Book Name:Takleef Na Dijiye

         یکم اپریل 2012 ء کی بات ہے ہند کے ایک شہر ناگپور(تاجپور) میں ایک شخص کرائے کے مکان میں رہتا تھا ، وہ اور اس کے اہل خانہ گھر سے باہر نکلے ہوئے تھے کہ ان کے ایک پڑوسی نے موبائل پر خبر دی کہ تمہارے گھر میں آگ لگ گئی ہے لیکن انہوں نے اسے اپریل فول سمجھا اور کہا : لگنے دو۔ دھیرے دھیرے آگ پورے مکان میں پھیل گئی ۔آس پاس کے لوگوں نے فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پالیا لیکن اس وقت تک اپریل فول اپنا اثر دکھا چکا تھا۔(’’دی سنڈے انڈین ‘‘ویب سایٔٹ)

اپریل فول کیسے شروع ہوا؟

        اپریل فول کیا ہے؟ اس کے بارے میں بہت کم لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں البتہ دیگر خُرافات کی طرح اس کو بھی بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے، اپریل فول کے آغاز کے بارے میں ایک تحقیق یہ ہے کہ جب عیسائی اَفواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان حکمران کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کیساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ، قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئیں ۔ جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور اپنی شناخت پوشیدہ کرلی ، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ جس ملک میں جانا چاہیں جاسکیں ۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اس لئے مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، اَلْحَمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیے گئے ، جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی۔ دوسری طرف حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ، جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دئیے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز گہرے سمندر میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ڈوب گئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف (Fool)بنایا ۔

فرسٹ ائیر فول

        کالج میں پہلے دن داخل ہونے والے طلبہ کو بھی مختلف انداز سے فرسٹ ائیر فول(First year fool) بنایا جاتا ہے ، کبھی ان سے اُوٹ پٹانگ سوالات پوچھے جاتے ہیں ، کبھی غلط کلاس روم میں گھسا دیا جاتا ہے ، کبھی ان کی پُشت پر فرسٹ ائیرفول کا کارڈ یا اسٹیکر چِپکا دیا جاتا ہے کبھی ان کے کپڑوں کو پین کی سیاہی سے رنگ دیا جاتا ہے۔ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  ایسا کرنے والوں کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم    

   

(10)نام بگاڑنا

          اصل نام پکارنے کے بجائے نامناسب ناموں مثلاً لمبو! کالُو!موٹُو!وغیرہ کہہ کر بلانا بھی سامنے والے کو تکلیف دے سکتا ہے ، میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ 204پر لکھتے ہیں : کسی مسلمان بلکہ کافر ذِمّی کو بھی بلاحاجتِ شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو، اُسے ایذاء پہنچے، شرعا ناجائز وحرام ہے۔ اگر چہ بات فِیْ نَفْسِہٖ سچی ہو، فَاِنَّ کُلَّ حَقٍّ صِدْقٌ وَلَیْسَ کُلُّ صِدْقٍ حَقًّا (ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں )(فتاویٰ رضویہ ۲۳/۲۰۴)لہٰذاجس کا جونام ہو اس کو اُسی نام سے پکارنا چاہئے ، اپنی طرف سے کسی کا اُلٹا سیدھا نام مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ نہ رکھا جائے ، عُمُوماً اس طرح کے ناموں سے دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس سے چِڑتا بھی ہے لیکن پکارنے والا جان بوجھ کر بار بار مزہ لینے کے لئے اسے اسی نام سے پکارتا ہے ، ایسا کرنے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کیونکہ رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ       (پ۲۶، الحجرات : ۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔

صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : (یعنی وہ نام)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں ۔   

حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس برائی سے عار دلانا بھی اس نَہی (یعنی ممانعت کے حکم)میں داخل اور ممنوع ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سُور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے اَلقاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عَتِیق(جہنم سے آزاد) اور حضرت عمرکا فاروق(حق اور باطل میں فرق کرنے والا ) اور حضرت عثمانِ غنی کا ذُوالنُّورَین (دو نوروں والا)اور حضرت علی کا ابوتُراب(مٹی والا) اور حضرت خالِد کا سَیفُ اللّٰہ(اللّٰہکی تلوار) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م اور جو اَلقاب بمنزلہِ عَلم(یعنی نام کے مرتبہ میں ) ہوگئے اور صاحبِ اَلقاب کو ناگوار نہیں وہ اَلقاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعْمَش(کمزور نگاہ والا)، اَعْرَج (لنگڑا) ۔(’’کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا‘‘کے تحت صدرالافاضل لکھتے ہیں : )تو اے مسلمانو !کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسِق نہ کہلاؤ ۔(خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرات، زیرِ آیت : ۱۱)

فرشتے لعنت کرتے ہیں

        حضرتِ سیِّدُناعُمَیْر بِن سَعْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ و سَلَّم نے فرمایا :  جس نے کسی شخص کوا س کے



Total Pages: 52

Go To