Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

         حضرت ِسیِّدُنا کعب بن عجرہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے سے گزرا۔ صحابہِ کرام رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ منے اس کی چستی دیکھ کر عرض کی : یارسولَاللّٰہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاش! یہ شخص راہِ خدا میں ہوتاتو آپصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے نکلا ہے تو بھی یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ    کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے نکلا ہے تو بھی  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کی راہ میں ہے اور اگر اپنے آپ کو بچانے کے لیے نکلا ہے تو بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ    کی راہ میں ہے اور اگر یہ ریاکاری اور تفاخُر کے لئے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں ہے۔(المعجم الکبیر، ۱۹/ ۱۲۹حدیث : ۲۸۲)

 ماہِ رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت

    حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی تو آپ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایاکرتے رمضان المبارک کے پورے مہینے کو مرحبا!اس کے دن میں روزے ہیں اور راتوں میں قیام اور اس میں بیوی بچوں پر خرچ کرنااللّٰہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔(الروض الفائق، المجلس الخامس، ص۴۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(29) اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنے والا ہم سے نہیں

         رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد عبرت نشان ہے :  مَنْ أَعْطَی الذِلَّ مِنْ نَفْسِہٖ طَائِعًا غَیْرَمُکْرَہٍ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو شخص بِلا اِکراہ(یعنی مجبور کئے بغیر) اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے وہ ہم سے نہیں ۔(المعجم الاوسط، ۱/ ۱۴۷، حدیث : ۴۷۱)

 مسلمان اپنے آپ کو ذلت پرکیسے پیش کر سکتا ہے!

    حضور رحمت ِکونین صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ عزت نشان ہے :  مومن کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذِلّت پر پیش کرے صحابہ کرام علیہم الرضواننے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلمان اپنے آپ کو کیسے ذلت پر پیش کر سکتا ہے ! آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  اپنے آپ کو ایسی آزمائش پر پیش کرنا جسکو آدمی برداشت نہ کر سکے ۔

(ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح ، ۴/ ۱۱۲، حدیث : ۲۲۶۱)

دعائے رسول صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

        حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہا کرتے تھے :  اَللّٰہُمَّ اِنِّی  اَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اََظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَیعنی الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں فقیر ی ، کمی اور ذلت سے اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی کو ستاؤں یا ستایا جاؤں ۔

(ابوداؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستعاذۃ، ۲/ ۱۳۰، حدیث : ۱۵۴۴)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  ذلت سے مراد لوگوں کی نگاہ میں حقارت ہے یا مالداروں کے سامنے عاجزی۔(مراٰۃ المناجیح ، ۴/  ۶۱)

متکبر کے ساتھ تکبر بھی تواضع ہے

        حضرت سیِّدُنا ابو نصربشر بن حارث(المعروف بشر حافی) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فرمان ہے : متکبر کے ساتھ تکبر سے پیش آنا بھی تواضع کی ایک قسم ہے۔ (المستطرف، الباب الثلاثون، ۱/ ۲۵۱)

جس امر میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک واجب ہے

میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرمایا : جس مباح کے ترک(چھوڑنے) میں مسلمانوں کے لئے ذلت ہو وہ واجب ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ذلت پہنچانا حرام تو جس امر(کام) میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک(یعنی چھوڑنا) واجب ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت ، ص۴۵۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(30) تین خصلتیں جس میں نہ ہوں وہ ہم سے نہیں

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ثَلاَثٌ مَّنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَا مِنَ اللّٰہِ قِیْلَ وَمَا ہُنَّ قَالَ حِلْمٌ یُرَدُّ بِہٖ جَہْلُ الْجَاہِلِ أَوْحُسْنُ خُلُقٍ یَعِیْشُ بِہٖ فِی النَّاسِ أَوْوَرَعٌ یَحْجِزُہٗ عَنْ مَعَاصِی اللّٰہِیعنی جس آدمی میں تین خصلتیں نہ ہوں وہ مجھ سے نہیں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ    کاایسے آدمی سے کوئی تعلق نہیں ، عرض کی گئی : وہ کیا خصلتیں ہیں ؟ارشاد فرمایا : (۱) ایسا حِلْم جس کے ذریعے جاہل کی جہالت کو دور کیاجائے(۲) حسنِ اخلاق جس کے ذریعے لوگوں میں اچھے طریقے سے زندگی بسر کی جائے(۳) ایسا تقویٰ جو آدمی کو گناہوں سے بچائے ۔

 (المعجم الأوسط، ۳/  ۳۶۲، حدیث : ۴۸۴۸)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حِلم (بُردباری)، تقو یٰ اورحسنِ اخلاق اللّٰہتبارک و تَعَالٰی اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پسندیدہ عادتیں ہیں ، ہمیں ان کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے ، ہمارے مَدَنی آقاصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں اس کی دعا مانگنا بھی سکھائی ہے چنانچہ

دعاسکھائے، دعائے رسول صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

Total Pages: 26

Go To