Book Name:Dus Aqeeday

نام ان کا ہر جگہ نامِ الٰہی کے برابر، اَعْنِیْ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن اَکرَمُ الْاَوَّلِینَ وَالآخِرِین قَائِدُ الغُرِّ المُحَجَّلِیْن سِرُّ اللّٰہِ الْمَکْنُوْن دُرُّ اللّٰہِ الْمخْزُوْن، سُرُوْرُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن، عَالِمُ مَا کَانَ وَ مَا سَیَکُوْنُ تَاجُ الْاَتْقِیَاء، نَبِیُّ الْاَنْبِیَائ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَصَحبِہٖ اَجمَعِین وَ بَارَکَ وَسَلَّمَ اِلٰی یَومِ الدِّین۔بَاِیں   ہَمَہ خدا کے بندہ و  محتاج ہیں   ، حَاشَ لِلّٰہِ کہ عَیْنِیَّت یا مِثْلِیَّت کا گمان کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے!

             خزانۂ قدرت میں   ممکن کے لیے جو کمالات مُتَصَوَّر تھے سب پائے، کہ دوسرے کو ہَم عِنانی کی مجال نہیں  ، مگر دائرۂ عبدیت واِفْتِقار سے قدم نہ بڑھا نہ بڑھ سکے، اَلْعَظَمَۃُ لِلّٰہِ، خدائے تعالیٰ سے ذات و صفات میں   مشابہت کیسی۔

             نَعْماء خداوندی کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسے پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں   کہ جو شکر کریں   وہ بھی نعمت آخَر، مُوجِبِ شکر دیگر، ِالٰی مَالَانِھَایَۃَ لَہٗ، نِعَم واَفضالِ خداوندی غیر متناہی ہیں  ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: { وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى مرتبہ {قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی} کا پایا قسم کھانے کو فرق کا نام رہ گیا۔ دِیدارِ اِلٰہی بچشمِ سَر دیکھا کلامِ الٰہی بے وَاسِطہ سُنا (امکان و وُجوب و قِدم و حُدُوث کی کمانیں   مل گئیں  )مَحمِلِ لیلیٰ کروڑوں   منزل سے کروڑوں   منزل خِرَدْ خُردَہ میں   دَنگ ہے، نیا سماں   ہے نیا رنگ ہے قُربْ میں   بُعْد، بُعْد میں   قُربْ، وَصْل میں   ہِجْر،   ہِجْر میں   وَصْل، گَوہر شِنَاوَر دریا مگر صَدَف نے وہ پردہ ڈال رکھا ہے کہ نَم سے آشنا نہیں  ۔ اے جاہل ناداں  ! علم کو علم والے پر چھوڑ، اور اس میدان دشوارِ جولان سے سَمَنْدِبیان کی عِنان موڑ۔ زبان بند ہے پر اتنا کہتے ہیں   کہ خَلْق کے آقا ہیں  ، خالق کے بندے۔ عبادت ان کی کُفْر اور بے اِن کی تعظیم کے حَبْط، اِیمان اِن کی محبت و عظمت کا نام اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نامِ خدا کے ساتھ ان کے نام پر تمام۔وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ الْاَنَامِ وَ الْاٰلِ وَ الْاَصْحَابِ عَلَی الدَّوَامِ۔

عقیدۂ ثالثہ:

