Book Name:Naat khuwan aur Nazrana

نوٹیں لٹانے والوں کو دعوتِ فکر

            سب کے سامنے اُٹھ اُٹھ کر نوٹ پیش کرنے والا اپنے ضمیر پر لازِمی غور کر لے ، کہ اگر اُس سے کہا جائے :  سب کے سامنے با ر بار دینے کے بجائے نعت خواں کو چپکے سے اِکٹّھی رقم دے دیجئے کہ حدیث پاک میں ہے : ’’پوشیدہ عمل ، ظاہِری عمل سے 70گُنا افضل ہے  ۔ ‘‘(فردوس الاخبارج۳ ص۱۵۳ رقم ۴۲۴۸ دار الکتاب العربی) تو وہ چپ چاپ دینے کیلئے راضی ہوتا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ کیا اس لئے کہ ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں ہوگی ! اگر واہ واہ کی خواہِش ہے تو ریا کاری ہے اور ریا کاری کی تباہ کاری کا عالَم یہ ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :   جُبُّ الْحَزَنسے پناہ مانگو ۔  عرض کیا گیا  :   

 وہ کیا ہے ؟ فرمایا :  جہنَّم میں ایک وادی ہے کہ جہنَّم بھی ہر روز چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتا ہے اس میں قاری داخل ہوں گے جو اپنے اعمال میں ریا کرتے ہیں  ۔ ( اِبن ماجہ ج۱ص ۱۶۶حدیث ۲۵۶دار المعرفۃ بیروت)بَہَر حال دینے میں رِیا کاری پیدا ہوتی ہو تو رقم ضائع نہ کرے اور آخِرت بھی داؤ پر نہ لگائے ، نیز اگر نوٹ چلانے سے ’’ محفل گرم‘‘  ہوتی ہو یعنی نعت خواں کو جوش آتا ہو مَثَلاً نوٹ آنے کے سبب شعر کی بار بار تکرار، اُس کے ساتھ اضافۂ اشعار ، آواز بھی پہلے سے زور دار پائیں توبارہ بار سوچ لیں کہ کہیں اِخلاص رخصت نہ ہو گیاہو، پیسوں کے شوق میں پڑھنے والے کو دینا ثواب کے بجائے اس کی حرص کی تسکین کا ذریعہ بن سکتا ہے اس لئے دینے والوں کو بھی اس میں اِحتِیاط کرنی چاہیے اور نعت خواں کے اِخلاص کا خون کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ ہاں یہ یاد رہے کہ دیکھنے سننے والے کو کسی مُعَیَّن نعت خواں پر بدگمانی کی اِجازت نہیں  ۔

 نعت خوانی اوردنیوی کشش

            جہاں خوب نوٹ نچھاور ہوتے ہوں وہاں نعت خواں کا اہتِمام کے ساتھ جانا، اِختِتام تک رُکنا مگر غریبوں کے یہاں جانے سے کترانا ، حیلے بہانے بنانا، یا گئے بھی تو دُنیوی کشِش نہ ہونے کے سبب جلد لوٹ جانا سخت محرومی ہے اور ظاہر ہے کہ اِخلاص نہ رہا ۔  اگر پیسے ، کھانا یا اچّھی شیرینی ملنے کی وجہ سے مالدار کے یہاں جاتا ہے تو ثواب سے محروم ہے اور یہی کھانا اور شیرینی اس کا ثواب ہے ۔ یونہی غریبوں سے کترانا اور مالداروں کے سامنے بچھے بچھے جانا بھی دین کی تباہی کاسبب ہے منقول ہے :  ’’ جو کسی غنی (یعنی مالدار) کی اس کے غَنا(یعنی مالداری) کے سبب تَواضُع کرے اس کادو تہائی دین جاتا رہا ۔ ‘‘ (کشف الخفاء ج۲ ص ۲۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت) عَدَمِ شرکت (یعنی شریک نہ ہونے ) کے لئے جھوٹے حیلے بہانے بنانا مثَلاً تھکن و مرض وغیرہ نہ ہونے کے باوُجود ، میں تھکا ہوا ہوں ، طبیعت ٹھیک نہیں ، گلا خراب ہوگیا ہے وغیرہ زَبان یا اشارے سے کہنا ممنوع و ناجائز اور حرام ہے ۔  

