Book Name:Takleef Na Dijiye

۵/۴۹۸)

(حکایت : 26)

بند نالیاں کھولنے کے لئے پتھر اکھڑوادیئے

        امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہمکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًتشریف لائے تو اہلِ مکہ نے آپ سے فریاد کی کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہمارے گھروں کی نالیوں کو بند کردیا ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان لوگوں کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اور فرمایا :  اس پتھرکو اُکھاڑو! انہوں نے اکھاڑ دیا ۔ پھر فرمایا :  اسے بھی اُکھاڑو ! انہوں نے اکھاڑ دیا ۔ آپ فرماتے رہے وہ اکھاڑتے رہے یہاں تک کہ کئی پتھر اُکھاڑ ڈالے ۔  

(کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابۃ، جزء۱۲، ۶/ ۲۹۶ ، رقم :  ۳۶۰۱۲ ملخصاً)

مسلماں رات بھر سوئیں عمر فاروق پہرا دیں

                         رعایہ کے نگہباں حضرت فاروقِ اعظم ہیں    (دیوانِ سالک، ص۲۸)   

(حکایت : 27)

حقوقِ عامہ کااِحساس

        حقوقِ عامہ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ، ہمارے اَسلاف اس بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالیعلیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی فرماتے ہیں :  ایک شخص حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے پاس(حصولِ علم کے لئے)کئی سال تک آتا جاتا رہا ، اس کے بعد آپ نے اس سے اِعراض (یعنی پہلو تہی، بے توجّہی)فرماکر کلام کرنا ترک کردیا ۔وہ آپ سے مسلسل اس تبدیلی کا سبب پوچھتا لیکن آپ جواب نہ دیتے، آخر کار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ارشاد فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے سڑک کی جانب سے اپنی دیوار کو لیپا ہے اور سڑک کے کنارے سے قدِ آدم کے برابر مٹی لی ہے حالانکہ وہ مسلمانوں کی عام گزرگاہ ہے اس لئے تم عِلْم منتقل کئے جانے کے قابل نہیں ہو۔(احیاء علوم الدین، ۵/۹۶)

مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ

        حضرتِ سیدنا ابوبَرْزَہ رضی اللّٰہ تعالی عنہفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ!مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے کہ میں اس سے نفع پاؤں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے فرمایا : اِعْزِلِ الْاَذٰی عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنیعنی مسلمانو ں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کوہٹاؤ۔(مشکاۃالمصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، ۱/۳۶۲، حدیث : ۱۹۰۶)

         شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولاناعبدالمصطفٰی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ  القوی  اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں : ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا، شیشہ، ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کواِیذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللّٰہ تعالٰی کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمادیتا ہے۔آج کل کے مسلمان اس عملِ صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں ۔مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکا ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں ۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے لئے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں ، اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں ۔ اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیز اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے اِن شاء اللّٰہ تعالٰی  اگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔ واللّٰہ تعالٰی اَعْلَم (بہشت کی کنجیاں ، ص۲۰۹)

عام راستے کی طرف بیت الخلا یا پرنالہ بنانا

        بہار شریعت میں ہے : عام راستے کی طرف بیت الخلاء یا پرنالہ یا برج یا شہتیریا دکان وغیرہ نکالنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے عوام کو کوئی ضَرر نہ ہو اور گزرنے والوں میں سے کوئی مانِع نہ ہو اور اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی معترِض ہو تو ناجائز ہے۔ (بہار شریعت ، ۳/۸۷۱ بحوالہ ردالمحتار، کتاب الدّیات، باب مایحدثہ الرجل ...إلخ، ۱۰/۲۶۵)

راستے پر خریدوفروخت کرنے کے تین مسائل

       صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں : جو شخص راستہ پر خریدوفروخت کرتا ہے اگر راستہ کُشادہ ہے کہ اس کے بیٹھنے سے راہ گیر وں پر تنگی نہیں ہوتی تو حرج نہیں اور اگر گزرنے والوں کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوجائے تو اُس سے سودا خریدنا نہ چاہیے کہ گناہ پر مدد دینا ہے کیونکہ جب کوئی خریدے گا نہیں تو وہ بیٹھے گا کیوں !(الفتاوی الھندیۃ، کتاب البیوع، الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ...إلخ، ۳/۲۱۰) (بہار شریعت، ۲/۷۲۶) مسئلہ : عام راستہ پر خرید و فروخت کے لیے بیٹھنا جائز ہے جبکہ کسی کے لیے تکلیف دہ نہ ہو اور اگر کسی کو تکلیف دے تو وہ ناجائز ہے۔(ردالمحتار، کتاب الدّیات، باب مایحدثہ الرجل...إلخ، ۱۰/۲۶۷)(بہار شریعت ، ۳/۸۷۱) مسئلہ :  شارع عام کے کنارے بیٹھ کر خرید و فروخت اگر کسی چیز کو ضَرر نہ دے اور حکومت کی اجازت سے ہو تو جائز ہے اور اگر مُضِر ہو تو ناجائز ہے۔(ردالمحتار، کتاب الدّیات، باب مایحدثہ الرجل...إلخ، ۱۰/۲۶۷)(بہار شریعت، ۳/۸۷۷)

 راستہ پر کسی کو تکلیف نہ دو !

        سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانسے ارشاد فرمایا :  راستوں پر بیٹھنے سے بچو ! لوگوں نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! ہم کو وہاں بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں ، ہم وہاں بات چیت کرتے ہیں ۔ فرمایا :  اگر بغیر بیٹھے نہ مانو تو راستہ کو اس کا حق دو ! انہوں نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !راستہ کا کیا حق ہے ؟ فرمایا :  نگاہ نیچے رکھنا ، تکلیف دہ چیز ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھائیوں کا حکم دینااوربرائیوں سے روکنا ۔ (بخاری ، کتاب الاستئذان ، باب بدء السلام ، ۴/ ۱۶۵ ، حدیث :  ۶۲۲۹)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر