Book Name:Waliullah Ki Pehchan

حضرت ِ سَیِّدُنا امام شافعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   فرماتے ہیں : اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا۔یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علمِ ظاہر نہیں رکھتا علمِ باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہے۔“ ([1])

کیا ولی کو اپنی وِلایت کا علم ہوتا ہے؟

عرض : ولی کو اپنی ولایت(یعنی ولی ہونے) کا علم ہو تا ہے یا نہیں؟

ارشا د  :  اس بارے میں عُلمائے  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کا اِختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک علم ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک نہیں ہوتا۔ ([2])

حافظِ قرآن کتنوں کی شَفاعت کرے گا؟

عرض : حافِظ کتنے افراد کی شَفاعت کرے گا اور اس کے والدین کو کیا اَجْر ملے گا؟

ارشا د  :  باعمل  حافظِ قرآن قیامت کے دن اپنے خاندان کے دس اَفراد کی شَفاعت کرے گا اور اس کے والِدین کو ایسا نورانی تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی  ہو گی چنانچہ اَمیرُالْمُؤمنِین حضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات، مولا مشکل کشا، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشا د  فرمایا :  جس نے قرآن پڑھا اور اس کو یاد کر لیا، اس کے حلال کو حلال سمجھا اور حرام کو حرام جانا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے داخلِ جنّت فرمائے گا اور اس کے گھر والوں میں سے دس شخصوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا، جن پر جہنَّم واجب ہوچکا تھا۔([3])

حضرتِسیِّدُنا مُعاذ جُہَنِّیرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ بے چین دلوں کے چَین، رحمتِ دارین، نانائے حَسَنَینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والِدین کو قِیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج سے اچھی ہے اگر وہ (سورج) تمہارے گھروں میں ہوتا ، تو اب خود اس عمل کرنے والے کے متعلِّق تمہارا کیا گمان ہے۔([4])

حافظِ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا جا اور جنّت کے دَرَجات طے کرتا جا چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ نبیوں کے سُلطَان، رحمتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :  قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور (جنّت کے دَرَجات) طے کرتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تُو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا تُو جہاں آخِری آیت پڑھے گا وہیں تیرا ٹھکانہ ہوگا۔([5])

حضرتِ سیِّدُ ناابوسلیما ن خطابیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْوَلِی فرماتے ہیں :  رِوایات میں آیا ہے کہ قرآن کی آیتوں کی تعداد جنّت کے دَرَجات کے برابر ہے لہٰذا قاری سے کہا جائے گا کہ تو جتنی آیتیں پڑ ھ سکتا ہے اُتنے دَرَجے طے کرتا جا تو جو اُس وقت پورا قرآنِ پاک پڑھ لے گا وہ جنّت کے اِنتِہائی(سب سے آخری)درجے کو پالے گا اور جس نے قرآن کا کوئی جُز(حصہ) پڑھا تو اُس کے ثواب کی اِنتہا  قراء ت کی اِنتِہا تک ہوگی۔ ([6])

میٹھے میٹھے اسلا می بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  تبلیغِ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’دعو تِ اسلامی ‘‘کے بے شمار مَدارِس بنام ’’مَدرسۃُ الْمَدِیْنَہ‘‘ قائم ہیں جِن میں مَدَنی مُنّوں اور مَدَنی مُنّیوں کو قرآنِ پاک حِفظ و ناظِرہ کی مُفت تعلیم دی جاتی ہے۔ نیز بالِغان کے لیے  عُموماً بعد نَمازِ عشا ”مَدرسۃُ الْمَدِیْنَہ  برائے بالغان“ کا بھی اہتمام ہوتا ہے جس میں بڑی عمر کے اسلامی بھائیوں کو حروف کی صحیح ادائیگی کیساتھ قرآنِ پاک پڑھنا سکھایا جاتا ہے  نیز  سنّتوں کی تربیّت بھی دی جاتی ہے۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے  مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ  قرآنِ پاک سیکھنے سکھانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا ذہن بنے گا۔

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے

ہمارا شوق سے قرآن پڑھنا کام ہو جائے

عالِم کتنے افراد کی شَفاعت کرے گا؟

عرض : عالِم کتنے افراد کی شَفاعت کرے گا؟

ارشا د  :  قیامت کے دن عُلَما بے حساب لوگوں کی شَفاعت کریں گے۔ حضرتِ سیِّدُنا عُثمان بن عَفَّانرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شَفاعت نشان ہے : قیامت کے دن تین گروہ شَفاعت کریں گے :  انبیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پھر عُلَما پھر شُہَدا ۔([7])

سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے :  جس نے کسی عالم کی زیارت کی گویا اُس نے میری زیارت کی اور جس نے عُلَما سے مصافحہ کیا گویا اُس نے مجھ سے مصافحہ کیا



[1]                فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۵۳۰، ملخصاً

[2]         رسالهٔ  قُشَیْرِية، فصل فی بیان عقائدھم...الخ، باب کرامات الاولیاء، ص ۳۷۹

[3]       تِرمِذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل..الخ، ۴/۴۱۴، حدیث :  ۲۹۱۴

[4]       اَبُو داود، کتاب الوتر، باب فی ثواب قراءة القرآن، ۲/۱۰۰، حدیث :  ۱۴۵۳

[5]                    اَبُوداود، کتاب الوتر، باب  استحباب الترتیل فی القراءة ، ۲/۱۰۴، حد یث : ۱۴۶۴

[6]       مَعالِمُ السُّنَن، ۱/۲۵۱

[7]       اِبْنِ ماجَہ، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعة، ۴/۵۲۶، حدیث : ۴۳۱۳



Total Pages: 8

Go To