Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

حکایت:11

(۵) ابھی کیا کررہا ہوں

        ایک مچھیرا سمندر کنارے خوبصورت جزیرے میں  رہا ئش پزیر تھا ، وہ روزانہ چند گھنٹوں  میں  اتنی مچھلیاں  پکڑ لیتا تھا جن کو بیچ کراس کے اخراجات آسانی سے پورے ہوجاتے تھے ۔ وہ اپنے گھر والوں  کو بھی وقت دیتا اور کسی بڑی پریشانی کا شکار نہیں  تھا۔ ایک بین الاقوامی کمپنی کا نمائندے چھٹیاں  گزارنے اس جزیرے میں پہنچا تو اس کی ملاقات مچھیرے سے بھی ہو ئی  ۔ نمائندے نے جب اس کی صلاحیتوں  کو دیکھا تو مشورہ دیا کہ اگر تم چند گھنٹے زیادہ کام کرکے زیادہ مچھلیاں  پکڑ لو تو میں  ایک فرم سے تمہارا معاہدہ کروا دیتا ہوں  ، تم مچھلیاں  ان کو بھجوادیا کرنا ، مچھیرے نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ نمائندے نے کہا : جب تمہارے پاس کچھ رقم جمع ہوجا ئے  گی تو ایک چھوٹی سے لانچ خرید لینا اور گہرے سمندر میں  مچھلیاں  پکڑ کر اسی لانچ پر فرم کو پہنچا دیا کرناتمہیں  اچھا خاصا معاوضہ مل جایا کرے گا ، مچھیرے نے پوچھا :  اس کے بعد کیا ہوگا؟ نمائندے نے کہا : مزید کچھ عرصے میں  تمہارے پاس خاصی رقم جمع ہوجا ئے  گی تو تم ایک بحری جہاز خرید لینا اور اپنی فشنگ فرم(یعنی مچھلیوں  کی کمپنی) کھول لینا ، مچھیرے نے اپنا سوال دہرایا : پھر؟ نمائندے نے جواب دیا : تم ترقی کرتے کرتے فشنگ(مچھلی پکڑنے ) کے شعبے میں  سب سے بڑی فرم کے مالک بن جاؤ گے ۔مچھیرے کی زبان سے نکلا : اس کے بعد؟ نمائندے نے کہا :  جب تم کام کر کر کے تھک چکے ہوگے تو ریٹاءرمنٹ لینا اور اپنے مزدوروں  کو فرم کا مالک بنا کر دوردراز خوبصورت جزیرے پر رہا ئش کرلینا اور تھوڑی بہت مچھلیاں  پکڑ کر ضروریاتِ زندگی کے  لئے رقم کمالیا کرنا اور اپنی فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی وقت گزارنا ۔اب کی بار مچھیرے نے سوال کرنے کے بجا ئے  نمائندے کی آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈال کر کہا :  میں  اپنے نصیب پر خوش ہوں  اور اس وقت میں  وہی کام تو کررہا ہوں  جو آپ مجھے اتنے لمبے چوڑے سفر کے بعد کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں  ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ حکایت فرضی ہی سہی لیکن راتوں  رات امیر بننے کے خواب دکھانے والوں  کی اس دنیا میں  کمی نہیں  ، بلکہ لوگ تو امیربننے کے  لئے رشوت کے لین دین، سود، قرض دبانے جیسے گناہوں  میں  مبتلا ہوجاتے ہیں  اور انہیں  اس کے سنگین اُخروی نتائج    کا ذرہ برابر خیال نہیں  ہوتا ،  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     ایسوں  کو توبہ کی توفیق عطا فرما ئے  ،

