Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

روز بَیْتُ اللّٰہ شریف کے دروازے  پر تشریف فرماہیں   اور صحابہ کرام اپنے  مراتب کے لحاظ سے اپنی جگہ پر خدمت میں   حاضر ہیں   اور کفارِ مکہ ڈرتے ہوئے پریشان آپ کے سامنے آرہے ہیں   اور آپ ان کو  معاف فرمارہے ہیں   اس تصور کی

 اند وآنحضرت از ایشاں   عفو فرمودہ ملاحظۂ  ایں   حال باعث شد بتوسل از آنجناب ودُعا در حضرت عزت جلت عظمتہ برائے مغفرت خود جمیع اقارب  واحباب وقضائے حوائج دین و دُنیا،  ونرجو من اللّٰہ الإجابۃ إن شاء اللّٰہ تعالی؎

برکت سے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وسیلے اور اللّٰہ  تعالیٰ کے دربارمیں   دعا کے سبب تمام اقارب واحباب کی مغفرت اورحاجتیں   تمام دنیاوی اور دینی قبول ہونے کی امید ہوئی  اِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالٰی۔

دوستاں   راکجا کنی محروم!                                                       توکہ با دشمناں   نظر داری([1])

دوستوں   کوتو آپ کیا محروم کریں   گے     آپ تو دشمنوں   پر بھی نظر رکھتے ہیں  ۔ (ت)

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! یہ سرِدَست تیس۳۰    نصوص عَظِیْمُ الْفَوَائِدہیں   اور جو باقی رہ گئے وہ اُن سے بہت زائد،  پھر مُنصِف کو اس قدر بھی کا فی اور مکابر مُتَعسِّف کو دفتر ناوافی،  نسأل اللّٰہ العفو والعافیۃ (ہم اللّٰہ تعالیٰ سے معافی وعافیت مانگتے ہیں  ۔ت)

تنبیہ لطیف:

            یہ تو شاہ عبدالعزیز صاحب کی تقریر سے روشن ہولیاکہ جوازِ برزخ اطلاقِ آیاتِ قرآنیہ سے ثابت و مستفاد،  اور یہ بھی کہ حضراتِ اولیاء کاامورِ طریقت میں   مَرْجَعْ وَمَسئُول اور اُن کے ارشادات کا معمول و مقبول ہونا آیۂ کریمہ: { فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ }کا مفاد اور یہ بھی اُن کے کلام میں   اشارۃً اور تقریر معلم ثالث میں   صراحتہً گزرا کہ اولیائے طریقت مثل مجتہدانِ شریعت ہیں   اور خود امام الطائفہ نے بھی ’’صراط المستقیم‘‘میں   ان کا مجتہد فی الطریقہ ہونا تسلیم کیا حیث  قال:

اولیائے کبار از  اصحابِ طرق کہ امامت در فن باطن  شریعت حاصل کردہ  و اجتہاد در قواعد اصلاح قلب کہ خلاصۂ دین متین ست بہم  رسانیدہ بودند([2])۔

اصحاب طریقت میں   سے بڑے بڑے اولیائے کرام نے فن باطن شریعت میں   امامت حاصل کی اور اپنے اجتہاد سے انہوں   نے اصلاح قلب کے قواعد عطا کئے جوکہ کتاب وسنت کا خلاصہ ہے۔(ت)

            مگر مجھے یہاں   یہ بیان کرنا ہے کہ بطورحضرات نہ صرف جواز برزخ بلکہ اُس کی ترغیبِ شدیدو تحریصِ اَکید اور اس کا اَقْرَبُ الطُّرُق إِلَی اللّٰہ ہونا خود اِمامُ الْمُجْتَہِد شریعت کے صریح و روشن اشاروں   سے ثابت ہولیا،  پوچھئے وہ کیونکر!؟ ہاں  ! وہ یوں   کہ کلماتِ مذکورۂ جناب شیخ مجدد صاحب پرپھرنظر ڈالئے دیکھئے یہ باتیں   اُن میں   صاف صریح موجود ہیں   یا نہیں  ،  جب دیکھ لیجئے تو اب جناب مرزا مظہر جان جاناں   صاحب کا کلام سنیے جنہیں   سن چکے کہ امام الطائفہ کے جدوفرجد جناب شاہ وَلِیُّ اللّٰہ صاحب کیساکچھ جانتے تھے،  وہ تصریح فرماتے ہیں   کہ حضرت مجدد نہ فقط طریقت میں   مجدد بلکہ شریعت میں   بھی امام مجتہد تھے ، مکتوب پانز دہم میں   لکھتے ہیں  :

