Book Name:Khofnak Bala

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                      شیطان لاکھ سستی دلائے مگر اس رسالے کو اول تا آخر ضرور پڑھ لیجئے۔

حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیاکہ (فرائض وغیرہ کے علاوہ)میں اپنا سارا وقت درود خوانی میں صرف کرونگا تو سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:یہ تمہاری فکروں کو دور کرنے کیلئے کافی اور تمہارے گناہوں کیلئے کفارہ ہوجائے گا۔ (ترمذی ج۴ص۲۰۷رقم الحدیث۳۴۶۵مطبوعہ دارالفکر)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

)   خوفناک بَلَا

باب الاسلام (سندھ)کے مشہور شہر حیدر آباد کے مبلغ ِدعوت اسلامی ڈاکٹر آفاق عطاری کے بھانجے محمدمکرم عطاری کا حلفیہ بیان ہے:ایک شب میں گاڑی پر سنسان علاقے سے گزررہا تھاایک چھوٹی پلیا پر سے گزرتے ہوئے اچانک ایسا لگا جیسے کوئی بہت زیادہ وزنی چیز گاڑی پر لاد دی گئی ہو۔ فل اسپیڈ دینے کے باوجود بھاری وزن کی بنا پر گاڑی بالکل آہستہ ہوگئی۔ کسی نہ کسی طرح گھرپہنچ کر جیسے ہی گاڑی سے اترا تو ایک نادیدہ شے کا وزن کندھوں پر محسوس ہونے لگا۔ جیسے تیسے میں نے کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کیا اور بستر پر جاگرا۔   

رات کے کم وبیش 1:30 بجے کا وقت تھا!مجھ پر ایک عجیب خوف طاری تھا۔ میں سہما ہوا ہمت کرکے واش روم جانے کیلئے اٹھا تو کسی نادیدہ قوت نے میرا ہاتھ موڑ کر کمر پر لگا دیا۔ میری چیخ نکل گئی ۔ میں اس نادیدہ قوت کے ہاتھوں پوری رات اذیت پاتا رہا۔ کبھی میری ٹانگ موڑ دی جاتی تو کبھی اٹھا کر پٹخ دیا جاتا۔ میں خوف و تکلیف میں چلاتا اور گھر والوں کو بلاتا رہامگر حیرت کی بات یہ تھی کہ گھر والوں کو میری آواز نہیں پہنچ رہی تھی۔اذان ِفجر ہونے پر وہ نادیدہ قوت چلی گئی۔ پورا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔

اس خیال سے کہ  گھروالے پریشان ہونگے میں نے صبح کچھ نہ بتایا،گلی میں ایک باریش نمازی شخص جو جھاڑ پھونک کرتے تھے ان کے پاس پہنچا ۔انہوں نے استخارہ کرکے بتایا کہ سخت جان لیوا چیز تمہارے ساتھ ہے۔ تم کسی کامل پیر کے مرید ہو اس لئے جان بچ گئی۔اس کا علاج میرے بس میں نہیں ہے۔ دوسری رات پھر اسی طرح 2:00 بجے کے قریب کسی نادیدہ قوت نے نیند کی حالت میں بسترسے اٹھاکر نیچے پھینک دیا اورمیں اسی طرح پوری رات اذیت پاتا اورگھر والوں کو مدد کیلئے بلاتا رہا۔

دوسرے دن میں نمازِعصر پڑھ کرحضرت سیِّد عبدالوہاب شاہ جیلانی المعروف سخی سلطان عَلَیْہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کے مزار پر حاضر ہوا۔ آنکھیں بند کر کے عرض کی: حضور! میرے مرشد کا واسطہ کم از کم اتنا تو ہو کہ جو نادیدہ قوت مجھے تکلیف دیتی ہے وہ نظر آجائے۔ یہ عرض کرکے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو برابر میں بھیانک چہرے والی ایک خوفناک بلا، جس کے دانت سینے تک نکلے ہوئے تھے سر چھت سے ٹکرا رہا تھا، چہرہ سیاہ اوراسکی بڑی بڑی سرخ آنکھیں مجھے گھوررہی تھیں ۔میں گھبرا کر چلنے لگا تو وہ بلا بھی میرے ساتھ ہولی۔ میں نے جب مزار کے احاطے میں دیکھا توعجیب الخلقت مخلوق ، بچے اور مرد جن کے قد لمبے،  بال گھٹنوں تک اور چہرے انسانوں سے مختلف تھے، ہاتھ باندھے مزار پر حاضر تھے۔اب چونکہ وہ نادیدہ قوت ظاہر ہوچکی تھی لہٰذا سامنے آکر مجھے مارتی۔

ایک صبح دعوت اسلامی کے ایک مبلغ کو میں نے یہ تمام معاملہ بتایا تو انہوں نے پوچھا :تم اپنے پیرومرشد شیخ طریقت امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ شجرہ عطاریہ میں سے اورادو وظائف پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ میرے پاس تو شجرہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے شجرہ عطاریہ دیا اور کہا، اسے اپنے پاس رکھو اور اس کے اوراد ووظائف پڑھنے کا معمول بھی بناؤ اور فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدرآباد سے مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کے مکتب سے تعویذات بھی لو اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس خوفناک بلا سے نجات مل جائے گی۔

اس رات جب میں سویا تو شجرہ عطاریہ میری جیب میں تھا،عجیب پراسرار آوازسے آنکھ کھلی۔ دیکھا وہ بھیانک بلا کمرے میں ہے ،میں چونکہ اب عادی ہوچکا تھا لہٰذا خوف میں کمی آگئی تھی ۔میں نے



Total Pages: 8

Go To