Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

عرض کیا :  یَارَسُوْلَ اللّٰہ(صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )!مجھے معلوم نہ ہوا کہ حضور منع فرمارہے ہیں اب میں صبر کرتی ہوں ۔ اِرشاد فرمایا :  ’’ الصَّبرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی‘‘ (صبر پہلی ہی بار کرتی تو ثواب ملتا پھر تو صبر آ ہی جاتا ہے۔) (مسلم، کتاب الجنائز، باب فی الصبر۔۔۔الخ، ص۴۶۰،حدیث : ۹۲۶ ملخصا) اِس سے معلوم ہوا کہ ا گر آدمی صبر کرے تو ہوسکتا ہے ۔   (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۴۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(15)مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والاہم سے نہیں

        رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَیعنی جو سر منڈائے، چیخیں مار ے اورکپڑے پھاڑے وہ ہم سے نہیں ۔(ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب فی النوح، ۳/ ۲۶۰، حدیث : ۳۱۳۰)

         سر منڈانے سے مراد موت پر غم کے لئے سر منڈانا مراد ہے، مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  ’’جوسر منڈائے‘‘کے تحت لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرب میں بھی کسی کی موت پر سر منڈانے کا رواج تھا۔ (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : }خیال رہے کہ صحابہ کرام ایسی حالت میں تبلیغ اور اپنے بال بچوں کی اِصلاح سے غافِل نہیں رہتے تھے۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/  ۵۰۲۔۵۰۳)

میں اس سے بیزارہوں

        رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : میں اس سے بیزارہوں جوسر منڈائے اور چلاکر روئے اور گریبان چاک کرے ۔

 ( مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم ضرب الخدود، ص۶۶، حدیث : ۱۰۴) 

عمدہ کپڑے پہن لئے (حکایت )

        حضرتِ سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانیفرماتے ہیں : تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے شہزادے حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتقال ہوگیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ عمدہ کپڑے زیب تن کئے ، تیل لگائے لوگوں کے پاس آئے ۔ وہ آپ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اس حالت میں دیکھ کر بڑے سیخ پا ہوئے اور بولے :  تمہارے بیٹے کا انتقال ہوا ہے اور تم ان کپڑوں میں اور تیل لگائے گھوم رہے ہو ؟ فرمایا :  تو کیا میں کم ہمتی کا اظہار کروں ؟ میرے رب  عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے تین انعامات دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور ہر انعام مجھے دنیا وَمَا فِیْھاسے زیادہ محبوب ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ    ارشاد فرماتا ہے :  

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) (پ۲، البقرۃ :  ۱۵۶ ۔۱۵۷)

(ترجمہ کنز الایمان :  کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ) ۔

  (منہاج القاصدین، کتاب الصبروالشکر، ص۱۰۵۵)   

غم سہنے کا ذہن بنا لیجئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں ہر مصیبت پر صبر کرنا چاہئے اور ثواب کا حق دار بننا چاہئے ، مصیبت پر صبر کیلئے خود کو تیارکرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی مصیبتوں کا پہلے ہی سے تصوُّر کر کے صبر کا عزم کر لیا جائے ۔ مثلاً یہ تصور کر لیا جائے کہ اگر گھر میں میرے جیتے جی کسی کی فوتگی ہو گئی تو اِنْ  شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ    میں صبر کروں گا ، ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین فرمایا کرتے : ’’جس کو صبر نہ آئے وہ تکلفاً صبر اختیار کرے ۔‘‘ نیز پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطَفٰی صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : جو تکلفاً صبر کرے گا  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   اس کو صبر عطا فر ما دے گا اور کسی کو صبر سے بڑھ کر خیر اور وسعت والی چیز عطا نہیں کی گئی۔(بخاری، کتاب الزکوۃ، باب الاستعفاف عن المسا ئلۃ، ۱/  ۴۹۶، حدیث : ۱۴۶۹)

 جنات نے غم خواری کی (حکایت )

        حضرت ابو خلیفہ عبدی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں کہ میرا چھوٹا سابچہ فوت ہوگیا جس کا مجھے بہت سخت صدمہ ہوا اورمیر ی نیند اچاٹ ہوگئی۔ خدا کی قسم!میں ایک رات اپنے گھر میں اپنے بستر پر تھا ۔میرے علاوہ گھر میں کوئی نہ تھا ۔میں اپنے بیٹے کی سوچوں میں گُم تھا کہ اچانک گھر کے ایک کونے سے کسی نے بڑے پیار سے کہا :  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ یَا اَبَا خَلِیْفَۃَ ۔میں نے گھبراہٹ کے عالم میں کہا وَعَلَیْکُمُ  السَّلَامُ  وَرَحْمَۃُ اللّٰہ۔ پھر اس نے سورہ   آل عمران کی آخری آیتیں تلاوت کیں جب وہ اس آیت پر پہنچا :

وَ  مَا  عِنْدَ  اللّٰهِ  خَیْرٌ  لِّلْاَبْرَارِ(۱۹۸) (پ ۴، آل عمران :  ۱۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اللّٰہ کے پاس ہے وہ  نیکوں کے لئے سب سے بھلا ۔

        تو اس نے مجھے پکارا : ’’ اے ابو خلیفہ!‘‘میں نے کہا : ’’ لَبَّیْک‘‘ اس نے پوچھا :  ’’کیاتم یہ چاہتے ہو کہ صرف تمہارے بیٹے ہی کے لیے زندگی مخصو ص رہے اور دوسرے کے لیے نہیں ؟کیا تم  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کے نزدیک زیادہ شان والے ہو یا رسولُ اللّٰہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ؟حضوراقدس صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تو فوت ہوئے تو حضورِ انورصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہارہی ہیں دل غمگین ہے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو اللّٰہ تعالٰی