Book Name:Sadaat e Kiram Ki Azmat

تین چیزوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے:(1)ہماری صفیں ملائکہ کی صفوں کی مثل کی گئیں(2)ہمارے لیے تمام زمین مسجِدکر دی گئی ہے(3)جب ہم پانی نہ پائیں تو زمین کی خاک ہمارے لیے پاک وصاف اور پاک کرنے والی بنائی گئی۔([1])

شکر ادا ہو کیونکر تیرا پیارے نبی کی اُمّت میں

        مجھ سے نکمے کو بھی پیدا تو نے اے رحمٰن کیا     (وسائلِ بخشش)

کسی کوہنستا دیکھ کر پڑھنے کی دُعا

عرض: ہنسنے کی کتنی اَقسام ہیں؟نیزکسی اِسلامی بھائی کوہنستا دیکھ کر کون سی دعا  پڑھنی  چاہیے؟

اِرشاد:ہنسنے کی تین قسمیں ہیں:(۱)تَبَسُّم(۲)ضِحک(۳)قَہْقَہَہ۔فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کے نزدیک اس طرح ہنسنا کہ صرف دانت ظاہر ہوں آواز پیدا نہ ہو یہ”تبَسُّم“کہلاتا ہے اور اس طرح ہنسنا کہ تھوڑی آواز بھی پیدا  ہو جو خود سنی جائے دوسرا نہ سنے تو یہ ”ضِحْك“ ہے اور اس طرح ہنسنا کہ زیادہ آواز پیدا ہو کہ دوسرا بھی سنے اور منہ کھل جائے تو یہ ’’قَہْقَہَہ‘‘ ہے۔نماز  میں تبسم کرنے سے نہ نماز جائے نہ وضو،ہنسنے سے نماز جاتی رہے گی اور قَہْقَہَہلگانے سے نماز وضو دونوں جاتے رہتے ہیں۔ ([2])

حدیثِ پاک میں ہے:اَلْقَھْقَھَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللہِ یعنی قَہْقَہَہشیطان کی طرف سے ہے اورمسکرانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے۔([3]) حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے لیے جہاں کہیں لفظ ضِحْك آتا ہے وہاں تبسم مُراد ہوتا ہے کیونکہ حضورِ انور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) نے کبھی ٹھٹھا نہ لگایا۔([4])خیال رہے کہ مسکرانا اچھی چیز ہےاورقہقہہ بری چیز،تبسم حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی عادتِ کریمہ تھی جب کسی سےملو مسکرا کر ملو۔([5])

جب کسی کو مسکراتا دیکھیں تو یہ دعا پڑھیے:”اَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ یعنیاللہ  عَزَّوَجَلَّ تجھےمسکراتا رکھے۔“جیسا کہ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربارِ گوہر بار میں حاضر ہونے کی اِجازت مانگی،اس وقت آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس(اَزواجِ مُطَہّرات میں سے)قریشی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں جوآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محوِگفتگو تھیں،زیادہ بخشش کا مطالبہ کر رہی تھیں اوران کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اجازت ما نگی تو وہ جلدی  سے اٹھ کر  پردے میں چلی گئیں۔نبیٔ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اندر آنے کی اجازت دی،(جب یہ اندر داخل ہوئے تو)نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَبسُّم فرما رہے تھے۔یہ عرض گزار ہوئے:اَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یَارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللّٰہتعالیٰ آپ کو مسکراتا رکھے (کیا بات ہے؟)۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:مجھے اِن عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس حاضر تھیں کہ انہوں نے جب تمہاری آواز سنی تو جلدی

سے اٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔عرض گزار ہوئے کہ یَارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ آپ سے ڈرتیں۔ پھر(حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےان کی جانب مُتَوجّہ ہو کر)کہا: اے اپنی جانوں سے دُشمنی کر نے والیو!تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہیں ڈرتیں؟انہوں نے کہا:ہاں، آپ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرح نہیں بلکہ غُصّے والے اور سخت گیر ہیں۔حُضُورِ پاک،صاحبِ لَولاک،سیّاحِ افلاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ تمہارے راستے کو چھوڑ کر   دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔([6])

گلی سے ان کی شیطاں دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے

        ہے ایسا رُعب ایسا دبدبہ فاروقِ اعظم کا      (وسائلِ بخشش)

بارہ  ماہ کے مَدَنی قافلے میں سفر کا ذہن

عرض:مدنی انعامات و مدنی قافلہ کورس کرنے کی برکت سےاَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  میرا 12  ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کا  مَدَنی ذہن بنا ہے لیکن میں اپنے  گھر کا اکیلا ہی  کَفالَت کرنے والا ہوں ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

اِرشاد:اس سوال کا جواب آپ اپنے دل سے پوچھ لیجیے کہ بالفرض آپ کو بیرونِ ملک نوکری کی پیشکش(Offer) ہو تو گھر والوں کو چھوڑ کر آپ بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں؟آپ کے گھر والے آپ کو بھیجنے کے لیے راضی ہوں گے یا نہیں؟ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ بیرونِ ملک نوکری ملنے پر گھر والے نہ صرف راضی ہوتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک نوکری کرنے پر زور دیتے ہیں۔گھر والوں کو آپ کی کم اور پیسوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اگر بیرونِ ملک جانے کے لیے آپ کے گھر والے راضی ہو جائیں تو اُس وقت گھر کی کَفالَت کرنے والا کون ہو گا؟اگر آپ کا انتقال ہو جائے تو اُس وقت گھر کی کَفالَت کون کرے گا؟ اُس وقت بھی تو گھر والے کچھ نہ کچھ کریں گے۔ گھر والے فقط دُنیا بنانے کے لیے



[1]      مُسلِم،کتاب المساجد و مواضع الصلاة ،ص۲۶۵-۲۶۶،حدیث:۵۲۲

[2]     مِرآة المناجیح ،۶/۴۰۱ ملخصاً

[3]     مُعجمِ صغیر،من اسمہ محمد،ص۱۰۴،حدیث:۱۰۵۷،الجزء:۲

[4]      مِرآة المناجیح ،۸/۶۶

[5]     مِرآة المناجیح ،۷/۱۴

[6]     بخاری،کتاب بدء الخلق،باب صفة ابلیس وجنودہ ،۲/۴۰۳، حدیث:۳۲۹۴



Total Pages: 7

Go To