Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

ایسے  شخص کو ختم کر دینا ہی مقتضائے  حکمت تھا ۔اب چونکہ حکومتِ اسلام ہندوستان میں باقی نہیں کوئی روک تھام کرنے  والا باقی نہ رہا ہر شخص جو چاہتا ہے  بکتا ہے  اور آئے  دن مسلمانوں میں فساد پیدا ہوتا ہے  نئے  نئے  مذہب پیدا ہوتے  رہتے  ہیں ایک خاندان بلکہ بعض جگہ ایک گھر میں کئی مذہب ہیں اور بات بات پر جھگڑے  لڑائی ہیں ان تمام خرابیوں کا باعث یہی نیا مذہب ہے  ایسی صورت میں سب سے  بہتر ترکیب وہ ہے  جو ایسے  وقت کے  لیے  قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے  نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے  ۔وہ یہ ہے  کہ ایسے  لوگوں سے  بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے  پاس اُٹھنا بیٹھنا، ان کے  ساتھ کھانا پینا، ان کے  یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے  تعلقات ان سے  قطع کر دیں گو یا سمجھیں کہ وہ اب رہا ہی نہیں، وَاﷲُ الْمُوَفِّق۔

سوال : عورت یا نابالغ سمجھداربچہ مُرتد ہو جائیں تو انکی سزا کیا ہے ؟

جواب :  عورت یا نابالغ سمجھ وال بچہ مُرتد ہوجائے  تو قتل نہ کرینگے  بلکہ قید کرینگے یہاں تک کہ توبہ کرے  اور مسلمان ہو جائے  ۔

سوال : کیا مُرتد کی اِرتدا د سے توبہ قبول ہے  ؟اگر ہاں تو کیا ہر مُرتد کا یہی حکم ہے ؟

جواب :  مُرتد اگر اِرتداد سے  توبہ کرے  تو اس کی توبہ مقبول ہے  مگر بعض مُرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے  والا کہ اُس کی توبہ مقبول نہیں ۔توبہ قبول کرنے  سے  مراد یہ ہے  کہ توبہ کرنے  کے  بعد بادشاہ ِاسلام اسے  قتل نہ کریگا۔

سوال :  مُرتد اِرتداد سے  مُنکِر ہو تو اسکی سزا کے  بارے  میں کیا حکم ہے ؟

جواب :  مُرتد اگر اپنے  اِرتداد سے  انکار کرے  تو یہ انکار بمنزلہ توبہ ہے  اگرچہ گواہانِ عادل سے  اسکا اِرتداد ثابت ہو یعنی اس صورت میں یہ قرار دیاجائے  گا کہ اِرتداد تو کیا مگر اب توبہ کرلی لہٰذا قتل نہ کیا جائیگا اور اِرتداد کے  باقی احکام جاری ہونگے  مثلاًاس کی عورت نکاح سے  نکل جائے  گی، جو کچھ اعمال کیے  تھے  سب اکارت ہو جائیں گے ، حج کی استطاعت رکھتا ہے  تو اب پھر حج فرض ہے  کہ پہلا حج جو کر چکا تھا بیکار ہوگیا ۔اگر اس قول سے  انکار نہیں کرتا مگر لایعنی تقریروں سے  اس اَمر کو صحیح بتاتا ہے  جیسا زمانۂ حال کے  مُرتدین کا شیوہ ہے  تو یہ نہ انکار ہے  نہ تو بہ مثلاً قادیانی کہ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے  اور خاتمُ النّبیین کے  غلط معنے  بیان کرکے  اپنی نبوّت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے  یا حضرت سیّدنا مسیح عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی شانِ پاک میں سخت سخت حملے  کرتا ہے  پھر حیلے  گڑھتا ہے  ایسی باتوں سے  کفر نہیں ہٹ سکتا کفر اٹھانے  کا جو نہایت آسان طریقہ ہے  کاش! اسے  برتتے  تو ان زحمتوں میں نہ پڑتے  اور عذابِ آخرت سے  بھی اِنْ شَآءَ اﷲرہائی کی صورت نکلتی وہ صرف توبہ ہے  کہ کفر و شِرک سب کو مٹا دیتی ہے ، مگر اس میں وہ اپنی ذِلّت سمجھتے  ہیں حالانکہ یہ خدا کو محبوب، اُس کے  محبوبوں کو پسند، تمام عُقَلا کے  نزدیک اس میں عزّت۔

