Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

(2) اس کے شکم میں  ، وہ اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں  حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدر ِضرورت کھا ئے  گا ۔

 (3) اس کی آنکھ میں  ، وہ اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچا ئے  گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں  بلکہ حصولِ عبرت کے  لئے دیکھے گا ۔

 (4) اس کے ہاتھ میں  ، وہ اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں  بڑھا ئے  گا بلکہ ہمیشہ اطاعت ِ الٰہی   عَزَّوَجَلَّ    میں  استعمال کرے گا ۔

 (5) اس کے قدموں  میں  ، وہ اس طرح کہ وہ انہیں   اللّٰہ  تَعَالٰی  کی نافرمانی میں  نہیں  اٹھا ئے  گا بلکہ اس کے حکم کی اطاعت کے  لئے اٹھا ئے  گا ۔

 (6) اس کے دل میں  ، وہ اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بُغْض، کینہ اور مسلمان بھائیو ں سے حسد کرنے کو دور کر دے اور اس میں  خیرخواہی اور مسلمانوں  سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔

 (7) اس کی اِطاعت وفرمانبرداری میں  ، اس طرح کہ وہ فقط اللّٰہ  تَعَالٰی  کی رضا کے  لئے عبادت کرے اور ریاء ونفاق سے خائف رہے ۔

 (8) اس کی سماعت میں ، اس طرح کہ وہ جا ئز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے ۔(درۃ الناصحین، المجلس الثلاثون، ص۱۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوفِ خدا کے سبب بیمار دکھا ئی  دیتے

        منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا داو‘د عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو لوگ بیمار خیال کرتے ہو ئے  اُن کی عیادت کرنے کے  لئے آیا کرتے تھے حالانکہ ان کی یہ حالت صرف خوفِ خدا   عَزَّوَجَلَّ   سے ہوا کرتی تھی ۔(منہاج القاصدین، کتاب الرجاء والخوف، ذکر خوف داود و بکاءہ، ص۱۱۷۹) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فرشتوں  کا خوف

        مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا ابو عَمْرو یزید بن اَبان رَقَاشی  علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الکافی فرماتے ہیں  :  بلا شبہ عرش کے گرد کچھ فرشتے ہیں  جن کی آنکھیں  نہروں  کی طرح قیامت تک جاری رہیں  گی ۔ وہ خوف خدا   عَزَّوَجَلَّ   سے ایسے کانپتے ہیں  جیسے شدید ہوا انہیں  ہلا جلا رہی ہو ۔ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     اُن سے ارشاد فرماتا ہے :  اے فرشتو ! میری بارگاہ میں  ہوتے ہو ئے  تمہیں  کس چیز کا خوف ہے ؟ عرض کرتے ہیں  :  اے رب   عَزَّوَجَلَّ   ! تیری عزت و عظمت جو ہمیں  معلوم ہے اگر زمین والوں  کو معلوم ہوجا ئے  تو کھانا پانی ان کے حلق سے نہ اُترے ، بستروں  پر لیٹ نہ پا  ئیں ، صحراؤں  میں  نکل جا  ئیں اور گا ئے  کی طرح ڈکرا  ئیں ۔ (منہاج القاصدین، کتاب الرجاء والخوف، ذکر خوف الملاءکۃ، ص۱۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:5

اُمُّ المومنین کا خوف خدا

        حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :  میری عادت تھی کہ میں  صبح اُٹھ کر سب سے پہلے حضرت سیِّدَتُنا عا ئشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ا  کو سلام کرتا۔ ایک دن صبح اٹھا تو دیکھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ا چاشت کی نماز میں  مشغول ہیں  اور اس آیت مبارکہ

’’ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ(۲۷) ‘‘ (پ۲۷، الطور :  ۲۷)

(ترجمہ کنز الایمان :  تو اللّٰہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں  لُو کے عذاب سے بچالیا)    کی بار بار تلاوت کر کے رو ئے  جارہی ہیں  ۔

 میں  فراغت کے انتظار میں  کھڑے کھڑے تھک گیا ، لیکن آپ بدستور اسی حالت میں  رہیں  ۔ پھر میں  بازار چلاگیا تاکہ ضرورت کی چیزیں  لے کر آجاؤں  ۔ واپس آکر دیکھاتو آپ مسلسل وہی آیتِ مُبارَکہ پڑھ رہی ہیں  اوررو ئے  جارہی ہیں  ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، ۵ / ۱۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت : 6

خوفِ خدا   عَزَّوَجَلَّ    رکھنے والے کے ساتھ نکاح کردو

        ایک شخص نے حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سے اِستفسار کیا : میری ایک بیٹی ہے، آپ کے خیال میں  اس کا نکاح کس کے ساتھ کرنا چاہیے؟  ارشاد فرمایا :  اس کا نکاح ایسے شخص سے کرو جواللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے ڈرنے والا ہو، ایسا شخص اگر اس سے محبت کرے گا تو اس کی عزت کرے گا اور اگر اسے ناپسند کرے گا تو بھی اس پر ظلم نہیں  کرے گا۔ [1]؎

                                                                                                                                                                                                                                                (المستطرف، الباب الثالث والسبعون، ۲/  ۳۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(3) غنی بننے کا طریقہ

        اَعرابی کا تیسرا سوال یہ تھاکہ میں سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں  ۔ تاجدارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : قناعت اختیار کرو، غنی ہوجاؤ گے۔

قَناعت کا مطلب

 



      مزید روایات وحکایات اور دیگر معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 160صفحات پر مشتمل کتاب’’خوفِ خدا‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔ [1]



Total Pages: 32

Go To