حضرت مجدد الف ثانی رضي اللّٰہ عنہکہ نائبِ کامل آنحضرت اند بنائے طریقۂ خود را  بر اتباعِ کتاب وسنت گذاشتہ اند وعلماء  د ر اثبات رفع سبابہ رسالہا مشتمل بر احادیث صحیحہ وروایات فقہیۂ حنفیہ تصنیف کردہ اند تا بجائیکہ حضرت شاہ یحیی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرزند اصغر حضرت مجدد نیز دریں   باب رسالہ تحریر نمودہ اند ودر نفی  رفع یک حدیث بہ ثبوت نہ رسیدہ وترک رفع از جناب حضرت مجدد بنا بر اجتہاد([3])واقع

حضرت مجدد الف ثانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کامل نائب ہیں   انہوں   نے کتاب وسنت کی پیروی میں   اپنے طریقہ کے قواعد بنائے اور علمائے کرام احادیث صحیحہ اور منتخب حنفی روایات پر مشتمل رسائل رفعِ سَبابہ کے مسئلہ کے اثبات میں   لکھے حتّٰی کہ مجدد صاحب کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شاہ یحي رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی اس مسئلہ کے اثبات میں   ایک رسالہ تصنیف فرمایا اور لکھا کہ رفعِ سبابہ کی نفی میں   ایک حدیث بھی پایہ ثبوت کو نہ پہنچی اور ترکِ رفعسبابہ پر حضرت مجدد صاحب نے جو لکھا وہ ان کے اجتہاد پر مبنی ہے جبکہ غیر

شدہ و سنت محفوظ از نسخ بر اجتہاد مجتہد مقدم ست۔([4])

منسوخ سنت مجتہد کے اجتہاد پر مقدم ہوتی ہے۔

            اب امام الطائفہ وغیرہ منکرین جنہیں   نہ طریقت میں   لیاقت نہ شریعت میں   مہارت،  بھلا منصبِ تجدیدو اجتہاد تو بڑی بات ہے ولی مجدد و امام مجتہد کے مقابل ایسوں   کی زق زق کون سنتا ہے اگر چہ  ع

 



[1] ۔۔۔       تاریخ الحرمین۔

[2] ۔۔۔        صراط مستقیم،  باب اول،   فصل ثانی،   افادہ:۵،  فائدہ: ۲ ص۴۱۔

[3] ۔۔۔        عـــہ: جاناں ایںسخن مرزا صاحب بہ اجتہادِ خودگفتہ باشند ورنہ ملاحظہ ’’مکتوباتِ حضرت مجدد‘‘ گواہ عادل ست کہ ترکِ رفع محض بربنائے تقلید ائمۂ حنفیہ  فرمودہ اند وآنہم بمجرد تقدیم ظاہر الرّوایہ بر نوادر وترک اتباع احادیث صحیحہ صریحہ کثیرہ بمقابلہ روایتِ ظاہرہ فقیہہ ایں بارسالہ’’الکوکبۃ الشہابیۃ‘‘ دیدن وارد بعونہ تعالی بر وہابیہ لہابیہ آتشِ قہر می بارد وباللّٰہ التوفیق،  ۱۲۔

حضرت مرزا مظہر جان جاناں کا یہ کلام اپنے اجتہاد پر مبنی ہے ورنہ حضرت مجدد صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے مکتوبات کو ملاحظہ کرنے پر واضح گواہی ملتی ہے کہ رفع سبابہ کا ترک خالص امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تقلید پر مبنی ہے کہ مذہب کی ظاہر روایت نوادر کے مقابلہ میں اور صریح صحیح احادیث کی اتباع کے بجائے فقہی ظاہر روایت کو مقدم رکھا جاتا ہے،  میرے رسالہ’’اَلْکَوْکَبَۃُ الشَّہَابِیَّۃ‘‘  کا یہ مقام دیکھنا چاہئے وہابیوں پر وہ آتشِ قہر ہے  وباللّٰہ التوفیق ۱۲ ۔(ت)

[4] ۔۔۔        مکتوبات مرزا مظھر جانجاں(مرتجم ) ، مکتوب ۱۵،  ص۱۳۵،  ۱۳۶۔



Total Pages: 27

Go To