Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

تعریف کا حَق ادا کر سکیں  ۔ پھر مبالغے کا گمان کیونکر دُرُسْت  ہو سکتا ہے ؟

اس ذاتِ والا صِفات کی حقیقت جاننے کا دعویٰ کسی مخلوق کا حِصّہ ہی کہاں ہے ؟……اے انسان !اسے سَعَادَت جان  کہ تجھے   یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس باب میں  زبان و قَلَم سے  اپنی بِساط (طاقت) کے مُطابِق  ہدیہ پیش کرنے کی نِعْمَت عَطا ہوئی، اس ہستی کی عَظَمَت و مَرْتَبَت کا  عمر بھر بیان کرتے رہنے کے بعد بھی یہ اِقرار کئے بغیر چارہ نہیں کہ لَا یُمْکِنُ الثَّـنَآءُ کَمَا کَانَ حَقُّهُ (مُمکِن ہی نہیں کہ آپ کی  ثَناو تعریف کا جیسا حَق ہے وہ ہم سے اَدا ہو سکے ) مولانا جامی (قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی)بھی یہی کہتے ہیں:

لَیْسَ کَلَامِیْ یَفِی بِنِعْمَتِ کَمَالِـهٖ

صَلِّ اِلٰـهِی عَلَی النَّبِیِّ وَاٰلِـهٖ

اور اعلیٰ حضرت فاضِل بریلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یوں ترجمانی کرتے ہیں:

اے رَضا خود صَاحِبِ قرآں ہے مَدَّاحِ حُضُور

تجھ سے کب مُمکِن ہے پھر مِدْحَت رسولُ اللہ  کی[1]

نعت گوئی اہل محبت کا کام ہے

پیاری پیاری اسلامی بہنو! اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت، مُجَدّدِ دِىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کو اپنے آقا سے کس قدر مَحبَّتتھی اس کا اندازہ صرف اسی بات سے لگا لیجئے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کبھی اپنے پاؤں پَسار (پھیلا)کر سوتے نہیں تھے ، اپنے وُجُود کو سمیٹ کر لفظ”محمد“ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی مکتوبی شَکْل بنا لیا کرتے تھے ، جس روشنائی سے نعت شریف لکھا کرتے تھے اس میں زعفران ملا یا کرتے تھے ۔

لہٰذا یاد رکھئے ! یہ باتیں جبھی راہ پاتی ہیں کہ جِسْمِ اِنسانی کے بادشاہ  قَلْب (دِل) کا قبلہ (مرکز تَوَجُّہ) ذاتِ پاک ِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہو ، پھر حرکات وسکنات ہی نہیں خَیالات و اِحْسَاسَات  بھی حُبِّ رسول سے سرشار ہوتے ہیں ۔  مَحبَّت کی خاصِیَّت اور شَرْط ہی اِطَاعَت و اِتِّبَاع ہے ۔ اِنَّ الْـمُحِبَّ لِـمَنْ یُّـحِبُّ مُطِیْعٌ ۔ (گویا کہ) فرماں برداری اور پَیروی کی لذّت و حَلَاوَت اَہْلِ مَحبَّت ہی کو مُیَسَّر ہے ۔ جس کی مَحبَّت بندے کو مَعْبُود کا پیارا بنا دے ، اس ہستی کی تعریف کا حَق کیسے ادا ہو سکتا ہے ؟ مَلَکۂ شِعْر یا عِلْم کے کَمال سے زیادہ اس باب میں کَرَم ہی کی کار فرمائی سُرخُرو کرتی ہے ۔ [2]

کس کا لکھا کلام پڑھنا چاہئے ؟

پیاری پیاری اِسلامی بہنو! مَعْلُوم ہوا نعت شریف لکھنا حقیقۃً نِہَایَت مُشکِل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے  ہیں، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے !اگر بڑھتاہے تو اُلُوہِیَت(شانِ خداوندی)میں پہنچا جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تَنْقِیص (یعنی شانِ رِسَالَت میں کمی)ہوتی ہے ۔  البتّہ حَمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے ۔  غَرَض حَمد میں ایک جانِب اَصلاً حَد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانِب سَخْت حَد بندی ہے ۔ [3] لہٰذا کس کس شاعِرکی لکھی ہوئی نعتیں پڑھنا سننا چاہئے ؟اس حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعوتِ اِسْلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ 692 صَفحات پر مشتمل کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ 236پر فرماتے ہیں:ہر اُس مسلمان کی لکھی ہوئی نعت شریف پڑھنی سننی جائز ہے جو شریعت کے مطابِق ہو ۔  اب چونکہ کلام کو شَریعَتکی کسوٹی پر پرکھنے کی ہر ایک میں صلاحیّت نہیں ہوتی لہٰذا عافیّت اسی میں ہے کہ مُسْتَنَد عُلَمائے اہلسنّت کا کلام سنا جائے ۔  اردو کلام سننے کیلئے مشورۃً”نعتِ رَسول“کے سات حُرُوف کی نِسْبَت سے 7اَسمائے گرامی (مع مجموعۂ نعت) حاضِر ہیں:

 (1) امامِ اہلسنّت ، مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ۔  (حدائق بخشش)

(2) استاذِ زَمَن حضرت مولانا حسن رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان ۔  (ذوقِ نعت)

 



[1]     حدائق بخشش، ص۱۵۳

[2]     نعت و آداب نعت،ص ۱۹۸ بتصرف

[3]     ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص۲۲۷



Total Pages: 15

Go To