ناجائز نذ رانہ دینی کام میں صَرْف کرنا کیسا؟

             اگر کوئی نعت خواں صَراحۃً یا دَلالۃً ملنے والی اُجرت یا رقم کا لفافہ لے کر مسجِد، مدرَسے یا کسی دینی کام میں صَرْف کر دے تب بھی اُجرت لینے کا گناہ دُور نہ ہوگا ۔  واجِب ہے کہ ایسا لفافہ یاتحفہ وغیرہ قَبول ہی نہ کرے ۔ اگر زندگی میں کبھی قَبو ل کر کے خود استِعمال کیا یا کسی نیک کام مَثَلاً مدرسے وغیرہ میں دے دیا ہے تو ضروری ہے کہ توبہ کرے اور جس جس سے جو لیا ہے اُس کو واپس لوٹائے ، وہ نہ رہے ہوں تو اُن کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ رہے ہوں یا یاد نہیں تو فقیر پر تصدُّق ( یعنی خیرات ) کرے  ۔ ہاں چاہے تو پیش کرنے والے کو صِرْف مشورہ دے دے ، کہ آپ اگر چاہیں تو یہ رقم خود ہی فُلاں نیک کام میں خرچ کر دیجئے ۔

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چادر  عطا فرمائی

   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی نعت شریف سُن کر سیِّدُنا امام شَرَفُ الدّین بُو صیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکوخواب میں ’’ بُردِ یَمانی‘‘ یعنی ’’یَمَنی چادر ‘‘ عنایت فرمائی اور بیدار ہونے پر وہ چادرمبارک اُن کے پاس موجود تھی ۔  اسی وجہ سے اس نعت شریف کا نام قصیدۂ بُردہ شریف مشہور ہوا  ۔ اگر اس واقِعے کو دلیل بنا کر کوئی کہے کہ نعت خوا ں کو نذرانہ دینا سنَّت اورقَبول کرنا تبُّرک ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاعطا فرمانا سر آنکھوں پر ۔ یقینا سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اقوال و افعالِ مبارَکہ عین شریعت ہیں ۔ مگر یاد رہے !سرکار ِ عالم مدار، شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بُردِ یَمانی عطا کرنے کا طے نہیں فرمایا تھا نہ ہی مَعاذاللّٰہ امام بُوصیری صیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِینے شَرْط رکھی تھی کہ چادر ملے تو پڑھوں گا بلکہ اُن کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بُردِیمانی عنایت ہو گی ۔  آج بھی اس کی تو اجازت ہی ہے کہ نہ اُجرت طے ہو اور نہ ہی دَلالۃً ثابِت( یعنی  UNDERSTOOD) ہواور نعت خواں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو ا ور اگر کوئی کروڑوں روپے دیدے تو یہ لینا دینا یقینا جائز ہے اور جس خوش نصیب کو سردارِ مکۂ مکرَّمہ ، سرکارِ مدینۂ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کچھ عطا فرما دیں ، خدا کی قسم ! اُس کی سَعادتوں کی معِراج ہے  ۔ اور رہا سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مانگنا، تو اس میں بھی کوئی مُضایَقہ نہیں اور اپنے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مانگنے میں نعت خواں و غیر نعت خواں کی کوئی قید بھی نہیں ، ہم تو انہیں کے ٹکڑوں پہ پل رہے ہیں  ۔ سرکارِ والا تبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عنایت نشان ہے :   اِنَّمَا اَنَا قاسِمٌ وَّاﷲُ یُعْطِیْ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا

   ہوں ۔ ( بُخاریج۱ص۴۳حدیث ۷۱دارالکتب العلمیۃ بیروت)

رب ہے مُعْطی یہ ہیں قاسِم                           رزْق اُس کاہے کھلاتے یہ ہیں

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا                                     پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں

نعت خواں اور کھانا

 



Total Pages: 7

Go To