Book Name:Waliullah Ki Pehchan

کتبِ سيرت وتصوف میں اَولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ مَجاذِیب کا ذِکرِ خیر بھی ملتا ہے۔ ان کی عَظَمت و رِفْعَت کو صُوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُالسَّلَام نے تسلیم کیا ہے۔ بعض لوگ پیدائشی مَجْذوب ہوتے ہیں، بعض پر روحانی مَنازِل طے کرتے ہوئے کسی مرحلے پر جَذب کی کیفیّت طاری ہوجاتی ہے اور کچھ نُفوسِ قُدسیّہ غلَبۂ شوق اور وُفورِ عشق سے زندگی کے آخری سالوں میں عالَمِ اِسْتِغْراق میں چلے جاتے ہیں۔

سچّے مَجْذوب کی پہچان

عرض : سچّے مَجْذوب کی پہچان کیا ہے؟

ارشا د  :  سچّے مَجْذوب کی پہچان یہ  ہے کہ اگر اس پر شرعی اَحکام پیش کیے جائیں تو ہوش میں نہ ہونے کے باوجود وہ  انہیں ردّ کرے گا اور نہ ہی  چیلنج کرے گا جیسا کہ میرے آقائے نعمت ، اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  سچّے مَجْذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعتِ مُطَہَّرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرے گا۔([1])

ظاہری اور باطنی شریعت کی حقیقت

عرض : بعض لوگ اپنے آپ کو مَجْذوب یا فقیر کا نام دے کر، خلافِ شَریعت کاموں کو مَعَاذَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنے لیے  جائز قرار دیتے ہوئے  کہتے ہیں کہ یہ طریقت کا معاملہ ہے، یہ تو فقیری لائن ہے ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ پھر اگر ان سے نماز پڑھنے کو کہا جائے تو مَعَاذَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کہتے ہیں کہ یہ ظاہری شریعت ، ظاہری لوگوں کے لیے ہے ، ہم باطنی اَجسام کے ساتھ خانہ کعبہ یا مدینے میں نماز پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

ارشا د  :  شریعت چھوڑ کر خلافِ شرع کاموں کو طریقت یا فقیری لائن قرار دینا یا طریقت کو شریعت سے جُدا خیال کرنا یقیناً گمراہی ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  شریعت اور طریقت کے باہمی تعلق کو یوں بیان فرماتے ہیں :  شریعَت مَنْبَع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا ہے۔ عُموماً کسی مَنْبَع یعنی پانی نکلنے کی جگہ سے اگر دریا بہتا ہو تو اسے زمینوں کو سیراب کرنے میں مَنْبَع کی حاجت نہیں ہوتی لیکن شریعَت وہ مَنْبَع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی حاجت ہے کہ اگر شریعَت کے مَنْبَع سے طریقت کے دریا کا تَعلُّق ٹوٹ جائے، تو صرف یہی نہیں کہ آئندہ کے لیے اس میں پانی نہیں آئے گا بلکہ یہ تَعلُّق ٹوٹتے ہی دریائے طریقت فوراً  فنا ہو جائے گا۔([2])

صَدْرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ  حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  طریقت منافی ٔشریعت(یعنی شریعت کے خلاف) نہیں وہ شریعت ہی کا باطنی حصہ ہے، بعض جاہل متصوِّف جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ طریقت اور ہے شریعت اور، محض گمراہی ہے اور اس زُعمِ باطل(غَلَط خیال) کے باعث اپنے آپ کو شریعت سے آزاد سمجھنا صریح کُفر و اِلْحاد (کفر وبے دینی ہے)۔ احکامِ شرعیہ کی پابندی سے کوئی ولی کیسا ہی عظیم ہو سُبکدوش نہیں ہو سکتا۔ بعض جُہّال جو یہ بک دیتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے ، راستہ کی حاجت ان کو جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں، ہم تو پہنچ گئے۔ سیِّدُ الطائفہ حضرت جُنید بغدادیرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُ  نے انہیں فرمایا :  ”صَدَقُوْا لَقَدْ وَصَلُوْا، وَلٰکِنْ اِلٰی اَیْنَ؟اِلَی النَّارِ وہ سچ کہتے ہیں بیشک پہنچے، مگر کہاں ؟ جہنم کو۔“ ([3]) البتہ اگر مَجْذوبیت سے عقلِ تکلیفی زائِل ہو گئی ہو جیسےغشی والا تو اس سے قلمِ شریعت اُٹھ جائے گا مگر یہ بھی سمجھ لو جو اس قسم کا ہو گا اس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی، شریعت کا مقابلہ کبھی نہ کرے گا۔([4])

کیا ولی کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرسکتا ہے ؟

عرض : کیا ولی کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کر سکتا ہے ؟

ارشا د  :  گناہوں سے مَعصُوم ہونا صرف اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  اور فرشتوں  کا خاصہ ہے کہ حفظِ الٰہی کے وعدے  کے سبب ان سے گناہوں کا صادِر ہونا شرعاً محال ہے، ان کے علاوہ سے گناہ کا صادِر ہونا محال نہیں لیکن اللہ  عَزَّوَجَلَّ     اپنی رحمت سے اپنے اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے چنانچہ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں :  نبی کا مَعْصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عِصْمت نبی اور مَلَک(فرشتہ)کا خاصہ ہے کہ نبی اور فِرِشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں، اِماموں کو اَنبیاء(عَلَیْہِمُ السَّلَام)کی طرح مَعْصوم سمجھنا  گمراہی و بد دِینی ہے۔ عِصمتِ اَنبیاء کے یہ معنیٰ ہیں کہ ان کے لئے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سَبَب ان سے صُدورِ گناہ شرعاً محال ہے بخلاف ائمہ و اکابر اولیاء (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی)کے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  انہیں محفوظ رکھتا ہے، ان سے گناہ ہوتا نہیں مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔([5])

وِلایت بے علم کو نہیں ملتی

عرض : کیا ولی کا عالم ہو نا شرط ہے ؟

ارشا د  :  دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  1360صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت (جلد اوّل) صَفْحَہ 264 پر ہے : ”وِلایت بے علم کو نہیں ملتی ، خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو ، یا اس مرتبہ پر پَہُنچنے سے پیشتر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اس پر عُلُوم  مُنکشِف (ظاہر) کر دیئے ہوں ۔“

اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ”حاشا! نہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں۔حضرتِ علّامہ عبدُالرَّءُوف مَناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی شرح جامع صغیر میں اور  عَارِف بِاللہ سید عبدالغنی نابلسیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں کہ  امام مالک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الخَالِق نے  فرمایا :  علمِ باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علمِ ظاہر جانتا ہے۔

 



[1]     ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۲۷۸

[2]      فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۵۲۵، ملخّصاً

[3]                          الیواقیت والجواہر، الفصل الرابع، المبحث السادس والعشرون، باختلاف بعض الالفاظ، ص۲۰۶

[4]                بہارِ شریعت، حصہ اوّل، ۱/۲۶۵۔۲۶۷

[5]      بہارِشَریعت، حصہ اوّل، ۱/۳۸-۳۹



Total Pages: 8

Go To