Book Name:Takleef Na Dijiye

        بعض لوگ اپنے ملازمین اور گھریلو خادمین سے جانوروں سے بَدتر سلوک کرتے ہیں ، بات بات پر ان کی بے عزتی کرتے ہیں ، ان سے زیادہ کام لیتے ہیں ، اِنکار پر نوکری سے فارغ کردینے کی دھمکی دیتے ہیں ، ایسے افراد یاد رکھیں کہ ان ملازمین وخادمین کی بھی حق تلفی کرنا اوران کوبلاوجہِ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔ ہمارے اکابرین تو اپنے خُدام سے مثالی حُسنِ سلوک رکھا کرتے تھے چنانچہ

(حکایت : 63)

غلام کو تکلیف نہ دی

        منقول ہے کہ ایک رات امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاں کوئی مہمان آیا، اس وقت آ پ لکھ رہے تھے۔چراغ بجھنے لگا تو مہمان نے عرض کی :  میں اُٹھ کر ٹھیک کردیتا ہوں ۔ارشاد فرمایا : یہ بات مہمان کی خاطرداری کے خلاف ہے کہ اس سے خدمت لی جائے۔اس نے کہا : غلام کو جگادیتا ہوں ، وہ یہ کام کرلے گا۔فرمایا : وہ ابھی ابھی سویا ہے۔یہ فرماکر خود اٹھے اور تیل کی کپّی لے کر چراغ میں تیل بھرا۔مہمان نے کہا : اے امیرالمومنین!آپ یہ کام خود انجام دے رہے ہیں ! فرمایا : میں جب اس کام کے لئے گیا تب بھی عمر تھا اور جب واپس لوٹا تب بھی عمر ہی ہوں ، میرے اس کام سے میرے مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جواللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کے ہاں عاجزی کرنے والا ہو۔ (احیاء علوم الدین، ۳/۴۳۵)  

(حکایت : 64)

خادمہ کی تکلیف کا خیال

        فی زمانہ شرعاً کوئی غلام موجود نہیں لیکن اپنے پاس کام کرنے والے ملازمین اور خادمین کا خیال رکھنا بھی شیوۂ مسلمانی ہے چنانچہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں جب مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خانعَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ المنّان کی خدمت میں بریلی شریف حاضر ہوا تو آپ نے دارُالافتاء کی خدمت میرے سپرد فرمادی۔میں دن میں مسائل کا جواب لکھتا اور عشاء کے بعد آپ کو سنایا کرتااور جہاں مناسب معلوم ہوتا آپ اصلاح فرمایا کرتے تھے، یہ مجلس عموماً دو تین گھنٹے کی ہوتی جبکہ بسا اوقات چار گھنٹے کی بھی ہوجاتی تھی۔انہی اَیّام میں ایک دفعہ جبکہ سخت سردیوں کے دن تھے، کمرے میں حضرت کے لئے انگیٹھی تھی جو کچھ دیر کے بعد ٹھنڈی ہونے لگی اور حقے کی آگ بھی ختم ہونے پر آئی ۔اچانک آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : اگر کوئلہ اور ہوتا تو انگیٹھی ہی گرم ہوجاتی اور تمباکو ابھی پورا جلا نہیں ہے، وہ بھی کام آجاتا۔میں نے عرض کی : اندر خادمہ کوآواز دے کر کوئلہ مانگ لوں ۔فرمایا : دن بھر کی تھکی ہاری بے چاری سوگئی ہوگی، جانے دیجئے۔ (جہانِ مفتیٔ اعظم، ص۳۲۸)

(حکایت : 65)

خادم سے کپڑے پر سیاہی گرگئی

        منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن بُلبُل شَیْبانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی کے خادِم نے قلم سیاہی میں ڈبوکرآپ کو پیش کیاتوبے خیالی میں سیاہی کے چند قطرے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قیمتی جبّے پرگرگئے ، خادم خوف سے کانپنے لگا (کہ نہ جانے اب کیاسزاملے گی ) لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے درگزکرتے ہوئے فرمایا :   گھبراؤ نہیں ! پھر اشعار پڑھے :  

