Book Name:Takleef Na Dijiye

اختیار نہیں ، نہ خالد کے خطوط روکنے کا، نہ دیکھنے کا، اور وہ ضرورگنہگارہوگا، حدیث میں ارشاد ہواکہ جو بلا اجازت دوسرے کا خط دیکھے وہ جہنم کی آگ دیکھتاہے۔

(ابوداوٗد، کتاب الوتر، باب الدعاء، ۲/۱۱۱، حدیث : ۱۴۸۵) (فتاویٰ رضویہ ، ۲۴/۷۱۳)

آنکھوں میں سرِحَشْر نہ بھر جا ئے کہیں آگ

               آنکھوں پہ مرے بھائی لگا قفلِ مدینہ  (وسائلِ بخشش، ص۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)پڑوسی کو تکلیف نہ دیجئے

        کوئی تکلیف دے تو اس کے شرسے بچنے کے لئے اس کے قریب سے اُٹھا جاسکتا ہے ، آئندہ اس سے ملنے سے بچا جاسکتاہے ، اس سے تعلقات ختم کئے جاسکتے ہیں لیکن اگر پڑوسی ہی تکلیف دینے پر تُل جائے تو انسان کہاں پناہ ڈھونڈے؟ کیونکہ اس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا یا مکان بدلنا پڑے گاجو کہ بہت دشوار ہے ۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ مسلمانوں اور خاص طور پر پڑوسی کو تکلیف دینے سے بچیں ،  تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : جو اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہر گز تکلیف نہ دے۔

(مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجاروالضیف۔۔۔الخ، ص۴۳، حدیث :  ۴۷)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  یعنی اس کو تکلیف دینے کے لیے کوئی کام نہ کرے ، (مزید فرماتے ہیں : )کہا جاتا ہے :  ہمسایا اور ماں جایا برابر ہونے چاہئیں ۔ افسوس ! مسلمان یہ باتیں بھول گئے ۔ قرآن کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا ، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ، ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگئے ۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/۵۳)

        حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباریاس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :  پڑوسی کی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کی مدد کرے ، اس سے برائی دور کرے ، اور اس پر خصوصی عطائیں کرے ، تاکہ وعید کا مستحق نہ ہو ۔ مزید فرماتے ہیں :  حضرتِ سیِّدُنا قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا فرمان ہے :  جو شریعتِ اسلامیہ کا اِلتزام کرنا چاہے اس کے لئے پڑوسی اور مہمان کا اِکرام اور ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا بھی لازم ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ ، ۸/ ۶۹ ، تحت الحدیث :  ۴۲۴۳)

وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا

        سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!وہ مؤمن نہیں ، اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی قسم!وہ ایمان والا نہیں ، اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی قسم!وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام علیہم الرضواننے عرض کی : یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !وہ کون ہے؟ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔(بخاری، کتاب الادب، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ، ۴/۱۰۴، حدیث : ۶۰۱۶)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  تین بار فرمانا تاکید کے لئے ہے ، ’’لَا یُؤْمِنُ‘‘ میں کمالِ ایمان کی نفی ہے ، یعنی مؤمنِ کامل نہیں ہوسکتا ، نہیں ہوسکتا ، نہیں ہوسکتا ۔حضور انور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے اس کی وضاحت پہلے ہی نہ فرمادی ، بلکہ سائل کے پوچھنے پر بتایا ، تاکہ سننے والوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے ، جو بات انتظار اورپوچھ گچھ کے بعد معلوم ہو وہ بہت دلنشین ہوتی ہے ، اگرچہ ہر مسلمان کو اپنی شَر سے بچانا ضروری ہے مگر پڑوسی کو بچانا نہایت ہی ضروری کہ اس سے ہر وقت کام رہتا ہے ، وہ ہمارے اچھے اخلاق کا زیادہ مستحق ہے ۔  (مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۵۵۵)

(حکایت : 19)

تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو

        رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم ایک غزوہ پرتشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا : آج وہ شخص ہمارے ساتھ نہ بیٹھے جس نے اپنے پڑوسی کو اِیذا دی ہو۔ ایک شخص نے عرض کی :  میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کے نیچے پیشاب کیا تھا۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :  آج تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو۔ (المعجم الاوسط، ۶/۴۸۱، حدیث : ۹۴۷۹)   

40گھر پڑوس میں داخل ہیں

        دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی : یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   میں نے فلاں قبیلے کے محلے میں رہائش اختیار کی ہے لیکن ان میں سے جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے وہ میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے۔سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکوبھیجا، وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر پُکارنے لگے :  بے شک چالیس گھرپڑوس میں داخل ہیں اور جس کے شر سے اس کا پڑوسی خوفزدہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔(المعجم الکبیر، ۱۹/۷۳، حدیث :  ۱۴۳ )

(حکایت : 20)

ہمسائے کی بکری کو بھی تکلیف نہ دو

         اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک دن ہمسائے کی بکری گھر میں داخل ہوگئی۔ جب اس نے روٹی اٹھائی تو میں اسکی طرف گئی اورروٹی کو اس کے جبڑے سے کھینچ لیا ۔یہ دیکھ کر حضوررحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ وَالہٖ وَسلَّمنے ارشاد فرمایا : تجھے اس کو تکلیف دینا اَمان نہ دے گا کیونکہ یہ بھی ہمسائے کو تکلیف دینے سے کچھ کم نہیں ۔

 (مکارم الاخلاق للطبرانی ، ص ۳۹۵ ، حدیث :  ۲۳۹ملتقطاً

Total Pages: 52

Go To