Book Name:Faizan e Hazrat Asiya رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فيضانِ حضرت آسیہ   )رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا (

دُرُود شریف کی فضیلت

بنی اسرائیل میں ایک گنہگار شخص تھا جب اس کا انتقال ہوا تو لوگوں نے اسے بےگور وکفن یونہی پھینک دیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وَقْت کے نبی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ اسے غسل دے کر اس کی نمازِ جنازہ ادا کرو، بےشک میں نے اس کی مغفرت فرما دی ہے۔ عرض کی:  مولیٰ ! کس سبب سے اس پر یہ کرم ہوا؟  ارشاد فرمایا:  ایک دن اس نے تورات کھولی تو اُس میں میرے محبوب مُحَمَّد مصطفےٰ  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کا نام دیکھ کر ان پر دُرود پڑھا، اس سبب سے میں نے اسے بخش دیا۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

راہِ حق کا مُسَافِر اور فانی دُنیا

انسان عموماً عیش وآرام پسند کرتا اور مصائب وآلام سے پرہیز کرتا ہے بلکہ ہر اس چیز سے دُور بھاگتا ہے جس کا نتیجہ اَذِیَّت وتکلیف کی صورت میں نکلے۔ پھر بادلِ نخواستہ  (مرضی کے خِلاف)  اگر کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہو بھی جائے اور خُصُوصاً بات جب جان پر بن آئے تو اس سے چھٹکارے کے لئے بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے۔ یہ عام انسان کی حالت ہے لیکن راہِ حق کے مُسَافِر کی زندگی اس سے بہت مختلف ہوتی ہے، دنیا کے فانی عیش وآرام اس کی نظر میں کچھ وَقْعَت نہیں رکھتے، اسے مصائب وآلام کی بھی پروا نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نظر آخرت پر ہوتی ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ عیش وآرام یا مصائب وآلام چند روزہ ہیں، بہت جلد یہ سب فنا ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کے فانی عیش وآرام کے حُصُول یا مصائب وآلام سے چھٹکارے کے لئے اپنی آخرت داؤ پر نہیں لگاتا بلکہ اس راہ میں حائل تمام تر عیش وآرام ترک کر کے اور مصائب وآلام خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے صِرَاطِ مستقیم پر گامزن رہتا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اسے ورغلا نہیں سکتی اور بڑی سے بڑی مصیبت اسے اس راہ سے ہٹا نہیں سکتی۔ تاریخ اس بات کی شاہِد ہے، کتنے ہی افراد ایسے ہو گزرے جو بادشاہت تک کو خاطِر میں نہ لائے کیونکہ یہ بادشاہت ان کے اُخْرَوِی نقصان کا سبب بن رہی تھی۔

مصر کی ملکہ

ہزاروں سال پہلے کا واقعہ ہے، مصر کی سرزمین میں ایسی ہی ایک نیک دل خاتون رہا کرتی تھیں۔ مال ودولت کی ان کے پاس کوئی کمی نہ تھی، ہر وَقْت خُدَّام خدمت کے لئے حاضِر اور حکم بجا لانے کےلئے تیار رہتے۔ ان پر ربّ تعالیٰ کا یہ بھی خاص کرم تھا کہ مال ودولت کی کثرت اور آرام وسُکُون کی فراوانی نے انہیں مغرور نہ بنایا تھا بلکہ ان کا دل غریبوں کی محبت سے سرشار اور ان پر شفقت ومہربانی کے جذبے سے مَعْمُور تھا چنانچہ یہ ان سے نرمی ومہربانی کا برتاؤ اور  (دل کھول کر ان پر)  صدقہ وخیراتکیا کرتی تھیں۔ اسی باعث بعض نے انہیں اُمُّ الْمَسَاکِیْن  (مسکینوں کی ماں / پناہ گاہ)  بھی کہا۔ ([2])  چونکہ یہ بادشاہِ مصر وَلِیْد بن مُصْعَب جس کا لقب فرعون تھا، کی بیوی تھیں اس حیثیت سے انہیں مصر کی ملکہ ہونے کا اعزاز بھی حاصِل تھا۔

ملکۂ مصر کا شوہر

ان کی عادتوں کے بالکل بَرخِلَاف ان کا شوہر تھا۔ حکومت وسلطنت کی وُسْعَت، مال ودولت کی کثرت، عیش وعشرت کی فراوانی اور طاقت وقوت کے نشے نے اسے حد سے زیادہ مغرور اور بےلگام بنا دیا تھا۔ بنی اسرائیل کے ہزاروں نادار وبےبس لوگوں کو اس نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سُلُوک کرتا، چوں کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کر رکھا تھا اس لئے ہر کسی کو اپنا مملوک  (یعنی زر خرید غلام)  تَصَوُّر کرتا اور ان کے ساتھ ہر سُلُوک رَوا  (درست)  جانتا تھا۔ بہرحال دُنیوی اعتبار سے دونوں کی زندگی خوب آرام وسُکُون میں بسر ہو رہی تھی اور درد واَلَم کا دُور دُور تک نشان نہ تھا۔

صدائے حق

وَقْت یوں ہی گزرتا رہا، سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتےدنوں میں تبدیل ہو کر بیتتے گئے کہ عرصے بعد مصر کے صحرا دو۲ مردانِ حق کی صدائے ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ ‘‘ سے گونج اُٹھے۔ یہ حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ اور حضرت سیِّدنا ہارون عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے جنہیں اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کو دعوتِ ہِدَایَت دینے کے لئے مبعوث فرمایا تھا، انہوں نے لوگوں کو باطِل معبودوں کی پوجا پاٹ سے روکا اور خُدائے وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک کی عِبَادَت کی طرف بلایا جو سب کا خالق و مالِک ہے، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، سب اسی سے رِزْق پاتے اور اسی کے دَر سے حاجتیں بَر لاتے ہیں لیکن ان ظالموں نے بجائے حق تسلیم کرنے کے ہٹ دھرمی کا مُظَاہَرہ کیا اور ان دو۲ جلیل



[1]    القول البديع، الباب الثانى فى ثواب الصلاة    الخ، ص١٢٤.

[2]    تفسير بغوى، پ٢٠، القصص، تحت الآية:٩، ٣ / ٤٢٧.مستدرك حاكم، كتاب تواريخ المتقدمين    الخ، باب ذكر موسى وهارون عليهما السلام، حديث:٤١٥٠، ٣ / ٤٥٧.



Total Pages: 11

Go To