Book Name:Takleef Na Dijiye

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(16)ذخیرہ اندوزی نہ کیجئے

        فرمانِ مصطفی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : مَنِ احْتَکَرَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ طَعَامًا ضَرَبَہُ اللّٰہُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ  یعنی جو مسلمانوں پر ان کی روزی(غلہ)روکے اﷲاسے کوڑھ اور مُفْلِسی میں مارے ۔(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب، ۳/۱۴، حدیث : ۲۱۵۵)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : ان کی روزی فرمانے میں اشارۃً فرمایا کہ اِحتکار مطلقًا ممنوع ہے مگر مسلمانوں پر اِحتکار زیادہ بُرا کہ مسلمان کو تکلیف دینا دوسروں کو تکلیف دینے سے بَدتر ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/۲۹۰)

اِحتکار کیا ہے؟

   اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن    سے سوال ہوا کہ غلہ کوروک کر بیچنا جائزہے یانہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے جواب دیا : غلہ کو اس نظر سے روکنا کہ گرانی(یعنی مہنگائی) کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کانہ بیچنا لوگوں کو مُضِر(نقصان دہ) ہو مکروہ وممنوع ہے، اوراگر غلہ دور سے خرید کر لائے اور بانتظارِ گرانی نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خَلْق کو مُضِر(یعنی لوگوں کو نقصان دہ )نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔(فتاوی رضویہ ، ۱۷ / ۱۸۹)

        ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِلکھتے ہیں : حرام یہ ہے کہ بستی میں آنے والا غلہ خود خریدلے اور بندرکھے کہ جتنا مہنگا چاہے بیچے جس سے بستی پر تنگی ہوجائے اور مکروہ یہ ہے کہ اس کے خریدنے سے بستی پر تنگی تونہ ہو مگر اسے آرزو ہو کہ قحط پڑے کہ مجھے نفع بہت ملے، اور جب ان دونوں باتوں سے پاک ہے جیسا صورت سوال میں ہے تو اصلاً کراہت بھی نہیں ۔

(فتاوی رضویہ، ۱۷/۱۹۲)

اِحتکار صرف غلے میں ہوتا ہے

        صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں : احتکار یعنی غلہ روکنا منع ہے اور سخت گناہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ گرانی کے زمانہ میں غلہ خریدلے اور اُسے بیع نہ کرے بلکہ روک رکھے کہ لوگ جب خوب پریشان ہوں گے تو خوب گراں (مہنگا) کرکے بیع کروں گااوراگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتاہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب گراں ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ اِحتکار ہے نہ اس کی ممانعت۔غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں اِحتکار نہیں ۔(بہار شریعت، ۲/۷۲۵)

مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونے والا

        حضرت سیدنامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نے سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا : غلہ روکنے والا بندہ بہت برا ہے کہ اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بھاؤ سستے کرے تو رنجیدہ ہو اور اگر مہنگے کرے تو خوش ۔(شعب الایمان، باب فی ان یحب المسلم۔۔۔الخِ، فصل فی ترک الاحتکار، ۷/۵۲۵، حدیث :  ۱۱۲۱۵)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونا اور ان کی خوشی پر ناراض ہونا لعنتی آدمیوں کا کام ہے ، خوشی و غم میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔غلہ کے ناجائز بیوپاریوں کا عام حال یہ ہی ہے کہ اَرزانی سن کر ان کا دل بیٹھ جاتاہے، گِرانی(مہنگائی) کے لیے ناجائز عمل کرتے ہیں ، اُلٹے وظیفے پڑھتے ہیں ، لوگوں سے قحط کی دعائیں کراتے ہیں ، نَعُوْذُ بِاﷲ!وقت پر بارش ہو تو ان کے گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/۲۹۰)

(حکایت : 32)

غلہ مہنگا ہونے کا انتظار کرنے والے کی تفہیم

          ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ واسِط کے مقام پر تھے۔ انہوں نے گندم سے بھری ایک کشتی بصرہ شہرکی طرف بھیجی اور اپنے وکیل کو لکھا : جس دن یہ کھانابصرہ پہنچے اسی دن اسے بیچ دینا اوراگلے دن تک مُوَخَّر نہ کرنا۔ اتفاقاً وہاں پر بھاؤ (Rate)کم تھا تو تاجروں نے ان کے وکیل کو مشورہ دیاکہ اگر آپ اسے جمعہ کے دن تک مُوَخَّر کریں تو اس میں دُ گنا نفع ہو گا ۔چنانچہ اس نے جمعہ تک گندم فروخت نہیں کی پھر جب بیچی تو اس میں کئی گنا فائدہ ہوا۔وکیل نے یہ واقعہ مالک کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نے وکیل کو خط لکھا کہ اے فلاں !ہم اپنے دین کی سلامتی کے ساتھ تھوڑے نفع پر ہی قناعت کر لیا کرتے ہیں مگرتم نے اس کے خلاف کیا، ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ ہمیں اس سے کئی گنا نفع ہو لیکن اس کے بدلے ہمارے دین میں سے کوئی شے چلی جائے۔تم نے ہم پر ایک جرم لاگو کر دیا ہے، لہٰذا جب تمہارے پاس میرایہ خط پہنچے تو تمام مال لے کربصرہ کے فقرا پر صدقہ کر دینا شاید کہ میں ذخیرہ اندوزی کے گناہ سے برابر برابر نجات پا سکوں کہ نہ تو میرا نقصان ہو اور نہ ہی فائدہ۔(احیاء علوم الدین، کتاب آداب الکسب، الباب الثالث، ۲/۹۳)

(حکایت : 33)

جتنے کا خریدا ہے اسی میں بیچ دو

        امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے کبھی کسی بیچنے والے کی غفلت اور لا علمی سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ آپ ان کی بھلائی کے لیے ان کی بہترین راہنمائی فرماتے تھے۔ آپ اپنے احباب سے یا کسی غریب خریدار سے نفع بھی نہیں لیا کرتے تھے بلکہ اپنے نفع میں سے بھی اس کو دے دیا کرتے۔ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے کہا : ( میری زیادہ استطاعت نہیں ‘ اس لیے) یہ کپڑا جتنے میں آپ کو پڑا ہے اس دام پر میرے ہاتھ فروخت کردیں ۔ آپ نے فرمایا : تم چار درہم میں لے لو۔ وہ بولی : میں ایک بوڑھی عورت ہوں ، میرا مذاق کیوں اڑاتے ہو( کیونکہ یہ قیمت بہت کم ہے)؟ آپ نے فرمایا : میں نے دو کپڑے خریدے تھے اور ان میں سے ایک کپڑے کو دونوں  کی قیمت خرید سے چاردرہم کم پر فروخت کرچکا ہوں ‘ اب یہ دوسرا کپڑا ہے جو مجھے چار درہم میں پڑا ہے، تم 4 درہم میں اسے لے لو۔ (تاریخ بغداد، ۱۳/۳۵۹  )

 



Total Pages: 52

Go To