Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان دلنشین ہے :  عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔ (المستدرک، کتاب اللباس، باب اعتموا تزدادوا حلماً، ۵/ ۲۷۲، حدیث : ۷۴۸۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں

        حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہوگی۔(تر مذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی حسن الخلق، ۳ / ۴۰۳، حدیث : ۲۰۰۹ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اچھے اخلاق گناہ کو پگھلا دیتے ہیں

          نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :   

  اچھے اخلاق گناہ کو اس طرح پگھلا دیتے ہیں جس طرح پانی برف کو پگھلادیتا ہے اور بُرے اخلاق عمل کو ایسے خراب کرتے ہیں جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے ۔

(المعجم الکبیر، ۱۰/ ۳۱۹، حدیث :  ۱۰۷۷۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تمہارابہترین دین تقویٰ ہے

        نبیء کریم، رء ُ وف رحیمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظیم ہے : علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارابہترین دین تقویٰ ہے۔

(المستدرک، کتاب العلم، باب فضل العلم۔۔۔الخ، ۱/ ۲۸۲، حدیث : ۳۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(31) پانی کا اِسراف گناہ ہے

        سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہے : مَنْ تَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جو غسل کرنے کے بعد وضو کرے وہ ہم سے نہیں ۔

 (المعجم الکبیر، ۱۱/ ۲۱۳، حدیث : ۱۱۶۹۱)

 غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت نہیں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ غسل میں وضو کے اعضاء بھی دُھل جاتے ہیں ۔ اُمُّ المُومِنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غُسل کے بعد وُضو نہیں فرماتے۔(ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ماجاء فی الوضوء بعد الغسل، ۱/  ۱۶۱، حدیث :  ۱۰۷)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : کیونکہ غسل سے پہلے وضو فرمالیتے تھے وہ وضو نماز کے لیے کافی ہوتا تھا‘ بلکہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کیے بھی غسل کرے اور پھر نماز پڑھ لے تو جائز ہے کیونکہ طہارتِ کبریٰ ( یعنی غسل)کے ضمن میں طہارتِ صغریٰ ( یعنی وضو)بھی ہوجاتی ہے اور بڑے حدث کے ساتھ چھوٹا حدث بھی جاتا رہتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۳۰۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے

       اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں : وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوک پانی ہو، اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے، جس میں مَدارِس کا پانی بھی شامل ہے، اس کا اِسراف حرام ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضو کرنا چاہتے ہیں ، اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ، ۲ / ۴۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

ماٰخذ و مراجع

نام کتاب

مصنف/مؤلف

مطبوعہ

کنز الایمان (ترجمۂ قراٰن)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی ۱۳۴۰ھ

مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ کراچی

تفسیر کبیر

امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی ، متوفی ۶۰۶ھ

دار احیاء التراث العربی، بیروت۱۴۲۰ھ

الجامع لاحکام القرآن

ابو عبد  اللہ محمد بن احمد الانصاری قرطبی ، متوفی ۶۷۱ھ

دارالفکر بیروت

تفسیرِ مدارک

امام عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی ، متوفی ۷۱۰ھ

دار المعرفہ ، بیروت۱۴۲۱ ھ

تفسیرخازن

علاء الدین علی بن محمدبغدادی، متوفی ۷۴۱ھ

مصر

درمنثور

امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر سیوطی شافعی، متوفی ۹۱۱ھ

دار الفکر ، بیروت۱۴۳۲ھ

تفسیرصاوی

احمد بن محمد صاوی مالکی خلوفی، متوفی ۱۲۴۱ھ

دار الفکر ، بیروت۱۴۲۱ھ 

روح المعانی

ابو الفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی ، متوفی ۱۲۷۰ھ

دار احیاء التراث العربی، بیروت۱۴۲۰ھ

 



Total Pages: 26

Go To