Book Name:Takleef Na Dijiye

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  آپس کا مذاق جس سے ہر ایک کا دل خوش ہو یہ چند شرطوں سے جائز ہے جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے مگر کسی کا مذاق اُڑانا جس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے بہرحال حرام ہے وہ ہی یہاں مرادہے کیونکہ مسلمان کو اِیذاء دینا حرام ہے۔’’ نہ ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو‘‘کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں : یہاں وعدے سے وہ وعدہ مراد ہے جو جائز ہو، بعض فقہاء کے نزدیک ایساوعدہ پوراکرنا واجب ہے، اکثر کے ہاں مستحب ہے اگر وعدہ کے وقت اِنْ شَآءَاللہ کہہ دیاجائے تو سب کے نزدیک اس کا پوراکرنا مستحب ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/۵۰۱)   

مزاح اورسُخرِیہ میں فرق

         مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں :  ایسی بات جس سے اپنا اور سننے والے کا دل خوش ہوجائے مِزاح ہے اور جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے جیسے کسی کا مذاق اڑانا سُخْرِیَّہ ہے ۔ مِزاح اچھی چیز ہے ، سُخْرِیَّہ بری بات ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۴۹۳)

لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کا انجام

        سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا :  بلا شُبہ لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کے لئے جنت کا دروازہ کھول کر اسے بلایا جائے گا : آؤ !قریب آؤ، جب وہ آئے گا دروازہ بند کر دیا جائے گا ، اسی طرح کئی بار کیا جائے گا یہاں تک کہ جب اس کے لئے پھر دروازہ کھول کر اسے بلایاجائے گا : آؤ ! آؤ! قریب آؤ! تو وہ نااُمیدی اور مایوسی کے مارے نہیں آئیگا۔ (شعب الایمان، ۵/۳۱۰، حدیث :  ۶۷۵۷)

(حکایت : 22)

مذاق میں بھی ڈرانے سے روکا

        حضرتِ سیِّدُناابنِ ابی لیلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان  کابیان ہے کہ وہ حضرات رسولُ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم  کے ساتھ سفر میں تھے ، اس دوران ان میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سو گئے تو ایک دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے پاس رکھی اپنی ایک رسی لینے گئے ، جس سے وہ گھبرا گئے (یعنی اس سونے والے کے پاس رسی تھی یا اس جانے والے کے پاس تھی اس نے یہ رسی سانپ کی طرح اس پر ڈالی وہ سونے والے اسے سانپ سمجھ کر ڈر گئے اور لوگ ہنس پڑے۔[1]؎  )تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے ۔ (ابوداوٗد، کتاب الادب، باب من یاخذ الشیء من مزاح، ۴/۳۹۱، حدیث :  ۵۰۰۴)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : جب رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم  نے یہ سنا تو یہ فرمایا، اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہنسی مذاق میں کسی کو ڈرانا جائز نہیں کہ کبھی اس سے ڈرنے والا مرجاتا ہے یا بیمار پڑ جاتا ہے، خوش طبعی وہ چاہیے جس سے سب کا دل خوش ہوجائے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی ہنسی کسی سے کرنی جس سے اس کو تکلیف پہنچے مثلًا کسی کو بے وقوف بنانا، اس کے چَپت لگانا وغیرہ حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/۲۷۰)

بھائیوں کا دل دُکھانا چھوڑ دو

اور تمسخر بھی اُڑانا چھوڑدو

اپریل فُول

        اپریل فُول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بے وقوف بنانے کانام ہے۔ اسکا خاص دن یکم اپریل (First April ) ہے۔مغربی ممالک میں یکم اپریل کو مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے، یہ فضول اور فُول(Fool) رَسْم مسلم معاشرے میں بھی جڑیں پکڑ چکی ہے اور مسلمان اپنے ہی اسلامی بھائیوں کو فُول (یعنی بے وقوف)بنا کر خوش ہوتے ہیں ۔ اپریل فول میں آدمی کوپریشان کُن جھوٹی خبر دے دی جاتی ہے پھر جب اس پر حقیقت کھلتی ہے تو اسے ’’اپریل فول، اپریل فول‘‘کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، مثلاً ٹیلی فون پریہ بتایا جاتا ہے کہ٭   آپ کا جوان بیٹا فلاں جگہ ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے شدید زخمی ہے اور اسے فلاں ہسپتال میں پہنچادیا گیا ہے یا٭ آپ کا فلاں رشتہ دارانتقال کرگیا ہے ٭  آپ کی دکان میں آگ لگ گئی ہے ٭   آپ کی دکان میں چوری ہوگئی ہی٭  آپ کے پلاٹ پر قبضہ ہوگیا ہی٭  آپ کی گاڑی چوری ہوگئی ہے ٭  آپ کے بیٹے کو تاوان کے لئے اغوا کرلیا گیا ہے ٭  آپ کا دیا ہوا چیک باؤنس ہوگیا ہے اور پولیس آپ کو گرفتار کرنے کے لئے ڈھونڈ رہی ہے ۔

         ہر سال اپریل فُول کے بارے میں خبریں منظرِ عام پر آتی ہیں ، افسوس کہ جھوٹ بول کر ، اپنے مسلمان بھائیوں کو پریشان کرکے ان کی ہنسی اُڑانے کو تفریح کا نام دیاجاتا ہے ، اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   عقلِ سلیم عطافرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم     

   

(حکایت : 23)

غلط خبر نے جان لے لی

        رِینالہ خُورْد(پنجاب ، پاکستان) کے 70سالہ رہائشی شخص کو خبر ملی کہ اس کے بھائی کا اوکاڑہ میں ایکسیڈنٹ کے نتیجہ میں انتقال ہوگیاہے ، وہ اوکاڑہ اسپتال آرہا تھا کہ تحصیل روڈ پر گر پڑا اوردل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ، بعد میں پتہ چلا کہ کسی منچلے نے اپریل فول کا مذاق کیا تھا ۔ (اردوپوائنٹ ، یکم اپریل 2008)

(حکایت : 24)

اپریل فُول کا دھوکا

 



    مراٰۃ،۵/۲۷۰[1]



Total Pages: 52

Go To