Book Name:Waliullah Ki Pehchan

اور (قیامت کے دن)  عالم سے کہا جائے گا :  اپنے شاگردوں کی شفاعت کرو اگرچہ وہ آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں ۔([1])

سیِّدُالْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ دلنشین ہے :  جب قیامت کا دن ہو گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  عابدین اور مجاہدین سے فرمائے گا :  تم جنت میں داخل ہو جاؤ ، تو عُلَما عرض کریں گے :  ہمارے علم کی بدولت انہوں نے عبادت کی اور جہاد کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرمائے گا :  تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کی مانند ہو، تم شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، وہ شفاعت کریں گے پھر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔([2])

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں :  عُلَما بے گنتی لوگوں کی شَفاعت کریں گے حتّٰی کہ عالم کے ساتھ جن لو گوں کو کچھ بھی تَعلُّق ہو گا اُس کی شَفاعت کریں گے ۔ کوئی کہے گا :  میں نے وضو کے لیے پانی دیا تھا، کوئی کہے گا :  میں نے فُلاں کام کر دیا تھا۔([3])

                                                مسجد میں درس کی اجازت نہ ہوتو؟

عرض : اگر کسی مسجد میں درس کی اجازت نہ ہو تو کیا کریں؟

ارشا د  :  اگر کسی مسجد میں درس وبیان کرنے  کی اجازت نہ ہو تو مسجد کی انتظامیہ پر انفرادی کوشش یا علاقے کی شخصیات وغیرہ کے ذریعے اِجازت لینے کی کوشش کی جائے۔ اگر اِس طرح بھی اِجازت نہ ملے تو مسجد سے باہر دروازے  پر درس وبیان کی ترکیب بنا لی جائے۔ اگر کوئی  پوچھے  کہ مسجد کے اندر درس کیوں نہیں دیتے؟ تو مسجد کی انتظامیہ کی مخالفت کیے بغیر اِنتہائی نرمی کے ساتھ یہ عرض کر دیجیے کہ ’’مسجد میں درس کی اِجازت نہیں، اس لیے ہم باہر درس دے رہے ہیں“ اس سے زائد کچھ مت کہیے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی صاحبِ درد خود ہی آپ کو مسجد میں درس کی اجازت دِلوا دے۔

بیرونِ ممالک میں مدنی کام مضبوط کرنے کا طریقہ

عرض :  پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں مدنی کام کیسے مضبوط کیا جائے؟

ارشا د  :  صحیح بات تو یہ ہے کہ ’’ کام، کام سکھاتا ہے“ جب آپ کسی بھی جگہ محنت ولگن اور اِستقامت کے ساتھ مدنی کام کرتے رہیں گے تو آپ کے ذِہن میں خود بخود مدنی کام بڑھانے اور مضبوط کرنے  کی نئی نئی ترکیبیں آتی رہیں گی۔ دوسرے  مُمالِک میں مدنی کا م بڑھانے اور  مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے ’’مقامی لوگوں ‘‘ میں کام کیا جائے کہ اگر آپ وہاں صرف پاکستانیوں یا ہندوستانیوں ہی پر کوشش کرتے رہیں گے تو صحیح معنوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے کیونکہ یہ وہاں اَقلیت میں ہوتے ہیں اور اقلیت کی نسبت مقامی آبادی کی اَہمیت اور اَثر و رُسوخ زیادہ ہو تا ہے۔ تربیتی  اجتماعات وغیرہ  کے موقع پر  ان ممالک سے جو قافلے تشریف لاتے ہیں ان میں وہاں کے مقامی (Native) اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ لانے کی کوشش کی جائے تاکہ ان کی صحیح اسلامی اُصولوں کے مطابق  تربیت ہو اور وہ اپنے ممالک میں جا کر دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچا سکیں۔

اکثرزیتون مبارک کھانے کی وجہ

عرض : آپ کو دستر خوان پر بارہا زیتون استعمال کرتے  دیکھا گیا ہے اور آپ اس کے بیج بھی پھینکنے  سے منع فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

ارشا د  :  میں زَیتون شریف کو تَبَرُّکا ًاستعمال کرتا ہوں اور اس کے بیج کو ادب کی وجہ سے نہیں پھینکتا  کیونکہ زیتون ایک مُقّدس  دَرَخت ہے جس کے بارے میں پارہ 18 سورۃُ النور کی آیت نمبر 35 میں ارشا د  ہوتا ہے :

شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ

ترجَمۂ کنزُالایمان :  بَرَکت والے  پَیڑ زیتون سے۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت حضرتِ سَیِّدُنا احمد بن محمد صاوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  زیتون شریف کے لیے ستَّر اَنبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام  نے بَرَکت کی دُعا فرمائی ہے، جن میں  حضرتِ سیِّدُنا ابراہیمخلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلکہ خود سیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رَحْمَۃٌ  لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی شامل ہیں۔([4])

اِسیآیتِ مُبارَکہ کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے :  اس کے پھل کو ’’ زَیْتُون‘‘  اور تیل کو’’ زَیْت‘‘ کہتے ہیں۔ طوفانِ نوح  کے بعد سب سے پہلا دَرَخت کوہِ طُور پر زیتون شریف کا اُگا  (جہاں حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ربُّ الانام  عَزَّ وَجَلَّ  سے ہم کلام ہوئے)۔بعض عُلَما فرماتے ہیں :  تین ہزار سال تک یہ درخت باقی رہتا ہے۔([5]) اس کے تیل سے چَراغ روشن کیے جاتے ہیں اور بطورِ تیل بھی اِستعمال کیا جاتا ہے جو کہ تیلوں میں سب سے زیادہ شفّاف اور روشنی دینے والا ہے اور اس کے پتّے نہیں جَھڑتے۔ ([6])

محترم نبی، مکّی مَدَنی، محبوبِ ربِّ غنیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :  روغنِ زیتون کھاؤ بھی اور  لگاؤ  بھی  کہ یہ مبارَک دَرَخت سے ہے۔ ([7]) اَطِبّاء کا قول ہے :  زَیْتُون کا تیل روزانہ پچیس گرام کھانے سے پُرانی قبض دُور ہوتی ہے ، زَیْتُون کا اَچار  بھُوک کو بڑھاتا ہے اور قبض کُشا  ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیتون کا تیل گندے کو لیسٹرول کو دُور کرتا ہے۔ زیتون شریف کا



[1]       فِرْدوسُ الاخبار، باب الیاء، فصل فی تفسیرآی من...الخ، ۲/۵۰۳، حدیث : ۸۵۱۷، ماخوذاً

[2]                      اِحیاءُالعلوم، کتاب العلم، الباب الاول، فضیلة التعلیم، ۱/۲۶

[3]       ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۹۲

[4]                تفسیرِصاوی، پ۱۸، النور ، تحت الآية ۳۵، ۴/۱۴۰۵

[5]                   تفسیرِخازِن ، پ۱۸، المؤمنون، تحت الآیة۲۰، ۳/۳۲۳، ملتقطاً

[6]       تفسیرِخازِن، پ۱۸، النور، تحت الآیة۳، ۳/۳۵۳۔۳۵۴، ملتقطاً

[7]     تِرمِذی، کتاب الأطعمة، باب ما جاء فی اکل الزَّیت، ۳/۳۳۶۔۳۳۷، حدیث : ۱۸۵۸



Total Pages: 8

Go To