Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

علی کے حوالے سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوا کہ اولیائے طریقت،  شریعت کے مجتہدین کی طرح ہیں   اور خود وہابی ٹولے کے امام اسمعیل دہلوی نے’’ صراط مستقیم‘‘ میں   ان کا طریقت میں   مجتہد ہونا تسلیم کیاہے ،  {31}چنانچہ اس نے کہا:

’’اولیائے کبار از  اصحابِ طرق کہ امامت در فن باطن شریعت حاصل کردہ  و اجتہاد در قواعد اصلاح قلب کہ خلاصۂ  دین متین ست بہم  رسانیدہ بودند‘‘۔

’’مختلف سلاسل والوں   میں   سے بڑے بڑے اولیاء شریعت کے باطنی شعبہ میں   درجۂ امامت حاصل کئے ہوئے ہیں   اور دل کی اصلا ح جو کہ  دین متین کا خلاصہ ہے اس میں   درجۂ اجتہاد تک پہنچے ہوئے ہیں   ۔‘‘

             مگر مجھے یہاں   یہ بیان کرنا ہے کہ ان حضرا ت کے اقوال سے صرف تصوّرِشیخ کا جواز ثابت نہ ہوا بلکہ اس تصوّرِشیخ کی شدید ترغیب اور تاکید کے ساتھ لالچ دلانا اور تصورِشیخ کا بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے کے راستوں   میں   سب سے قریبی راستہ ہونا خود اِن کے امام و مجتہدطریقت بلکہ مجتہدشریعت کے صریح و روشن اشاروں   اور تصریحات سے ثابت ہوگیا،  اب یہاں  ذہن میں   آئے گا کہ آپ نے شریعت کے مجتہد سے اس کا جواز کیسے ثابت کیا تو اس کے جواب میں   ہم کہتے ہیں   کہ حضرت مجدد الف ثانی کے اقوال تصورِشیخ کے بارے میں   آپ دوبارہ دیکھ لیں   اور اب مرزامظہر جانِ جاناں   کا قول حضرت مجددالف ثانی کے بارے میں   سنئے اور یہ بھی یا د رکھیں   کہ اسمٰعیل دہلوی کے دادا شاہ وَلِیَُّ اللّٰہصاحب نے مرزامظہر جانِ جاناں   کی تعریف میں   کیا کچھ لکھا ہے،  لہٰذ ا مرز ا مظہر جانِ جاناں   بھی ان کے نزدیک معتبر ہوئے اب یہی مرزا مظہر جانِ جاناں   نے شیخ مجدد الف ثانی (جنہوں   نے تصورِشیخ کو جائز اور بہت عمدہ کہا) کی شان میں   فرمایا ہے کہ حضرت مجدد نہ فقط طریقت میں  مُجددبلکہ شریعت میں   بھی امام مجتہد تھے مکتوب پانزدھم (پندرھویں   ) میں   لکھتے ہیں  :

’’حضرت مجدد الف ثانی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکہ نائبِ کامل آنحضرت اند بنائے طریقۂ خود را  بر اتباعِ کتاب وسنّت گزاشتہ اند وعلماء  در  اثبات رفع سبابہ  رسالہا  مشتمل بر احادیث صحیحہ

’’حضرت مجدد الف ثانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے کامل نائب تھے اس لئے آپ نے اپنے طریقہ کی بنیاد کتاب و سنت پر رکھی،  اورعلماء نے تَشَہُّد میں   انگلی اٹھانے کے  اِثبات (ثابت کرنے) میں   بہت سے

 و روایات فقہیۂ حنفیہ تصنیف کردہ اند تا بجائیکہ حضرت شاہ یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرزند اصغر حضرت مجدد نیز دریں   باب  رسالہ تحریر نمودہ اند ودر نفی رفع یک حدیث بہ ثبوت نہ رسیدہ وترک رفع از جناب حضرت مجدد بنا بر اجتہاد واقع شدہ و سنّت محفوظ از نسخ بر اجتہاد مجتہد مقدم ست‘‘۔

رسالے تصنیف کئے جو صحیح احادیث اور فقہ حنفی کی روایات پر مشتمل ہیں  ،  حضرت مجدد الف ثانی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃکے چھوٹے فرزند حضرت شاہ یحي عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے بھی اس مسئلہ میں   ایک رسالہ لکھا اور انگلی اٹھانے کی نفی میں   ایک بھی حدیث ثبوت کے طور پر پیش نہ کرسکے اور مجدد الف ثانی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃکا تشہد میں   انگلی اٹھانے کی نفی کرنا اجتہاد کی بنا پر تھا اور وہ سنت جو منسوخ نہ ہو وہ اجتہادپر فوقیت رکھتی ہے ۔‘‘