اِرتدادسے  توبہ کا طریقہ

سوال : اِرتداد سے  توبہ کا کیا طریقہ ہے  ؟

جواب :  کسی دینِ باطل کو اختیار کیا مثلاً یہودی یا نصرانی ہو گیا ایسا شخص مسلمان اس وقت ہو گا کہ اس دینِ باطل سے  بیزاری و نفرت ظاہر کرے  اور دینِ اسلام قبول کرے  ۔اور اگر ضروریاتِ دین میں سے  کسی بات کا انکار کیا ہو تو جب تک اُس کا اقرار نہ کرے  جس سے  انکار کیا ہے  محض کلمۂ شہادت پڑھنے  پر اس کے  اسلام کا حکم نہ دیا جائے  گا کہ کلمۂ شہادت کا اس نے  بظاہر انکار نہ کیا تھا مثلاً نماز یا روزہ کی فرضیّت سے  انکار کرے  یا شراب اور سؤر کی حرمت نہ مانے  تو اس کے  اسلام کے  لیے یہ شرط ہے  کہ جب تک خاص اس اَمر کا اقرار نہ کرے  اس کا اسلام قبول نہیں یا اﷲتعالیٰ اور رسولُ اﷲ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی جناب میں گستاخی کرنے  سے  کافر ہوا تو جب تک اس سے  توبہ نہ کرے  مسلمان نہیں ہو سکتا۔

سوال : تجدید ِایمان کا طریقہ بھی بتا دیجئے ؟

جواب : جس کُفر سے  توبہ مقصود ہے  وہ اُسی وقت مقبول ہو گی جبکہ وہ اُس کُفر کو کُفر تسلیم کرتا ہو اوردل میں اُس کُفر سے  نفرت و بیزاری بھی ہو ۔جو کُفرسرزد ہوا توبہ میں اُس کاتذکِرہبھی ہو ۔مَثَلاً جس نے  ویزا فارم پر اپنے  آپ کوکرسچین لکھ دیا وہ اس طرح کہے  : ’’یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں نے  جو ویزا فارم میں اپنے  آپ کو کرسچین ظاہِر کیا ہے  اس کُفر سے  توبہ کرتا ہوں ۔لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم (اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے  سوا کوئی عبادت کے  لائق نہیں محمدصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ    وَجَلَّ کے  رسول ہیں )‘‘اِس طرح مخصوص کُفر سے  توبہ بھی ہو گئی اور تجدیدِ ایمان بھی ۔اگرمَعَاذاللہکئی کُفرِیّات بکے  ہوں اور یاد نہ ہو کہ کیا کیا بکا ہے  تویوں کہے : ’’یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ!مجھ سے  جو جو کُفرِیّات  صادِر ہوئے  ہیں میں ان سے  توبہ کرتا ہوں۔‘‘ پھر کلِمہ پڑھ لے  ۔(اگر کلمہ شریف کا ترجَمہ معلوم ہے  تو زبان سے  تر جَمہ دُہرانے  کی حاجت نہیں ) اگریہ معلوم ہی نہیں کہ کُفر بکا بھی ہے  یا نہیں تب بھی اگر احتیاطاً توبہ کرنا چاہیں تو اسطرح کہئے : ’’یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اگر مجھ سے  کوئی کُفر ہو گیا ہو تو میں اُس سے  توبہ کرتا ہوں ۔‘‘یہ کہنے  کے  بعد کلِمہ پڑھ لیجئے۔

مُرتد سے  متعلق چند فقہی احکام

 



Total Pages: 50

Go To