Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

  میری آرزوومراد ہے،  اگر میرا رب چاہے

فَإِنْ أَحْرُمْ زِیَارَتَہٗ بِجِسْمِيْ

اگر جسم سے اس کی زیارت مجھے نصیب نہ ہوئی

فَلَمْ أَحْرُمْ زِیَارَتَہٗ بِقَلْبِيْ

 تو دل کی زیارت سے محروم نہیں   ہوں 

إِلَیْکَ غَدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ مِنِّيْ

 صبح کے وقت حضور کی بارگاہ میں   حاضر ہوں    یَارَسُوْلَ اللّٰہ!میری طرف سے

تَحِیَّۃُ مُؤْمِنٍ دَنِفٍ مُحِبّ

 ایک مُحِب،  بیمارِ محبت کا سلام ہو ۔

            {25}امام احمد۲۳ ؎   بن محمد قسطلانی شارح’’ صحیح بخاری‘‘ ’’مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ‘‘ اور علامہ محمد زرقانی اسکی شرح میں   فرماتے ہیں   :

(یلازم الأدب والخشوع والتواضع غاض البصر في مقام الھیبۃ کما کان یفعل بین یدیہ  في حیاتہ) إذ ہو حيّ (ویستحضر علمہ بوقوفہ بین یدیہ علیہ الصلاۃ والسلام

’’یعنی زائر ادب وخشوع اور عاجزی کولازم پکڑلے آنکھیں   بندکئے مقامِ ہیبت میں   کھڑا ہوجیسا حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ کے عالم میں   حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم

سماعہ لسلامہ کما ھو في حال حیاتہ؛ إذ لا فرق بین موتہ وحیاتہ في مشاھدتہ لأمّتہ ومعرفتہ بأحوا لھم ونیاتھم وعزائمھم وخواطرھم،  وذالک عندہ جليّ لا خفاء بہ ویمثل) یصوّر (الزائر وجھہ الکریم علیہ الصلاۃ والسلام في ذھنہ ویحضر قلبہ جلال رتبتہ وعلوّ منزلتہ وعظیم حرمتہ) اھ ملخصاً

 کے سامنے کرتا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں   اور تصوُّر کرے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اُسکی حاضری سے آگاہ ہیں   اُس کا سلام سن رہے ہیں   بِعَیْنِہٖ اُسی طرح جیسے حالِ حیاتِ ظاہری میں   کہ حضور پرنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وفات وحیات دونوں   حالتوں   میں   یکساں   ہیں   کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کو دیکھتے اور انکے احوال کو پہچانتے او رانکی نیتوں   اور اِرادوں   اور دل کے خطرات سے آگاہ ہیں   اور یہ سب باتیں   حضور وَالا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایسی روشن ہیں  جس میں   کوئی پوشیدگی نہیں   اور زائر اپنے ذہن میں   حضورِوالا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے چہرۂ کریمہ کا تصور جمائے اور دل میں   حضور کی بزرگی، مرتبہ وبلندیِ قدر و احترامِ عظیم کا خیال جمائے ۔‘‘

            {26}علامہ۲۵ ؎ رحمت اﷲہندی تلمیذ ِامام ابن الہمام’’مَنْسَکِ مُتَوَسِّط‘‘  اور علامہ۲۶ ؎    علی قاری مکی اسکی شرح ’’مَسْلَکِ مُتَقَسِّط‘‘ میں   فرماتے ہیں  :

(ثمّ توجّہ) أي: بالقلب والقالب

’’یعنی زیارت کیلئے حاضر ہونے

(مع رعایۃ الأدب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعاً خاضعاً خاشعاً مع الذلّۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والھیبۃ والافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح فارغ القلب) من سوی مرامہ  (واضعاً یمینہ علی شمالہ مستقبلاً  لوجھہ الکریم مستدبراً للقبلۃ متمثّلاً صورتہ الکریمۃ في خیالک) أي: في تخیّلات بالک لتحسین حالک (مستشعراً بأنّہ علیہ الصلاۃ والسلام عالم بحضورک وقیامک وسلامک) أي: بل بجمیع أفعالک وأحوالک وارتحالک ومقامک وکأنّہ حاضر  جالس بإزائک (مستحضراً

 والا دل وبدن دونوں   سے انتہائی ادب کے ساتھ مزارِاقدس کی طرف متوجہ ہوکر مواجہہ شریفہ میں   کھڑا ہو تواضع وخشوع وخضوع وعاجزی وانکساری وخوف ووقار وہیبت ومحتاجی کے ساتھ آنکھیں   بند کئے اعضاء کو حرکت سے روکے،  دل اس مقصود مبارک کے سوا سب سے فارغ کئے ہوئے داہنے ہاتھ کو بائیں   پرباندھے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پیٹھ کرے دل میں   حضور انور صَلَوَاتُ اللّٰہِ  تَعَالٰی وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِ کا تصور باندھے کیونکہ یہ خیال تجھے خوشحال کردے گا اور خوب یقین کرلے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تیر ی حاضری وقیام و سلام بلکہ تمام افعال

عظمتہ وجلالتہ) صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلّم،  اھ ملخصاً۔

واَحوال اور منزل منزل کوچ و مقام سے آگاہ ہیں   اور یہ تصور کر کہ گویا حضور تیرے سامنے حاضر و تشریف فرماہیں   اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عظمت و جلال کا خیال اپنے ذہن میں   حاضر رکھ ۔‘‘

            {27}امام۲۷  ؎    مجدالدین ابو الفضل عبداﷲبن محمود موصلی اپنے متن ’’مختار‘‘ کی شرح ’’اختیار‘‘ میں   پھر سلطان اور نگزیب أَنَارَاللّٰہُ تَعَالٰی بُرْھَانَہٗ(اﷲتعالیٰ ان کی دلیل کو منور فرمائے) کی بلند بخت حکومت کے علماء نے’’ فتاویٰ عالمگیری ‘‘میں   فرمایا:

یقف کما یقف في الصلاۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البھیّۃ کأنّہ نائم في لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ۔

’’یعنی زائر روضۂ مُنَوَّرہ کے سامنے دَست بستہ (ہاتھ باندھے) با ادب یوں   کھڑا ہوجیسے نماز میں   کھڑا ہوتا ہے اورحضور اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی روشن صورتِ کریمہ کا تصور باندھے گویا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم مَرْقد ِاَطہر (قبر ِ منوَّر) میں   آرام فرما ہیں   زائر کو جانتے اور اس کا کلام سنتے ہیں  ۔‘‘

            امام اجل۲۸ ؎   قاضی عیاض  عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے ’’شفاء شریف ‘‘ میں   امام ابو ابراہیم تُجِیْبِی سے نقل فرمایا کہ وہ فرماتے ہیں  :

 



Total Pages: 27

Go To