            اس سے ثابت ہوا کہ مرزا مظہرجانِ جاناں   حضرت مجدد الف ثانی کو مُجْتَہِدِ شریعت مانتے تھے اور حضرت مجدد تو تصورِشیخ کو جائز اور انتہائی مفید قرار دیتے ہیں   تو امام الطَّائِفَہ اسماعیل دہلوی وغیرہ منکرین جنہیں   نہ طریقت میں   لیاقت نہ شریعت میں   مہارت اور اسے منصب ِتجدید (مجددہونا)اور منصب ِاجتہاد (مجتہد ہونا) حاصل تو بڑی بات ہے،  ولی مجدد اور امام مجتہد کے سامنے ایسوں   کی بکواس کون سنتا ہے اگر چہ  ع

مغز ماخورد وحلقِ خود بدرید

(’’ہمارا مغز کھاتے ہیں   اور اپنا گلا پھاڑتے ہیں  ۔‘‘)

تنبیہ اَلْطَف:

             یہاں   تک تو حضرت مجددعَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کو مجتہد مانا اور حضرت مجددعَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے تصورِشیخ کوجائز مانا ،  اب اگر مزیدآگے چلیں   گے تو تصورشیخ کا جواز صر ف مجتہد کے قول سے نہیں   بلکہ اسماعیل دہلوی کے ایمان کے مطابق ایک معصوم صاحبِ وحی کے قول سے ثابت ہوگا وہ کس طرح اب زیادہ توجہ کیجیے گا کہ یہ کیا ؟ معصوم صاحبِ وحی سے اسکا صراحۃً ثبوت کیسے ہواتو ہم کہتے ہیں   اگر اسماعیل دہلوی کی بات آپ نے سنی ہوتی تو آپ کو تعجب نہ ہوتا، وہ ’’صراط مستقیم‘‘ میں   بیان کرتا ہے کہ اولیاء میں   جو حکیم ہوتا ہے جسے صدیق و امام ووصی بھی کہتے ہیں   اُس پر خدا کے یہاں   سے وحی آتی ہے اسے نہ صرف غیب وشہادت کے بارے میں    کائنات کے بعض احکام اورصرف سلو ک و طریقت کے جزوی معاملات کے بارے میں   نہیں  بلکہ شریعت و ملت اسلامیہ کے کلی احکام بھی انبیاء کے واسطے کے بغیرآتے ہیں  اور وہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا ہم استاد ہوتا ہے، وہ انبیاء کی مثل معصوم ہوتا ہے اس پر خاص امورِشرعیہ میں   انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تقلید کچھ ضروری نہیں   ہوتی بلکہ ایک اعتبار سے انبیاء کی طرح وہ خود مُحقِّق ہوتا ہے،  اس کا علم جسے حکمت کہتے ہیں   انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کے علم سے ہرگز کم نہیں   ہوتا صرف اتنا فرق ہے کہ انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام پر اعلانیہ وحی آتی ہے اور اس حکیم صاحب پر پوشیدہ وحی آتی ہے،  {32} چنانچہ اس کی عبارت دیکھئے:

’’پوشیدہ نخواہد ماندکہ صدیق من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق در شرائع علوم کلیہ شرعیہ او ر ا بد و واسطہ می رسد بوساطت نورجبلی وبوساطت انبیاءعَلَیْھِمُ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَم،   پس درکلیاتِ شریعت وحکم احکام ملت او را شاگرد انبیاء ہم می تواں   گفت  وہم استاذ انبیاء ہم  و نیز طریقہ اخذآں   ہم شعبہ ایست ازشعب وحی کہ آں   را در عرفِ شرع بہ نفث في الروع تعبیر می فرما یند وبعضے اہلِ کمال

ترجمہ: ’’پوشیدہ نہ رہے کہ صِدِّیق ایک اعتبار سے انبیاء کا مقلد ہوتا ہے اور ایک اعتبار سے مسائل میں   خود محقق ہوتا ہے شریعت کے کُلّی علوم اس کودوواسطے سے حاصل ہوتے ہیں   فطری نور کے واسطے سے اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واسطے سے پس شریعت کے احکام میں   اور ملّتِ اسلامیہ کے احکام میں   اُسے انبیاء کا شاگرد بھی کہہ سکتے ہیں   اور انبیاء کا ہم استاذ بھی، نیز ان



Total Pages: 27

Go To