Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

            ۱۳۔ آخر میں   مآخذ ومراجع کی فہرست،  مُصَنِّفِین ومُؤلِّفِین کے نام،  ان کے سنِ وفات مع مطابع ذکر کر دی گئی ہے۔

            رسالہ کی ترتیب یوں   رکھی گئی ہے کہ پہلے تشریح پھر امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی تصنیف ’’اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَۃ‘‘ سے تصورِ شیخ کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اس کے بعد اس رسالہ کے متن کو بھی شامل کیا گیا ہے اورتخریج کا کام بھی اسی میں   سرانجام دیاگیا ہے ۔

            اس ’’رسالہ‘‘ کو پیش کرنے میں   آپ کو جو خوبیاں   دکھائی دیں   وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا،  اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نظرِ کرم،  علمائے کرام بالخصوص شیخِ طریقت امیر ِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری  مَدَّ ظِلَّہُ الْعَالِی کے فیض سے ہیں   اور جو خامیاں   نظر آئیں   ان میں   یقینا ہماری کوتاہی ہے۔

            دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس ’’رسالہ‘‘ کو عوام و خواص کے لیے نفع بخش بنائے!

 آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم

شعبۂ کتبِ اعلی حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت

(مجلس المدینۃ العلمیۃ)

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تصوّر شیخ

سوال:

              علمائے دین اس مسئلہ میں   کیافرماتے ہیں  کہ ایک شخص مرشد کی صورت کو فیض پانے کا وسیلہ سمجھ کر ذِکْر یا مُراقَبَہ کے وقت اس کا تَصوُّر کرتاہے چنانچہ شاہ   وَلِیُّ اللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ  عَلَیْہنے نقشبندیوں   کے اَشغال و وظائف کے بیان میں   اپنی کتاب ’’قول الجمیل‘‘ میں   فرمایا ہے:

وإذا غاب الشیخ عنہ یتخیّل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ما تفید صحبتہ۔

ترجمہ:’’اور جب مرشد اس کے پاس نہ ہو تو محبت او ر تعظیم سے اس کی صورت کو اپنی دونوں   آنکھوں   کے درمیان ہونے کا تصور جمائے،  تو اس مرشد کی خیالی صورت وہی فائدہ دے گی جو اس کی صحبت دیتی ہے ۔‘‘

             اور یہ تصور اس طور پر کرے کہ اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی بارگاہ سے فیض مرشد میں   نازل ہوکر مرید کے لطائف پر وارِد ہوتا ہے، اور یہ تصوُّر بھی اس وقت تک کرے جب تک اللّٰہتعالیٰ کی پاک ذات سے اس مرید کا رابطہ و تعلق کامل طور پر قائم نہ ہوجائے،  اور جب کامل مناسبت وتعلق حاصل ہوجائے تو پھر اس تصوُّرِ شیخ کو ضروری نہ جانے ،  پس اب سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کے لئے تصوُّرِشیخ جائز ہے یا نہیں   جبکہ وہ مرشد کو صرف فیض حاصل کرنے کا واسطہ اور وسیلہ جانتا ہے، نہ عَالِمُ الْغَیْب (غیب جاننے والا) نہ حاضر و ناظر اور نہ ہی پیر کو لائق ِعبادت ولائقِ سجدہ جانتا ہے،  بلکہ اِن اُمور کا غیر ِخدا کے لئے ثابت کرنا شرک سمجھتا ہے،  اگر یہ تصور شیخ جائز ہے تو کیااس کی دلیل قرآن سے ہے یا حدیث سے یا مجتہدین کے اقوال سے یاامت کے اجماع سے ثابت ہے ؟ اور اگر یہ تصور جا ئز نہیں   تو اَدلۂ اربعہ (قرآن، حدیث ، اجماع ، قیاس)میں   اس کے ممنوع ہونے پر کون سی دلیل ہے ؟  بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا (بیان کرو تمہیں   اجر دیا جائے ۔)

ا لجوا ب:

الحمد للّٰہ الذي ھدانا لربط القلوب بأعظم برزخ بین الإمکان والوجوب والصّلاۃ والسّلام علی أجمل مطلوب أجلّ وسیلۃ لإصلاح الخطوب صلاۃ  تمحو رَین العیوب وتمثّل في الفؤاد صورۃ المحبوب منشھداً بالتوحید لعلاّم الغیوب وبالرّسالۃ الکبری لشفیع الذنوب صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ

’’تمام تعریفیں   اس ذات کے لئے جس نے ہمیں   اس مقدَّس ذات کے ساتھ دلوں   کو جوڑنے کی ہدایت فرمائی جو بندے اور خدا کے درمیان سب سے عظیم وسیلہ وذریعہ ہیں   یعنی حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم،  اور درودوسلام ہو اس ذات پر جو حسین ترین مطلوب،  امور کو درست کرنے کے لئے سب سے جلیل القدر وسیلہ وذریعہ ہیں   ایسا درودہوجو ہمارے عیبوں   کے زنگ کو

وصحبہ وسائط الکرم. قال الفقیر عبد المصطفی أحمد رضا المحمّدي السنّي الحنفي القادري البرکاتي البریلوي لمّ اللّٰہ تعالی شعثہ وتحت اللواء الغوثي بعثہ.

مٹادے اور ہمارے دلوں   میں   محبوب کی صورت نقش کردے اس حال میں   کہ ہم عَلاَّمُ الْغُیُوْب (غیبوں   کو جاننے والی ذات) کے لئے توحید کی اور شَفِیْعُ الذُّنُوْب(گناہوں   کی شفاعت فرمانے والی ذات) کیلئے سب سے بڑی رسالت کی گواہی دینے والے ہیں  ،  درودوسلام بھیجے اللّٰہ تعالی ان پر اور انکی آل و اصحاب پر جو جُو دوکرم کے واسطے ہیں   اللّٰہکی بارگاہ میں   محتاج عبدالمصطفیٰ احمد رضا محمدی،  سنی،  حنفی،  قادری،  برکاتی،  بریلوی (اللّٰہ تعالیٰ اس کے کاموں   میں  ترتیب پیدا فرمائے اور قیامت کے دن حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے جھنڈے کے نیچے اٹھائے ) کہتا ہے:

               رابطہ قائم کرنے کیلئے مرشد کا تصور کرنا اَز روئے شرع جائز ہے،  اولیائِ کرام کی بول چال میں   اسے برزخ بھی کہتے ہیں   اور یہ صاف دل صوفیاءکرام (اللّٰہتعالیٰ ان کے کامل رازوں   سے ہمیں   پاکیزہ فرمائے) میں   انکے مُتَقَدِّمِین ومُتَأخِّرِین (اگلوں   پچھلوں  ) میں  جاری ہے اور ان سے منقول ہے اور ان اولیائِ کرام کی بلندرتبہ تصنیفات اور عظمت و شرافت والے مکتوبات اور اَسرار ولطائف والے ملفوظات میں  کثرت کے ساتھ مذکور او رموجود ہے یہ کوئی عجیب بات نہیں   ہے ۔

ایک نہایت اہم اصول:

 



Total Pages: 27

Go To