Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

ہر گز جائز نہیں، اس کا کھانا صَراحۃً حَرام کھانا ہے  ۔ اس پر واجِب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپَس دے ، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارِثوں کو پھیرے ، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پر تصدُّق کرے اور آیَنْدَہ اس حَرام خوری سے توبہ کرے تو گناہ سے پاک ہو ۔ اوّل تو سیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر ِپاک خود عمدہ طاعات واَجَلّ عِبادات سے ہے اور طَاعَت و عِبَادَت پر فیس لینی حَرام   ۔   ثانِیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شِعْر خوانی وزَمْزمہ سَنْجی (یعنی راگ اور تَرَنُّم سے پڑھنے )کی فیس لیتا ہے یہ بھی مَحْض حَرام ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : گانا اور اَشعار پڑھنا ایسے اَعمال ہیں کہ ان میں کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں ۔ )[1](

طے نہ کیا ہوتو

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ بات آئے کہ یہ فتویٰ تو اُن کیلئے ہے جو پہلے سے طے کر لیتی ہیں، ہم تو طے نہیں کرتیں ، جو کچھ ملتا ہے وہ تَبَـرُّکاً لے لیتی ہیں، اس لئے ہمارے لئے جائز ہے  ۔  اُن کی خِدْمَت میں سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک اور فتویٰ حاضِر ہے ، سمجھ میں نہ آئے تو تین۳ بار پڑھ لیجئے : تلاوتِ قرآنِ عظیم بغرضِ اِیصالِ ثواب وذِکْر شریف میلادِ پاک حُضُور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضَر ور مِنْجملہ عِبادات و طَاعَت ہیں تو ان پر اِجارہ بھی ضَرور حَرام ومَحْذور (یعنی ناجائز) ۔ اور اِجارہ جس طرح صَریح عَقْدِ زَبان (یعنی واضِح قول و قَرار) سے ہوتا ہے ، عُرفاً شَرْطِ مَعْرُوف ومَعْہُود ( یعنی رائج شدہ انداز ) سے بھی ہوجاتا ہے مَثَلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دیناہوگا(اور)وہ (پڑھنے والے بھی)سمجھ رہے ہیں کہ ’’کچھ ‘‘ملے گا، اُنہوں نے اس طور پر پڑھا ، اِنہوں نے اس نیَّت سے پڑھوایا ، اِجارہ ہوگیا، اور اب دو۲ وجہ سے حَرام ہوا، ایک تو طَاعَت(یعنی عِبَادَت)پر اِجارہ یہ خود حَرام، دوسرے اُجْرَت اگر عُرفاً مُعَیَّن نہیں تو اس کی جَہالَت سے اِجارہ فاسِد ، یہ دُوسْرا حَرام ۔ [2]لینے والا اور دینے والا دَونوں گنہگار ہوں گے ۔ [3]اِس مُبارَک فتوے سے روزِ روشن کی طرح ظاہِر ہو گیا کہ صاف لفظوں میں طے نہ بھی ہو تب بھی جہاں Understood ہو کہ چَل کر مَـحْفِل میں قرآنِ پاک، آیَتِ کریمہ، دُرُود شریف یا نعت شریف  پڑھتے ہیں،  کچھ نہ کچھ ملے گا رَقَم نہ سہی’’ سوٹ پیس‘‘وغیرہ کا تحفہ ہی مل جائے گا اور مَـحْفِل کروانے والی بھی جانتی ہے کہ پڑھنے والی  کو کچھ نہ کچھ دینا ہی ہے ۔  بس ناجائز و حَرام ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ یہ’’اُجرت ‘‘ ہی ہے اور فَریقَین(یعنی دینے اور لینے والے ) دونوں گنہگار ۔ [4]

’’تصوُّرِ مدینہ کیجئے ‘‘کے 14 حُروف کی نسبت سے  نعت پڑھنے  کی  چودہ نیّتیں

(1) اللہ ورسول عَزَّ  وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رَضا کیلئے (2) حتَّی الْوَسْع باوُضُو (3) قِبلہ رُو(4) آنکھیں بند کئے (5) سر جھکائے (6) گنبدِ خضرا (7)بلکہ مکین گنبدِ خضرا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا تصوُّرباندھ کر نعت شریف پڑھوں (8)سنوں گی(9)مَوْقَع کی مُنَاسَبَت سے وَسائلِ بخشش صَفْحَہ 11پر مَوجُود نعت خوان کیلئے دیا گیا اِعلان کرنے کی سَعَادَت حاصِل کروں گی (10) کسی کی آواز بھلی نہ لگی تو اس کو حقیر جاننے سے بچوں گی(11) مذاقاً کسی کم سُریلی آواز والی کی نقْل نہیں اُتاروں گی (12)نعت خوان اسلامی بہنیں

زِیادَہ اور وَقْت کم ہوا تو مُـخْتَصَر کلام پڑھوں گی (13) کوئی دُوسْری  صلوٰۃ و سَلام پڑھ رہی ہوگی تو بیچ میں پڑھنے کی جَلْدی مچا کر خود شروع نہ کر کے اس کی اِیذا رَسانی سے بچوں گی (14)اِنْفِرَادِی کوشِش کے ذریعے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات ، مَدَنی  قافلے ، مَدَنی  انعامات وغیرہ کی ترغیب دوں گی ۔ [5]

’’نعتِ رسولِ پاک‘‘کے 10حُروف کی نسبت سے نعت سننے کی د س نیّتیں

(1)اللہ ورسول عَزَّ  وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رَضا کیلئے (2) حتَّی الْوَسْع باوُضُو  (3) قِبلہ رُو  (4) آنکھیں بند کئے (5) سر جھکائے (6)دو۲زَانُو بیٹھ کر (7) گنبدِخضرا (8) بلکہ مکین گنبدِ خضرا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تصوُّر باندھ کر نعت شریف سنوں گی (9)رونا آیا اور رِیا کاری کا خَدْشَہ مَحْسُوس  ہوا تو رونا بند کرنے کے بجائے رِیاکاری سے بچنے کی کوشِش کروں گی (10) کسی کو روتی تڑپتی دیکھ کر بدگُمانی نہیں کروں گی ۔ [6]

گانوں کی عادی نعت خواں کیسے بنی؟

بَہَاوَل پُور (پنجاب ، پاکستان) بستی محمود آباد کی مقیم اسلامی بہن کے مَکْتُوب کا خُلاصَہ ہے :میں نَماز جیسی عظیم عِبَادَت جو ہر عاقِل وبالغ مسلمان مرد و عورت پر فَرْض



[1]     نعت خواں اور نذرانہ،ص۱ تا ۵   ملتقطاً، بحوالہ فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۷۲۴-۷۲۵، بتصرف

[2]     فتاویٰ رضویہ، ۱۹/۴۸۶ ، ۴۸۷ملتقطاً

[3]     المرجع السابق، ص۴۹۵

[4]     نعت خواں اور نذرانہ،ص ۵تا۶ بتصرف

[5]     وسائل بخشش،ابتدائی صفحہ بتصرف

[6]     وسائل بخشش،ابتدائی صفحہ بتصرف



Total Pages: 15

Go To