Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

وَسَلَّمکی شفاعت سے  دوزخ سے  نکالے  جائیں گے  ۔اہلِ جنّت بھی آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے  فیض پائیں گے  ان کے  درجات بلند کئے  جائیں گے  ۔باقی اور انبیاء ومرسلین عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و صحابۂ کرام و شہداء و علماء واولیا ء رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَاپنے  مُتَوَسِّلین یعنی وسیلہ ڈھونڈنے  والوں کی شفاعت کریں گے  ۔لوگ علماء کو اپنے  تعلقات یاد دلائیں گے ، اگر کسی نے  عالِم کو دنیا میں وضو کے  لئے  پانی لا کر دیا ہوگا تو وہ بھی یاد دلا کر شفاعت کی درخواست کرے  گا اور وہ اس کی شفاعت کریں گے ۔

سوال : محشر کی ہولناکیوں، آفتاب کی نزدیکی سے  بھیجے  کھولنے ، بدبودار پسینوں کی تکالیف اور ان مصیبتوں میں ہزارہا برس کی مدّت تک مبتلا اور پریشان رہنے  کا جو بیان فرمایا یہ سب کیلئے  ہے  یااللّٰہ تعالیٰ کے  کچھ بندے  اس سے  مستثنیٰ بھی ہیں یعنی جو اس میں شامل نہیں؟

جواب : ان اَہوال میں سے  کچھ بھی انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و اولیاء و اتقیاء(پرہیزگار)و صلحاء (نیک) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو نہ پہنچے  گا وہ اللّٰہتعالیٰ کے  کرم سے  ان سب آفتوں اور مصیبتوں سے  محفوظ ہوں گے  ۔قیامت کا پچاس ہزار برس کا دن جس میں نہ ایک لقمہ کھانے  کو میسّر ہوگا، نہ ایک قطرہ پینے  کو، نہ ایک جھونکا ہوا کا ۔اوپر سے  آفتاب کی گرمی بھون رہی ہوگی، نیچے  زمین کی تَپش، اندر سے  بھوک کی آگ لگی ہوگی۔ پیاس سے  گردنیں ٹوٹی جاتی ہوں گی، سالہاسال کی مُدّت کھڑے  کھڑے  بدن کیسا دُکھا ہوا ہوگا، شدّتِ خوف سے  دل پھٹے  جاتے  ہوں گے  ۔انتظار میں آنکھیں اُٹھی ہوں گی، بدن کا پُرزہ پُرزہ لرزتا کانپتا ہوگا ، وہ طویل دن اللّٰہتعالیٰ کے  فضل سے  اس کے  خاص بندوں کیلئے  ایک فرض نماز کے  وقت سے  زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

حساب کا بیان

سوال : میزان سے  کیا مرادہے ؟

جواب :  میزان سے  مراد وہ ترازوہے  جس میں قیامت کے  دن بندوں کے  اعمال تولے  جائیں گے ، نیک بھی بد بھی، قول بھی فعل بھی، کافروں کے  بھی مؤمنوں کے  بھی۔

    سوال : کیا قیامت کے  دن سب کا حساب لیاجائے  گا؟

جواب :  اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے  بعض مسلمان بندے  ایسے  بھی ہوں گے  جو بغیر حساب کے  جنت میں جائیں گے ۔

سوال : فرشتے  جو اعمال نامے  دنیامیں لکھتے  ہیں ان کا کیا بنے  گا؟

جواب : قیامت کے  دن ہر شخص کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے  گا جوفرشتے  لکھتے  ہیں، نیکوں کے  نامۂ اعمال داہنے  ہاتھ میں دئیے  جائیں گے  اور بدوں کے  بائیں میں۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

صراط

سوال : صِراط کسے  کہتے  ہیں؟

جواب : جہنم کے  اوپر ایک پُل ہے  اس کو’’صِراط‘‘کہتے  ہیں۔یہ بال سے  زیادہ باریک تلوار سے  زیادہ تیز ہے ۔

سوال : کیا کوئی پُلِ صِراط سے  گزرے  بغیر بھی جنت میں جا سکتاہے  ؟

جواب :  نہیں ، سب کو اس پر سے  گزرنا ہے ، جنّت کا یہی راستہ ہے ۔

سوال : پُلِ صِراط سے  گزرنے  میں سب کی حالت ایک جیسی ہوگی یا مختلف؟

جواب : اس پُل پر گزرنے  میں لوگوں کی حالت جُداگانہ ہوگی، جس درجہ کا شخص ہوگا اس کیلئے  ایسی ہی آسانی یا دشواری ہوگی بعض تو بجلی چمکنے  کی طرح گزر جائیں گے۔ابھی اِدھر تھے ، ابھی اُدھر پہنچے۔بعضے  ہوا کی طرح، بعضے  تیز گھوڑے  کی طرح ، بعضے  آہستہ آہستہ ، بعضے  گرتے  پڑتے  لرزتے  لنگڑاتے  اور بعضے  جہنم میں گر جائیں گے۔کفّار کے  لئے  بڑی حسرت کا وقت ہوگا جب وہ پُل سے  گزر نہ سکیں گے  اور جہنم میں گر پڑیں گے  اور ایمانداروں کودیکھیں گے  کہ وہ اسی پُل پر بجلی کی طرح گزر گئے  یا تیز ہوا کی طرح اُڑ گئے  یا سریعُ السیر یعنی تیزرفتار گھوڑے  کی طرح دوڑ گئے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

حوضِ کوثر

سوال : حوضِ کوثرکیا چیز ہے  ؟

جواب : یہ ایک حوض ہے  جس کی تہ مُشک یعنی کستوری کی ہے ، یاقوت اور موتیوں پر جاری ہے ، دونوں کنارے  سونے  کے  ہیں اور ان پر موتیوں کے  قُبّے  یعنی گنبد نصب ہیں



Total Pages: 50

Go To