  ۔نکاح نام ہے  اِیجاب و قبول کا  ۔ہاں بوقتِ نکا ح بطورِ گواہ کم ازکم دو مَرد مسلمان یا ایک مَرد مسلمان اور دو مسلمان عورتوں کا حاضِرہونا لازمی ہے ۔خُطبۂ نکاح شرط نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے  ۔خطبہ یاد نہ ہوتو اَعُوْذُ بِاللہ اور بِسمِ اﷲشریف کے  بعد سورۂ فاتِحہ بھی پڑھ سکتے  ہیں ۔کم ازکم دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے  سات ماشہ چاندی(موجودہ وزن کےحساب سے  30 گرام 618 مِلی گرام چاندی )یا اُس کی رقم مہَر واجِب ہے۔مثلاً آپ نے  پاکستانی 786 روپے  اُدھار مہَر کی نیّت کر لی ہے  (مگر یہ دیکھ لیجئے  کہ مہر مقرر کرتے  وقت مذکورہ چاندی کی قیمت  786 پاکستانی روپے  سے  زائد تو نہیں) تو ا ب مذکورہ گواہوں کی موجودگی میں آپ ’’اِیجاب‘‘ کیجئے  یعنی عورت سے  کہئے  : ’’میں نے  786 پاکستانی روپے  مہَر کے  بدلے  آپ سے  نکاح کیا۔‘‘ عورت کہے  : ’’میں نے  قبول کیا۔‘‘نکاح ہو گیا  ۔یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ عورت ہی خُطبہ یا سورۂ فاتِحہ پڑھ کر’’اِیجاب‘‘ کرے  اور مَرد کہے : ’’میں نے  قبول کیا‘‘، نکاح ہو گیا  ۔بعدِ نکاح اگر عورت چاہے  تو مَہر مُعاف بھی کر سکتی ہے۔مگر مَرد بِلاحاجتِ شرعی عورت سے  مَہر مُعاف کرنے  کا سوال نہ کرے  ۔

سوال : مُرتد کے  ذَبیحہ کا کیا حکم ہے  ؟

جواب :  مُرتد کا ذَبیحہ مُردار ہے  اگرچہ بِسْمِ اللہ کرکے  ذبح کرے  ۔یوہیں کُتّے  یا باز یا تیر سے  جو شکار کیا ہے  وہ بھی مُردار ہے ، اگرچہ چھوڑنے  کے  وقت بِسْمِ اللہ کہہ لی ہو ۔

سوال : مُرتد کی گواہی اور اس کے  وارث بننے  کے  متعلق کیا شرعی حکم ہے  ؟

جواب :  مُرتد کسی معاملہ میں گواہی نہیں دے  سکتا اور کسی کا وارث نہیں ہو سکتا اور زمانۂ ارتدار میں جو کچھ کمایا ہے  اس میں مُرتد کا کوئی وارث نہیں۔

سوال : مُرتد کے  مال کا کیا حکم ہے  ؟دوبارہ اسلام قبول کرنے  یا نہ کرنے  کی صورت میں کیا حکم ہو گا؟

جواب :  اِرتدادسے  مِلک جاتی رہتی ہے  یعنی جو کچھ اس کے  اَملاک و اَموال تھے  سب اس کی مِلک سے  خارج ہو گئے  مگر جبکہ پھر اسلام لائے  اور کفر سے  توبہ کرے  تو بدستور مالک ہو جائیگا اور اگر کُفر ہی پر مَر گیا یا دارُالحرب کو چلا گیا تو زمانۂ اسلام کے  جو کچھ اموال ہیں ان سے  اوّلاً ان دُیون کو ادا کرینگے  جو زمانۂ اسلام میں اس کے  ذِمّہ تھے  اس سے  جو بچے  وہ مسلمان وُرَثَہ کو ملے  گا اور زمانۂ اِرتداد میں جو کچھ کمایا ہے  اس سے  زمانۂ اِرتداد کے  دُیون اداکرینگے  اس کے  بعد جو بچے  وہ فئے  ہے  ۔

سوال : بیوی کی عدّت میں مُرتد ہو کر  دارُ الحرب چلا گیا یا اسی حالت میں قتل کر دیا گیا تو کیا عورت وارث ہوگی ؟

جواب :  عورت کو طلاق دی تھی وہ ابھی عدّت ہی میں تھی کہ شوہر مُرتد ہوکر دارُالحرب کو چلا گیا یا حالتِ اِرتداد میں قتل کیا گیا تو وہ عورت وارث ہوگی ۔

وہ صورتیں جو کفریہ نہیں ہیں

سوال : زبان پھسلنے  کی وجہ سے  کفریہ بات نکل گئی تو کیا حکم ہے  ؟

جواب :  کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے  کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس اَمر سے  اظہارِ نفرت کرے  کہ سننے  والوں کو بھی معلوم ہو جائے  کہ غلطی سے  یہ لفظ نکلا ہے  



Total Pages: 50

Go To