Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

(سیر اعلام النبلاء ، ۹/ ۷۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دعوتِ اسلامی اور تعلیمِ قرآن

        اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ! تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت قراٰنِ پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اندرون وبیرونِ مُلک حفظ وناظرہ کے کثیر مدارِس بنام’مدرسۃالمدینہ‘‘قائم ہیں ۔پاکستان میں ہزاروں مَدَنی مُنّوں اور مَدَنی مُنّیوں کو حفظ وناظِرہ کی مُفْت تعلیم دی جارہی ہے۔ اسی طرح مختلف مَسَاجِد وغیرہ میں عُمُوماََبعد نمازِ عشاء ہزارہا مدارس المدینہ بالغان کی41منٹ کے لئے ترکیب ہوتی ہے جن میں بڑی عمر کے اسلامی بھائی صحیح مَخَارِج سے حُرُوف کی دُرُست ادائیگی کے ساتھ قراٰن کریم سیکھتے اور دعائیں یاد کرتے ، نمازیں وغیرہ دُرست کرتے اورسُنّتوں کی تعلیم مفت حاصل کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں دُنیا کے مختلف مَمالِک میں اکثر گھروں کے اندرروزانہ ہزاروں مدارِس بنام مدرَسَۃُالمدینہ (برائے بالِغات) بھی لگائے جاتے ہیں جن میں اسلامی بہنیں قراٰنِ پاک ، نَماز اورسُنّتوں کی مُفْت تعلیم پاتیں اور دعائیں یاد کرتی ہیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حاجی مشتاق کی اِنفرادی کوشش

       باب المدینہ (کراچی ) کورنگی ٹاؤن کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ملنے سے پہلے میں گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا، گانے باجے سننا، ڈانس پارٹیوں میں ڈانس کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ پھر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا ایسا کرم ہواکہ ہمارے علاقے کے ایک اسلامی بھائی نے مجھے ترغیب دلائی کہ میں عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں قران پاک پڑھنے آیا کروں ۔ ان کامحبت بھرا انداز دیکھ کر مجھ سے انکا ر نہ ہوسکا اور میں نے ہاں کر لی ۔ جب میں عشاء کی نماز پڑھنے مسجد گیا اور نماز کے بعد مدرسۃالمدینہ بالغان میں پڑھنا شروع کیا تو وہاں کا ماحول بہت اچھا لگا اور میں باقاعد گی سے وہاں جانے لگا ۔وہاں قراٰن پڑھایا جاتا ، وضو و غسل اور نماز کے مسائل سکھائے جاتے اور اخلاقی تربیت بہت ہی پیارے انداز میں کی جاتی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ    مدرسۃ المدینہ میں تعلیم کی برکت سے میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اِجتماع کا پابند ہوگیا اور نیک اعمال میں رغبت ہونے لگی ۔ ایک مرتبہ جب ’’دعو ت اسلامی‘‘ کی مرکزی مجلس شوٰری کے مرحوم نگران حاجی محمد مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری  ہمارے علاقے میں تشریف لائے تو مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمایا :  آپ فیضانِ سنت کا دَرْس کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے عرض کی : ’’ حضور! میری داڑھی نہیں ۔ ‘‘ارشاد فرمایا : اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    درس کی برکت سے داڑھی والے بن جاؤ گے۔ باعمل مبلغ کی کہی ہوئی بات پوری ہوئی اوراَ لْحَمْدُللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ! میں نے اپنے چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی سجا لی۔ یہ بیان دیتے وقت میں ایک علاقائی ذمہ دار کی حیثیت سے سنتوں کے پیغام کو عام کر رہا ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اَعرابی نے غلطی پکڑ لی (حکایت )

          حضرت سیِّدُناامام اَصْمَعِی     عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی کا بیان ہے : ایک دن میں سورۂ مائدہ کی تلاوت کررہا تھا اور میرے ساتھ ایک اَعرابی موجود تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا :

وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸)

(ترجمہ کنزالایمان : اور اللّٰہ غالب حکمت والا ہے ۔ ۶، المائدہ : ۳۸))

 تو غلطی سے ’’ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ پڑھ دیا۔اَعرابی نے پوچھا :  یہ کس کا کلام ہے؟میں نے کہا : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا کلام ہے۔اس نے کہا : دوبارہ پڑھو۔   

 میں نے دوبارہ وہی غلطی کردی، پھر میں اپنی غلطی سے آگاہ ہوا تو دُرُست پڑھا۔ اَعرابی نے کہا :  اب تم نے دُرُست پڑھا ہے۔میں نے پوچھا : تمہیں اس غلطی کا کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا : اے شخص !اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  غالب حکمت والا ہے اس لئے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا، اگر وہ اسے بخش دیتا اور رحم فرماتا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم نہ دیتا۔ (تفسیر کبیر، ۴/ ۳۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِخلاص بھی ضروری ہے(حکایت )

        ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے سحری کے وقت اپنے حجرے میں سورۂ طٰہٰ کی تلاوت کی، جب میں نے اسے ختم کیا تو مجھ پر اُونگھ طاری ہو گئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے اُترا جس کے ہاتھ میں ایک سفید رنگ کا صحیفہ (رجسٹر) تھا، اس نے وہ میرے سامنے رکھ دیا، میں نے اس میں سورۂ طٰہٰ لکھی ہوئی پائی اور سوائے ایک کلمہ کے تمام کلمات کے نیچے دس دس نیکیوں کا ثواب لکھا ہوا دیکھا، میں نے اس کلمے کی جگہ لکھ کر مٹا دینے کے اثرات دیکھے تو مجھے دکھ ہوا، لہٰذا میں نے اس شخص سے کہا :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم ! میں نے اس کلمہ کو بھی پڑھا تھا، لیکن میں اس کا ثواب لکھا ہوا پا رہا ہوں نہ ہی اس کلمے کو ! اس شخص نے جواب دیا :  آپ سچ کہہ رہے ہیں ، آپ نے واقعی اسے پڑھا تھا اور ہم نے بھی اسے لکھ لیا تھا مگر ہم نے ایک ندا دینے والے کو یہ کہتے سنا کہ اسے مٹا دو ! اور اس کا اجر و ثواب بھی کم کر دو! چنانچہ ہم نے اسے مٹا دیا۔ یہ سن کر مَیں خواب میں رونے لگا اور عرض کی :  تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بولا :  ایک شخص دورانِ تلاوت آپ کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی خاطر اپنی آواز بلند کر لی تھی، لہٰذا ہم نے اسے مٹا دیا۔ (قوت القلوب، ۱/  ۱۱۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کاش یہ آواز قراٰن کی تلاوت میں استعمال ہوتی(حکایت )

        ایک بار حضرت سیِّدُنا عبداﷲابن مسعود(رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ) کسی مجلس پر گزرے جہاں ایک گَوَیّا (singer)بہت اچھی آواز سے گا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا :  کاش !یہ آواز قرآن شریف پر



Total Pages: 26

Go To