Book Name:Takleef Na Dijiye

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ توبہ کرچکا ہے یا وہ پرانا گناہ جسے لوگ بھول چکے یا خُفیہ گناہ جس پر لوگ مُطَّلع نہ ہوں اور عار دلانا توبہ کرانے کے لیے نہ ہومحض غصہ اور جوش غضب سے ہو یہ قیود خیال میں رہیں ۔’’ وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا‘‘کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں : یعنی اپنی موت سے پہلے یہ گناہ خود کرے گا اور اس میں بدنام ہوگا، مظلوم کا بدلہ ظالم سے خود رب تعالیٰ لیتا ہے۔مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :  یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس سے گنہگار توبہ کرچکا ہے ایسے گناہ کا ذکر بھی نہیں چاہیے ، جس گناہ میں بندہ گرفتار ہے اس سے عار دلانا تاکہ توبہ کرے یہ تو تبلیغ ہے اس پر ثواب ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/۴۷۳)

نہ تھی اپنے عیبوں کی جب خبر         رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی خامیوں پر جب نظر          تو جہاں میں کوئی بُرا نہ رہا   

(حکایت : 40)

 (23)طنزیہ اندازِ گفتگواختیار کرنا

           حضرت سیدناعروہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ایک انصاری شخص کے درمیان حَرَّہ کی نال کے متعلق جھگڑا ہوا۔(یہ معاملہ بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا تو)حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : اے زبیر! تم پانی دے کرپھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۔اس پرانصاری نے کہا :  وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے ۔اس پر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرے کا رنگ بدل گیاپھر فرمایا :  اے زبیر! پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۔

        (یہ حدیث نقل کرنے کے بعد حضرت سیدنا امام شہاب الدین زہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  [1]؎ )  یعنی اب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنا پورا حق لینے کا صریح حکم دیا جب کہ انصاری نے آپ کو ناراض کردیا حالانکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان دونوں کو وہ مشورہ دیا تھا جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی ۔

(بخاری، کتاب التفسیر، باب فلاوربک۔۔۔الخ، ۳/۲۰۵، حدیث :  ۴۵۸۵)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے اِس حدیثِ پاک کے مختلف حصوں کی جو شرح فرمائی وہ درج ذیل ہے : ان دونوں صاحبوں کے کھیت برابر تھے جو اس نالے سے سینچے جاتے تھے، جھگڑا ہوا آگے پانی دینے کا، انصاری کہتے تھے پہلے میں پانی دوں ، زبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں پہلے میں دوں ، کیونکہ آپ کا کھیت اوپر تھا جدھر سے پانی آتا تھا اور انصاری کا کھیت نیچے بہاؤ کی طرف اور اوپر والا پہلے پانی دیتا ہے۔(’’اس پرانصاری نے کہا :  وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے‘‘ کی وضاحت میں مفتی صاحب لکھتے ہیں : )یعنی آپ نے اس فیصلہ میں ان کی قرابت داری کا لحاظ فرمایا ہے۔ شارحین نے فرمایا کہ یہ شخص قوم انصار سے تو تھا مگر مؤمن نہ تھا یا یہودی تھا یا منافق ، مگر ترجیح اِسے ہے کہ تھا تو مسلمان مگر نَومسلم (یعنی نیامسلمان ہوا)تھا، آداب بارگاہ سے بے خبر تھا اسی لئے حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا دوسرے صحابہ نے اسے کوئی سزا نہ دی۔(مرقات) اشعہ نے فرمایا :  یہ منافق ہی تھا جیسے عبداﷲابن اُبی کہ قبیلہ انصار سے تھا مگر منافق تھا ، قتل اس لیے نہ کرایا کہ منافقوں کو قتل نہ کرایا جاتا تھا۔ واﷲاعلم!

         حضورانور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کواس کے اس کلام سے بہت ہی تکلیف ہوئی حتی کہ چہرہ انورسرخ ہوگیا، منافقوں ، ناواقفوں سے بسااوقات حضور انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ایسی باتیں سن لیتے تھے تکلیف ہوتی تھی مگر صبر فرماتے تھے۔(’’اے زبیر !پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو‘‘ کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں :  )پہلے تو فرمایا تھا کہ اے زبیر اپنی زمین تَر کرکے پانی انصاری کو دے دو اب پورا حق زبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کو عطا فرمایا کہ پہلے تم اپنے کھیت کو پانی دو، پھر اتنی دیر تک پانی روکے رکھو کہ کھیت آس پاس کی مینڈھ (بنّا)تک پہنچ جائے اور کھیت لبریز ہوجائے تب انصاری کو دو۔یعنی پہلے انصاری کی رعایت کی گئی تھی اور حضرت زبیر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کو حسنِ اخلاق کی تعلیم دی گئی تھی مگر جب انصاری نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اُلٹا ناراض ہوگیا تو ہر ایک کو پورا حق دیا گیا، پہلے فَضْل تھا اب عَدْل۔( مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۴۰)

زبا ن سے تکلیف دینے والی کا انجام

        حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! فلاں عورت کی نمازروزے اور صدقات کی فَراوانی کا چرچا ہے لیکن وہ اپنے پڑوسیوں کو زبان سے ستاتی ہے۔ ارشاد فرمایا :  وہ آگ میں ہے۔ عرض کی :  یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !فلاں عورت کی نماز روزے اور صدقات کی کمی کا ذکر ہوتا ہے البتہ وہ پَنِیر کے کچھ ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے اور اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی ۔سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : وہ جنتی ہے ۔

(مسند احمد، مسند ابی ہریرۃ، ۳/۴۴۱، حدیث : ۹۶۸۱)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : زبان کا ذکر اس لئے کیا اکثر لوگ دوسروں کو زبانی  تکلیف دیتے ہیں لڑنا بھڑنا، غیبت ، چغلی کرنا وغیرہ ۔ زبان کا زخم سِنَان یعنی بھالے کے زخم سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ یہ مرہم سے بھرجاتا ہے مگر وہ نہیں بھرتا ۔ حضرت علی(کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم) فرماتے ہیں :

جَرَاحَاتُ السِّنَانِ لَہَا الْتِیَام           وَلَا یَلْتَامُ مَا جَرَحَ اللِّسَان

کسی اردو شاعر نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :

چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا         لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا

          ’’وہ آگ میں ہے‘‘کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں : یعنی یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جائے گی، نوافل سے



     وَہَذَا الْکَلَامُ لِلزّہْرِیّ ذَکَرَہُ اِدْرَاجًا  (عمدۃ القاری ، کتاب التفسیر ، باب فلا وربک۔۔۔الخ ، ۱۲/ ۵۳۸ ، تحت الحدیث : ۴۵۸۵ )[1]



Total Pages: 52

Go To