Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

غیر مَردوں تک آواز پہنچتی ہو اس کے باوُجُود بے باکی کے ساتھ بیان فرمانے اور نعتیں سنانے والی گنہگار اور ثواب کے بجائے عذابِ نار کی حَق دار ہے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدْمَت میں عَرْض کی گئی :چند عورَتیں ایک ساتھ مل کر گھر میں مِیلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہَر تک سُنائی دیتی ہے ، یونہی مُحرَّم کے مہینے میں کِتابِ شَہادَت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر ( یعنی کورَس میں)پڑھتی ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشَاد فرمایا :  ناجائز ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت (یعنی چُھپانے کی چیز) ہے اور عورت کی خوش اِلْحَانی کہ اَجْنَبِی سنے مَحلِّ فتنہ ہے ۔ [1]

عورت کے راگ کی آواز

شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید تحریر فرماتے ہیں: میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ایک اور سُوال کے جواب میں اِرشَاد فرماتے ہیں:عورت کا( نعتیں وغیرہ) خوش اِلْحَانی سے بَآواز ایسا پڑھنا کہ نا مَحرموں کو اُس کے نغمے (یعنی راگ و ترنُّم) کی آواز جائے حَرام ہے ۔  نَوازِل فَقیہ ابو اللَّیث سمر قندی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ)میں ہے ، عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا ”عورَۃ“ یعنی مَحَلِ سِتْر( چُھپانے کی چیز) ہے ۔  کافی اِمام ابو البرکات نسفی میں ہے ، عورت بُلند آواز سے تَلْبِیَہ ( یعنی لَـبَّیْكَ اَللّٰھُمَّ لَـبَّیْكَ) نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابِلِ سِتْر (چُھپانے کے قابِل چیز) ہے ۔  عَلّامہ شامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں:عورَتوں کو اپنی آواز بُلَند کرنا، انہیں لمبا اور دراز( یعنی ان میں اُتار چڑھاؤ) کرنا، ان میں نَرْم لہجہ اِخْتِیار کرنا اور ان میں تَقْطِیع کرنا( کاٹ کاٹ کر تَحلیلی عَروض یعنی نَظْم کے قَوَاعِد کے مُطَابِق) اَشعار کی طرح آوازیں نکالنا ، ہم ان سب کاموں کی عورَتوں کو اِجازَت نہیں دیتے اس لئے کہ ان سب باتوں میں مَردوں کا اُن کی طرف مائل ہونا پایا جائے گا اور اُن مَردوں میں جذباتِ شہوانی کی تحریک پیدا ہو گی اِسی وجہ سے عورت کو یہ اِجازَت نہیں کہ وہ اَذان دے ۔  والله تعالٰی اعلم ۔ [2]

نعت لکھنا کیسا؟

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! کہنے والوں نے شُعَرَا کو زبان وبیان کے حوالے سے قوم کا دِماغ اور ترجمان بھی کہا ہے ۔ بات اَشعار کی اَقسام کی ہو تو غزل، نَظْم، قصیدہ، مثنوی، رُباعی، قطعہ وغیرہ ایک لمبی فہرست ہے لیکن غزل کی تعریف میں زمین وآسمان ایک کر دیا جاتا ہے ، بلکہ آسمان کی بُلَندی بھی غزل کی تعریف میں ناکافی  لگتی ہے ، عَرْش کی باتیں ہوتی ہیں، یہ بھی اِحْتِیاطاً عَرْض کی ہے ورنہ کوئی حَد ہی نَظَر نہیں آتی ۔ واضِح رہے کہ غزل کہنے والے مجذوب نہیں ہوتے ، اس کے باوُجُود انہیں اپنے (خَیالی یا مجازی) مَحْبُوب کو سب کچھ کہنے کی نہ صِرف رِعَایَت دی جاتی ہے بلکہ اسے ان کا حَق مانا جاتا ہے اور اس حَق کو ہر شاعِر (اِلّا  مَا شَآءَ الله)بے باکانہ اِسْتِعمال کرتا ہے ۔

