Book Name:Tamam Dinon ka Sardar

سے”اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم“پڑھ کر پناہ مانگی جاتی ہے اور”وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم“ پڑھ کر اسے  بھگایا جاتا ہے ۔

کِرِسچن کے جنازے میں شرکت کرنا

عرض : کسی کے کِرِسچن دوست کے والِد کا اِنتِقال ہوجائے تو کیاوہ اُس کے جنازے میں جاسکتاہے یا نہیں؟

اِرشاد : کِرِسچن بلکہ کسی بھی  کافر سے مسلمان کو  دوستی رکھنا ممنوع وحرام ہے چنانچہ پارہ  6سورۃُ المائدہ کی آیت نمبر 51 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۱)

ترجَمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو!یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں  اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے  بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا ۔   

لہٰذا مسلمان کو کسی بھی  کافر سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے کہ یہ ناجائز و حرام ہے۔اب رہی بات جنازے میں شرکت کرنے کی تو اگر مرنے والا کافِر تھا تو اُس کے جنازے میں شریک نہیں  ہو سکتے کیونکہ قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ  ہدایت نشان ہے :

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ           (پ ۱۰، التوبة : ۸۴)

ترجَمۂ کنزالایمان : اوران میں سے کسی کی میت  پر کبھی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔

اِس آیتِ مُبارَکہ  کے تحت صدرُالافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں :  اس آیت سے ثابت ہوا کہ  کافِر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافِر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے۔جس شخص کے مؤمن یا کافِر ہونے میں شُبہ ہو اس کے جنازے کی نماز  نہ پڑھی جائے ۔ جب کوئی کافِر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیئے کہ بطریقِ مسنون غسل نہ دے بلکہ نجاست کی طرح اس پر پانی بہا دے اور نہ کفنِ مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے  سِتر چھپ جائے اور نہ سنّت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنّت قبر بنائے صرف گڑھا کھود کر دبادے ۔([1])

اسی طرح کے ایک سُوال کے  جواب میں میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِدین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اِرشاد فرماتے ہیں :

بیشک اُس(عیسائی) کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں کی طرح اِس کی تجہیز وتکفین سب حرامِ قطعی تھی۔  اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے :

  وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ              (پ ۱۰، التوبة :  ۸۴)

ترجَمۂ کنزالایمان :  ” اور ان میں سے کسی کی میت  پر کبھی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر  پر کھڑے ہونا۔“

 مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت پرمُطَّلع نہ تھے اور بَربنائے علمِ سابق اسے مسلمان سمجھتے تھے، نہ اس کی تجہیز وتکفین ونماز تک اُن کے نزدیک اس شخص کا نصرانی ہوجانا ثابت ہوا، تواِن اَفعال میں وہ اب بھی مَعذور و بے قصور ہیں کہ جب اُن کی دَانست(سمجھ) میں وہ مسلمان تھا اُن پر یہ اَفعال بجالانے بزُعمِ خود شرعاً لازم تھے، ہاں اگر یہ بھی اس کی عِیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز و تجہیز وتکفین کے مُرتَکِب ہوئے قطعاً سخت گنہ گار اور وبالِ کبیرمیں گرفتار ہوئے۔البتہ اگر ثابت ہوجائے کہ اُنہوں نے اُسے نصرانی جان کر نہ  صرف بوجہِ حماقت وجہالت کسی غرضِ دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہِ نصرانیت مستحقِ تعظیم وقابلِ تجہیز وتکفین ونمازِ جنازہ تصور کیا تو بیشک جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافر و مرتد ہیں اور ان سے وہی معاملہ برتنا واجب جو مرتدین سے برتا جائے  اور ان کی شرکت کسی اور طرح روا نہیں اور شریک ومعاون سب گنہگار ۔([2])

کافِر کو مرحوم کہنا کیسا؟

عرض : کافِر کو مرحوم کہنایا مرنے کے بعد اُس کے لیے بخشش کی دُعا کرنا کیساہے؟

اِرشاد : دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 185پر ہے : ”جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مُردہ مُرتَد کو مرحوم یا مَغفُور کہے ، وہ خود کافِرہے۔“فتاویٰ رضویہ جلد21صفحہ228 پر ہے : کافر کے لئے دُعائے مغفرت وفاتحہ خوانی کفرِ خالص و تکذیب ِقرآنِ عظیم ہے۔

مسبوق  اِمام کے ساتھ سلام پھیردے تو؟

عرض : مسبوق نے اپنی بقیہ رَکعتیں پوری کرنے کے بجائے امام کے ساتھ سلام پھیردیا تواب  کیاکرے؟ 

اِرشاد : دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 716پر ہے : مسبوق ([3])  کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائز نہیں اگر قصداً پھیرے گا نماز جاتی رہے گی اور اگر سہواً پھیرا اور سلام امام کے ساتھ معاً بلا وقفہ تھا تو اس پر سجدۂ سہو نہیں اور اگر سلام امام کے کچھ بھی بعد پھیرا تو کھڑا ہو جائے اپنی نماز پوری کرکے سجدۂ سہو کرے۔

جنّت میں بلاحساب داخل ہونے والوں کی تعداد

عرض : کتنے اَفراد بے حساب داخِل جنّت ہوں گے؟

اِرشاد : دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ71پر ہے : ”چار اَرب نَوّے کروڑ کی تعداد معلوم ہے، اس سے بہت زائد



[1]     خَزائِنُ الْعِرفان، پ ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ : ۸۴ ملتقطاً

[2]    فتاویٰ رضویہ، ۹٩/١۱۷۰ ملتقطاً

[3]     مسبوق وہ ہے کہ امام کی بعض رکعتیں پڑھنے کے بعد شامل ہوااور آخر تک شامل رہا۔(بہارِ شریعت ، ۱/۵۸۸، حصہ ۳)



Total Pages: 8

Go To