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4) دوسروں  کو نفع پہنچاؤ

        اَعرابی کا چوتھا سوال یہ تھاکہ میں  لوگوں  میں  سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں  ۔ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : لوگوں میں  سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں  کو نفع پہنچاتا ہو ، تم لوگوں  کی لئے نفع بخش بن جاؤ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !مسلمان کو فا ئد ہ پہنچاناکارِ ثواب ہے مثلاً اس کو راستہ بتادینا ، سامان اٹھانے میں  اس کی مدد کردینا یا اس کی کو ئی  ضرورت پوری کردینا ، الغرض کسی بھی طرح سے اس کے کام آنے کی بڑی فضیلت ہے ، شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  مسلمان مسلمان کا بھا ئی  ہے نہ اس پر ظُلْم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رُسوا کرتاہے اور جوکو ئی  اپنے بھا ئی  کی حاجت پوری کرتا ہے اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    اس کی حاجت پوری فرماتاہے اور جو کسی مسلمان کی ایک پریشانی دور کرے گا اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    قیامت کی پریشانیوں  میں  سے اس کی ایک پریشانی دور فرما ئے  گا۔  

(مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث   : ۲۵۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کچھ خرچ  کئے  بغیر صدقہ کا ثواب کمائیے

        فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے :  تیرا اپنے بھا ئی  کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے اور بھلا ئی  کا حکم دینا صدقہ ہے اور برا ئی  سے روک دینا صدقہ ہے اور کسی بھٹکے ہو ئے  کو راستہ بتانا بھی تیرے لیے صدقہ ہے اور تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے اور تیرا راستے سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھا ئی  کے ڈول میں  پانی ڈال دیناتیرے لیے صدقہ ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی صناءع المعروف، ۳/ ۳۸۴، حدیث  : ۱۹۶۳)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  (’’کسی بھٹکے ہو ئے  کو راستہ بتانا تیرے لیے صدقہ ہے‘‘کے تحت )لکھتے ہیں  :  سُبْحٰنَ اللّٰہ! کیا رب  تَعَالٰی  کی مہربانیاں  ہیں  جو نبی کریم صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم  کے طفیل اس اُمت کو ملیں ، وہ معمولی کام جن میں  نہ خرچ ہو نہ تکلیف ثواب کا باعث بن گ ئے ، کسی کو راستہ بتا  دینا یا مسئلہ سمجھا دینا بھی ثواب کا باعث ہوگیا۔(’’ تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں ) : یا اس طرح کہ اس کی انگلی پکڑ کر جہاں  جانا چاہتا ہے وہاں  پہنچا دے یا اس طرح کہ اس کا کام کاج کردے ، سب میں  ثواب ہے کہ اندھوں  اور کمزور نظر والوں  کی خدمت نعمتِ آنکھ کا شکریہ ہے، ہر نعمت کا شکر جداگانہ ہے اور شکر پر زیادتی نعمت کا وعدہ ہے :

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ

(ترجمۂ کنزالایمان : اگر احسان مانو گے تو میں  تمہیں  اور دونگا (پ۱۳، ابراھیم : ۷))

  (’’ راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے صدقہ ہے ‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں ) :  اس سے لوگ تکلیف سے بچیں  گے اورتمہیں  ثواب ملے گا۔معلوم ہوا کہ جیسے مسلمان کو نفع پہنچانا ثواب ہے ایسے ہی انہیں  تکلیف سے بچانا بھی ثواب ہے، کسی بھلے آدمی کو بدمعاش کے شَر سے بچالینا ثواب ہے، اگر کو ئی  شریفُ النفس آدمی بے خبری میں  خبیثُ النفس سے رشتہ کرنا چاہتا ہو اس سے بچالینا بھی ثواب ہے۔(مراۃ المناجیح، ۳/ ۱۰۴)

                  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اگرا ِس  گئےگزرے دَور میں  ہم سب ایک دوسرے کی غمخواری وغمگُساری میں  لگ جا  ئیں تو آناً فاناً دُنیا کا نقشہ ہی بدل کررَہ جا ئے ۔لیکن آہ!اب تو بھا



Total Pages: 32

Go To