ہمارے ہاں عام طور پر نعت بھی غزل ہی کے انداز  میں کہی جاتی ہے ، اس لئے وہ شُعَرَا جو حَمد ونعت کہنے کی شرائط وآداب سے واقِف نہیں، حَمد و نعت کہتے ہوئے غزل کے مَحْبُوب والی  بے باکی بَرَت جاتے ہیں اور حَمد و نعت میں کہے گئے اپنے کلام کو شاید اِلہامی سمجھتے ہیں اور بالا از تَـنْقِیْد و تَـنْقِیْص جانتے ہیں ۔ انہیں نہیں مَعْلُوم زبان و بیان کی آسانیاں اس راہ میں زیادہ مُشکِل ثابِت ہوتی ہیں، مُمکِن ہے کہ انہوں نے کوئی لفظ پھول جان کر چنا ہو مگر وہی کانٹا ہو جائے  ۔ اسی لئے اس راہِ سُخَن(یعنی نعتیہ شاعِری) کو پُل صِراط کی بتائی جانے والی سختیوں اور مشکلات سے زیادہ دشوار گزار کہا گیا ہے ۔ یہاں اِحْتِرام اور سلیقے  کے بغیر جذبے کام آتے ہیں نہ عِلْم کی زِیادَتی ۔ یہاں صِرف اَدَب نہیں بلکہ رُوحِ اَدَب اور حُسْنِ اَدَب کامیاب کراتا ہے ، یہ غزل کا نہیں بلکہ نعت کا مَحْبُوب ہے جس کی مَحبَّت اِیمان کی جان ہے اور اِیمان بلاشبہ سراسر اَدَب ہے ، لہٰذا جب کوئی عِشْق کے سمندر میں اَدَب  کی کشتی پر سوار ہوتا ہے تو   مَقامِ مصطفے ٰ کے اَنوار کی جھلکیاں اس کے لوحِ دِل پر جگمگانے لگتی ہیں، پھر نور کی یہی روشنی جب دِل سے دِماغ کی طرف جاتی ہے تو فِکْر نعت کی زباں بن جاتی ہے ، مگر یاد رکھئے ! یہ اَدَب ، یہ سلیقہ، عِشْق کو یہ تہذیب ، اِیمان کو یہ مَنْزِل کسی مَقبولِ بارگاہ  کے فیضِ صُحْبَت اور اَثَرِ نِگاہ سے ملتی ہے  ۔ یہ یاد ہو جانے اور دل میں اُتَر جانے  بلکہ وظیفہ بن جانے والے مِصرعے  یا اَشعار ہر کوئی کیوں نہیں کہہ پاتا ؟اِمام بوصیری وشیخ سعد یرَحمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے اَشعار پہلے مَقبول نہیں ہوئے بلکہ یہ ہستیاں پہلے بارگاہِ رِسَالَت میں شَرَفِ قبولِیَّت پانے والی ہوئیں ۔

اے رَضا خود صَاحِبِ قرآں ہے مَدَّاحِ حُضُور

صحیح، سچی اور عمدہ تعریف صِرف رسمی عالِم و شاعِر ہو جانے سے مُمکِن نہیں، وہ عِلْم اور وہ مَلَکۂ شِعْر صِرف انہیں کا حِصّہ ہے جنہوں نے اَدَب کو مَلْحُوظِ خاطِر رکھا ۔  لفظوں کے سانچے ، لہجوں کے زاویئے  اور انداز و بیان کے ایسے قرینے  ابھی کہاں بن سکے ہیں جو نعت کے مَحْبُوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  صحیح سچی اور عمدہ



[1]     فتاویٰ رضويہ، ۲۲/۲۴۰

[2]     رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی ستر العورة،۲/۹۷،فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۲۴۲



Total Pages: 15

Go To