Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : بُراکام کرکے  تقدیر کی طرف نسبت کرنااور مشیّتِ الٰہی کے  حوالے  کرنا بہت بُری بات ہے  بلکہ حکم یہ ہے  کہ جو اچھا کام کرے  اسے  مِنْ جَانِبِ اللّٰہِ (اللّٰہ کی طرف سے ) کہے  اور جو بُرائی سَرزَدْ ہواسے  شامت ِ نفس (اپنا قصور) تصوّر کرے ۔([1])

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

موت اور قبر کا بیان

سوال : کیا کسی شخص کی عُمر بڑھ یا کم ہوسکتی ہے ؟

جواب : ہرشخص کی جوعُمر مقرر ہے  نہ اس سے  کم ہو سکتی ہے  اور نہ بڑھ سکتی ہے ۔

سوال : جب وہ عُمر پوری ہو جاتی ہے  پھر کیا معاملہ ہوتاہے  ؟

جواب :  مَلکُ الموت یعنی حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اس کی جان نکال لیتے  ہیں، موت کے  وقت مرنے  والے  کے  داہنے  ، بائیں جہاں تک نظر جاتی ہے  فرشتےہی فرشتے  دکھائی دیتے  ہیں ۔مسلمان کے  پاس رحمت کے  فرشتے ، کافر کے  پاس عذاب کے ۔مسلمانوں کی روح کو فرشتے  عزّت کے  ساتھ لے  جاتے  ہیں اور کافروں کی روح کو فرشتے  حقارت کے  ساتھ لے  کر جاتے  ہیں۔

    سوال : کیا مرنے  کے  بعد روح فنا ہوجاتی ہے ؟

جواب : روح کے  جسم سے  جدا ہونے  کانام موت ہے ، روح جسم سے  جدا ہوکر فنا نہیں ہو جاتی بلکہ روحوں کے  رہنے  کے  لئے  مقامات مقرر ہیں، نیکوں کیلئے  علیحدہ اور بُروں کے  لئے  علیحدہ جہاں وہ اپنے  مرتبہ کے  مطا بق چلی جاتی ہیں مگر وہ کہیں ہوں، جسم سے  ان کا تعلق باقی رہتا ہے ۔جسم کی ایذا سے  روح کو تکلیف ہوتی ہے  ۔قبر پر آنے  والے  کو دیکھتے  ہیں، اس کی آواز سنتے  ہیں۔

سوال : آواگون کسے  کہتے  ہیں؟

جواب : یہ خیال کہ موت کے  بعد روح کسی دوسرے  بدن میں چلی جاتی ہے  خواہ وہ بدن آدمی کا ہو یا کسی جانور کا، اسے  تَناسُخ یا آواگون کہتے  ہیں، یہ محض باطل ہے  اور اس کا ماننا کفرہے ۔

سوال : آوا گون کو کون لوگ مانتے  ہیں؟

جواب : ہندو۔

سوال : مُنْکَرْ  نَـکِیْر کسے  کہتے  ہیں؟

جواب : جب دفن کرنے  والے  دفن کر کے  واپس ہو جاتے  ہیں تو دو فرشتے  زمین چیرتے  آتے  ہیں ان کی صورتیں ڈراؤنی، آنکھیں نیلی کالی ہوتی ہیں۔ایک کا نام مُنْکَرْ، دوسرے  کا نام نَـکِیْرہے  ۔وہ مُردے  کو اٹھا کر بٹھاتے  ہیں اور اس سے  سوال کرتے  ہیں۔

سوال : قبر میں مُردے  سے  کتنے  اور کون کون سے  سوالات کئے  جاتے  ہیں؟

جواب :  قبر میں مُردے  سے  تین سوالات ہوتے  ہیں :     

(۱)۔۔۔تیرا رب کون ہے ؟

(۲)۔۔۔تیرا دین کیا ہے ؟   

(۳)۔۔۔حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم  کی طرف اشارہ کر کے  پوچھتے  ہیں، تو ان کے  حق میں کیا کہتا  تھا ؟

سوال : مسلمان ان سوالوں کے  کیا جواب دیتا ہے  ؟

جواب : مسلمان جواب دیتا ہے ، میرا رب اللّٰہہے  ۔میرا دین اسلام ہے  ۔یہ اللّٰہ کے  رسول ہیں۔اَشْھَدُ  اَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔فرشتے  کہتے  ہیں ہم جانتے  تھے  کہ تو یہی جواب دے  گا۔([2])

سوال : قبر کے  سوال وجواب میں کامیاب ہونے  والے  مسلمان کے  ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے  ؟

 



[1]     بہار شریعت ،  حصہ۱،  ۱/ ۱۹

[2]     کتاب العقائد،  ص۱۹



Total Pages: 50

Go To