إِذَا مَا الْمِسْکُ طَیَّبَ رِیْحَ قَوْمٍ                 کَفَانِیْ ذَاکَ رَائِحَۃُ الْمِدَادِ

فَمَا شَیْء ٌ بِأَحْسَنَ مِنْ ثِیَابٍ                       عَلَی حَافَاتِہَا حُمَمُ السَّوَادِ

ترجمہ : جب کستوری قوم کی خوشبو کو عمدہ کرے مجھے یہی سیاہی کی خوشبو کافی ہوگی، ان کپڑوں سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں جن کے کناروں پر کوئلے کی سیاہی ہو۔ (سیر اعلام النبلاء ، اسماعیل بن بلبل ، ۱۰/ ۵۶۶ )

(حکایت : 66)

یہ میری ذمہ داری نہیں ہے

        وَقْت بے وَقْت کسی کو ٹوکتے رہنے ، ڈانٹ پلادینے یا جھاڑنے کی عادت سے ممکن ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہماری مدد سے انکار کردے جب ہم شدید پریشانی میں مدد کے طلب گار ہوں ۔ اس بات کو ایک فرضی حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے :  چنانچِہ ایک نک چڑھا رئیس اپنے نوکروں کو وَقْت بے وَقْت ڈانٹتا جھاڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نوکروں کے دل میں اس کی عداوت بیٹھ چکی تھی۔اس رئیس نے ہر نوکر کو اس کی ذمہ داریوں کی تحریری لسٹ(List) بنا کر دی ہوئی تھی اگر کوئی نوکر کبھی کوئی کام چھوڑ دیتا تو رئیس اُسے وہ لسٹ دِکھا دِکھا کر ذلیل کرتا ۔ایک مرتبہ وہ گھڑ سواری کا شوق پورا کرکے گھوڑے سے اُتر رہا تھا کہ اُس کا پاؤں رِکاب میں اُلجھ گیااسی دوران گھوڑا بھاگ کھڑا ہوا ، اب رئیس اُلٹا لٹکاگھوڑے کے ساتھ ساتھ گھسٹ رہا تھا ۔ اس نے پاس کھڑے نوکر کو مدد کے لئے پکارا مگر اسے تو بدلہ چُکانے کا موقع مل گیا تھا ، چنانچہ اس نے اپنے مالک کی مدد کرنے کے بجائے جیب سے اس کی دی ہوئی لسٹ (List)نکالی اور دُور ہی سے دکھا کر کہنے لگا کہ اِس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر تمہارا پاؤں گھوڑے کی رِکاب میں اُلجھ جائے تو اسے چُھڑانا میری ڈیوٹی ہے ۔ یہ سن کر رئیس نوکروں سے کئے ہوئے بُرے سلوک پر پچھتانے لگا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(69)حج کے دوران تکلیف نہ دیجئے

        حج کی سعادت ملنا بڑی خوش نصیبی ہے لیکن اس اہم عبادت کو انجام دیتے وقت بھی دیگر مسلمانوں کو تکلیف دینے سے بچنا بہت ضروری ہے چنانچہ سفر میں ، مَطار (ائیرپورٹ، Airport) ، دورانِ طواف ، حجرِ اسود کو بوسہ دیتے وقت ، منی میں ، میدانِ عَرَفات، مُزْدَلفہ میں ، اور خاص طور پر رَمی کرتے وقت بہت احتیاط کیجئے کہ کسی کو ہم سے تکلیف نہ پہنچ جائے ۔کئی بار ایسا ہوا کہ َرمی کے دوران بھگدڑ مچی اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں حجاج جان سے چلے گئے ۔

حجرِ اسود کو بوسہ کس طرح دیں ؟

 



Total Pages: 52

Go To