Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

مصطَفٰے صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو سلام کرتا ہے توان میں سے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ   کے نزدیک زیادہ محبوب(یعنی پیارا)وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ گرم جوشی سے ملاقات کرتاہے، پھر جب وہ مُصافَحہ کرتے(یعنی ہاتھ ملاتے)ہیں تو اُن پر سو رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں ان میں سے نوَّے رَحمتیں (سلام میں )پَہَل کرنے والے کے لئے اور دس مُصافَحہ(یعنی ہاتھ ملانے)میں پَہَل کرنے والے کے لئے ہیں ۔ (مُسنَد البزار، ۱/  ۴۳۷، حدیث : ۳۰۸)فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : جب دومسلمان ملاقات کے وقت آپس میں مُصافَحَہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفِرت ہوجاتی ہے۔(ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ماجاء فی المصافحۃ، ۴/  ۳۳۳، حدیث : ۲۷۳۶)

 ’’رمضان‘‘ کے پانچ حروف کی نسبت سے سلام کے پانچ شرعی مسائل

(۱)سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے، بلاعذر تاخیر کی تو گنہگار ہوا اور یہ گناہ جواب دینے سے دفع (یعنی دور)نہ ہوگا، بلکہ توبہ کرنی ہوگی۔

 (۲)سائل نے دروازہ پر آکر سلام کیا اس کا جواب دینا واجب نہیں ۔

(۳)کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصدِ تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔

(۴)کسی سے کہہ دیا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور جب اس نے سلام پہنچایاتوجواب یوں دے کہ پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یہ کہیوَعَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلام ، یہ سلام پہنچانا اس وقت واجب ہے جب اس نے اس کا التزام کر لیا ہو یعنی کہدیا ہو کہ ہاں تمہارا سلام کہدوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّمکے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے ( یعنی جب کہ التزام کیا ہو)۔

(۵)خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلامُ عَلَیْکُمْ  لکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔    (بہار شریعت ، ۳/ ۴۶۰ تا۴۶۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(19)پڑوسی کا حق ضائع کرنے والا ہم سے نہیں

         رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : فَمَنْ یُضِیْعُ حَقَّ جَارِہٖ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو اپنے پڑوسی کا حق تلف کرے ’’وہ ہم سے نہیں ۔‘‘

(المطالب العالیہ، کتاب الادب، باب جمل من الادب، ۷/ ۱۱۸، حدیث : ۲۶۰۴)   

پڑوسیوں کو گوشت اور کپڑے دیا کرتے

        حضرت ِسیِّدُنا عبداللّٰہ بن ابی بکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے پڑوس کے گھروں میں سے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھروں کے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے، عید کے موقع پر انہیں قربانی کا گوشت اور کپڑے بھیجتے اور ہر عید پر سو غلام آزاد کیا کرتے تھے۔(المستطرف، الباب الثالث والثلاثون، ۱/ ۲۷۶)

پڑوسی کے گیارہ حقوق

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : نبی صلّی  اللہ علیہ وآلہٖ وسلّمنے فرمایا : پڑوسی کے گیارہ حق ہیں ( ۱) جب اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہو اس کی مدد کرو (۲) اگر معمولی قرض مانگے دے دو ( ۳) اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو (۴) وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی بلکہ ضرورت ہو تیمار داری کرو(۵) مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ(۶) اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو (۷) اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو (۸) اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے (۹) گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیۃ بھیجتے رہو، نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں (۱۰) اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو(۱۱) اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللّٰہرحم فرمائے (مرقات)(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : }کہا جاتا ہے ہمسایا اور ماں جایا (یعنی سگا بھائی)برابر ہونے چاہئیں ۔ افسوس مسلمان یہ باتیں بھول گئے قرآنِ کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ان کے ادا کی توفیق رب  تَعَالٰی سے مانگے ۔

(مراٰۃ المناجیح ، ۶/  ۵۲)

اچھا کیا یا بُرا؟

         ایک شخص نے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ باعظمت میں عرض کی : یارسولَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مجھے کیونکر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برُا؟ارشاد فرمایا : جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا تو بے شک تم نے اچھا کیا، اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برُا کیا تو بیشک تم نے برُا کیا ۔

( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الثناء الحسن، ۴/ ۴۷۹، حدیث : ۴۲۲۳)

 د یوار کی مٹی(حکایت )

        ایک بزرگ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں نے کسی کو خط لکھااور اسکی سیاہی پڑوسی کی دیوار کی مٹی سے خشک کرنے لگا ۔میر ے دل نے پڑوسی کی دیوار سے مٹی لینا اچھا نہ سمجھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس معمولی سی مٹی کی کیا حیثیت اور اسکے لئے اجازت لینے کی کیا ضرورت؟ چنانچہ میں نے مٹی لے کر سیاہی کو خشک کرنا شروع کر دیا جب مٹی خط پر ڈالی ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا، وہ آواز کچھ یوں تھی :

سَیَعْلَمُ مَنِ اسْتَخَفَّ بِتُرَابِ        مَا یَلْقٰی غَدًا مِنْ سُوْئِ  الْحِسَابِ

ترجمہ : جو شخص مٹی کو معمولی سمجھتا ہے اسے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اسکا حساب کتنا برا ہے۔

 



Total Pages: 26

Go To