صدر نشینانِ بزمِ عِزّ وجاہ

            اس جناب عرش قِباب کے بعد مرتبہ اَور انبیاء و مرسلین کا ہے صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کہ باہم ان میں   تَفَاضُل مگر ان کا غیر، گو کسی مرتبۂ ولایت تک پہنچے، فرشتہ ہو خواہ آدمی، صحابی ہو خواہ اہل بیت، ان کے درجے تک وُصول محال، جو قربِ الٰہی اُنہیں   حاصل، کوئی اس تک فائز نہیں  ، اور جیسے یہ خدا کے محبوب، دوسرا ہرگز نہیں  ، یہ وہ صدر نشینانِ بزم عزوجاہ ہیں   کہ ربّ العالمین تبارک وتعالیٰ خود اُن کے مولیٰ و سردار کو حکم فرماتا ہے: { اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ} یہ وہ ہیں   جنہیں   خدا نے راہ دکھائی تو تو اِن کی پیروی کر! اور فرماتا ہے: { اِتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ} ’’تو پیروی کر شریعت ِابراہیم کی جو سب ادیانِ باطلہ سے کِنارہ کَش ہو کر دین ِحق کی طرف جھک آیا۔

             ان کی اَدنیٰ توہین مثل سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کفر ِقطعی، اور کسی کی نسبت، صدیق ہوں   خواہ مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اِن کی خَادِمی وَ غَاشِیَہ بَرْدَاری سے بڑھا کر دعویٔ ہَمْسَرِی محض بے دینی، جس نگاہِ اِجلال و توقیر سے اُنہیں   دیکھنا فرض حاشا کہ اس کے سَو حصے سے ایک حصہ دوسرے کو دیکھیں  ، آخر نہ دیکھا کہ صدیق و مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جس سرکارِ ا بد ِقرار کے غلام ہیں  ، اُسی کو حکم ہوتا ہے: ان کی راہ پر چل اور اُن کی اِقتداء سے نہ نکل۔

عقیدہ ٔرابعہ:

اعلٰی طبقہ،ملائکہ مقربین

            اِن کے بعد اَعلیٰ طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے مِثْل ساداتِنا وموالِینا جبرائیل و میکائیل واسرافیل وعزرائیل وحَمَلَۂ عرشِ جلیل، صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ۔ اِن کے عُلُوِّ شان وَ رِفعتِ مکان کو بھی کوئی ولی نہیں   پہنچتا اور ان کی جناب میں   گستاخی کا بھی بِعَیْنِہٖ وہی حکم۔

            جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام’’مِنْ وَجْہٍ‘‘رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے استاذ ہیں  ۔ قَالَ تَعَالٰی: {عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوٰی} پھر وہ کسی کے شاگرد کیا ہوں   گے جسے اِن کا استاذ بنائے، اسے سرور عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ’’اُستاذ ُالاستاذ‘‘ ٹھہرائیے، یہ وہی ہیں   جنہیں   حق تبارک و تعالیٰ رسولِ کریم مکینِ اَمین فرماتا ہے: نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سوا دوسرے کے خادم نہیں   اَکابر صحابہ و اَعَاظِم اَولیاء کو اگر ان کی خدمت ملے دو جہاں   کی فخر و سعادت جانیں  ، پھر یہ کس کے خدمت گار یا غَاشِیَہ بَردَار ہوں   گے!

عقیدۂ خامسہ :

اصحاب سیّد المرسلین و اہلِ بیت کرام

            ان کے بعد اَصحابِ سیِّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ہیں   اور اُنہیں   میں   حضرت بَتُول، جگر پارۂ رسول، خاتونِ جہاں  ، بانویٔ جِناں  ، سیدۃُ النِّسَاء فا طِمہ زَہرا اور اس دو جہاں   کی آقا زادی کے دونوں   شہزادے، عرش کی آنکھ کے دونوں   تارے، چرخِ     سِیادت کے مَہ پارے، باغِ تَطْہِیر کے پیارے پھول، دونوں   قرۃُالعینِ رسول، اِمامین کَرِیمَین سَعِیدَین شَہِیدَین تَقِیَّیْن نَقِیَّیْن نَیِّرَین طاہِرَین ابو محمد حسن و ابوعبداللّٰہ حسین، اور تمام مادَرانِ اُمت، بانْوَانِ رسالت عَلَی الْمُصْطَفٰی وَعَلَیْہِمْ کُلُّہُمُ الصَّلَاۃُ



Total Pages: 62

Go To