Book Name:Waliullah Ki Pehchan

خَربوزے فروخت کرتے ہیں۔ پوچھنے والے صاحِب اُن کے پاس پہنچے اور خربوزے کاٹ کاٹ کر اور چکھ چکھ کر سب ناپسند کر کے ٹوکرے میں رکھ دیئے ۔ اِس قَدَر نقصان کر دینے والے کو بھی وہ کچھ نہیں بولے۔ کچھ عرصے کے بعد دیکھا کہ انتِظام بِالکل دُرُست ہے اور حالات بدل گئے ہیں تو اُسی شخص نے پھر پوچھا  کہ آج کل کون ہیں؟ شاہ صاحِب نے فرمایا :  ایک سَقّا ہیں جو چاندنی چوک میں پانی پلاتے ہیں مگر ایک گلاس کی ایک چَھدام( چَھدام ان دنوں سب سے چھوٹا سکّہ تھا یعنی ایک پیسے کاچوتھائی حصّہ) لیتے ہیں۔یہ ایک چَھدام لے گئے اور ان کو دے کر ان سے پانی مانگا۔ اُنہوں نے پانی دیا انہوں نے پانی گرا دیا اور دوسرا گلاس مانگا۔ اُنہوں نے پوچھا اور چَھدام ہے؟ کہا :  نہیں۔ اُنہوں نے ایک دَھول( چانٹا) رَسید کیا اور کہا خربوزہ والا سمجھا ہے؟([1])

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو، آمین۔

کرامت کی تعریف

عرض : کَرامت کسے کہتے ہیں ؟

ارشا د  : عَارِف بِاللہ ، ناصِحُ الْا ُمَّہ حضرتِ سیِّدُنا امام عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کرامت کی تعریف یوں فرماتے ہیں : کرامت سے مُراد وہ خلافِ عادت اَمرہے جس کاظہورتحدی(چیلنج) ومقابلہ کے لیے نہ ہواوروہ ایسے بندے کے ہاتھ پر ظاہر ہو جس کی نیک نامی مشہورو ظاہر ہو ، وہ اپنے نبی کامتبع (پیروی کرنے والا)، درست عقیدہ رکھنے والااورنیک عمل کا پابند ہو۔([2])

ياد ركھیے !نبی سے جو بات خلافِ عادت قبل(اعلانِ)نبوّت ظاہر ہو اُس کو اِرْہاص(اور اعلانِ نبوت کے بعد ظاہر ہوتو اسے معجزہ ) کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادِر ہواس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادِر ہو اُسے مَعُوْنَت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کفّار سے جو اُن کے موافق ظاہر ہو اُس کو اِسْتِدْراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہر ہو تو اِہانت ہے۔([3])

کرامَت اورمعجزہ میں فرق

عرض :  معجزہ اور کرامت میں کیا فرق ہے؟

ارشا د  :  معجزہ اور کرامت میں  فرق بیان کرتے ہوئے حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو بکر بن فورکرَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  انبیائے  کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر تو معجزات ظاہر کرنا لازم ہو تا ہے جبکہ ولی کے لیے کرامات چُھپانا ضروری ہوتا ہے۔ پھر  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا نبی اس کے معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کو یقینی صورت میں پیش کرتا ہے جبکہ ولی کرامت کا دعویٰ نہیں کرتا اور نہ اسے قطعی طور پر پیش کرتا ہے کیونکہ وہ مَکْر(دھوکا) بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

فنِ تَصوُّف کے یگانۂ روز گار حضرتِ سَیِّدُنا قا ضی ابو بکر اَشعریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : معجزات صرف انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ خاص ہیں جبکہ کرامات ایک ولی سے صادر ہوتی ہیں جس طرح  انبیائے  کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے معجزات صادِر ہو تے ہیں مگر ولی سے معجزہ کا وقوع ممکن نہیں ہوتا کیونکہ معجزہ کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ دعویٔ نبوت بھی ہو جبکہ کوئی ولی نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا لہٰذا اس سے جو کچھ ظاہر ہو گا معجزہ نہیں کہلائے گا۔([4])

حضرتِ علّامہ مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں :    معجزہ اورکرامت میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہرولی کے ليے کرامت کا  ہونا ضروری نہیں ہے مگرہر نبی کے لیے معجزہ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ولی کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنی وِلایت کا اِعلان کرے یااپنی ولایت کا ثبوت دے  بلکہ ولی کے ليے تو یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ خود بھی جانے کہ میں ولی ہوں  چنانچہ یہی و جہ ہے کہ بہت سے اَولیاءُ اللہ ایسے بھی ہوئے کہ ان کو اپنے بارے میں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ ولی ہیں بلکہ دوسرے اولیاءِ کرام نے اپنے کشف وکرامت سے ان کی ولایت کو جانا پہچانا اوران کے ولی ہونے کا چرچا کیا مگر نبی کے ليے اپنی نبوت کا اِثبات ضروری ہے اورچونکہ انسانوں کے سامنے نبوت کا اِثبات بغیرمعجزہ دکھائے ہونہیں سکتا، اس لیے ہر نبی کے ليے معجزہ کا ہونا ضروری اورلازمی ہے ۔([5])

اِستقامت کرامت سے بڑھ کر ہے

عرض : کیا ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا ضروری ہے؟

ارشا د  :  ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا ضروری نہیں جیسا کہ ابھی معجزے اور کرامت کے فرق میں بیان ہوا اور نہ ہی یہ ضروری ہے  کہ جو کرامت ایک ولی سے صادِر ہو وہی دوسرے اولیا سے بھی ظاہر ہو۔ یاد رکھیے! اصل کرامت، شریعت وسنَّت پر اِستقامت کے ساتھ عمل کرنا ہے جو جتنا زیاہ شریعت و سنَّت  کا پابند ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ  باکرامت ہو گا چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ ابوالقاسم گرگانیقُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں :  پانی پر چلنا، ہوا میں اُڑنا  اور غیب کی خبریں دینا  کرامت نہیں  بلکہ کرامت یہ ہے کہ وہ شخص سراپا اَمْر بن جائے یعنی شریعت کا مطیع و فرماں پذیر ہوجائے اس طرح کہ اس سے حرام کا صدور نہ ہو۔([6])

حضرتِسَیِّدُناابو یزید بِسْطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامیفرماتے ہیں :  اگر تم دیکھو کہ کسی  شخص کو یہاں تک کرامات دی گئی ہیں کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے تو اس کے دھوکے میں نہ آؤ یہاں تک کہ دیکھو کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَمْر ونہی وحِفْظِ حُدود اور اَدائے شریعت میں کیسا ہے(یعنی اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کا حکم دیا ہے اُن پر عمل کرتا ہے یا نہیں اور جن باتوں سے منع کیا ہے اُن سے باز رہتا ہے یا نہیں ، نیز شریعت



[1]     سچی حکایات، حصہ سوم، ص ۲۰۲تا ۲۰۳

[2]     حدیقة ندیة، الباب الثانی، الفصل الاوّل فی تصحیح الاعتقاد، ۱/۲۹۲

[3]      بہارِ شریعت ، حصہ اوّل، ۱/۵۸

[4]         رسالهٔ  قُشَیْرِية، فصل فی بیان عقائدھم..الخ، باب کرامات الاولیاء، ص ۳۷۹ ، ملخّصاً

[5]       کراماتِ صحابہ ، ص۳۸

[6]                    کیمیائے سعادت ، رکنِ سوم مہلکات، اصل دھم ، ۲/۷۴۹



Total Pages: 8

Go To