Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

بخل کسے کہتے ہیں ؟

        حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الوالی  بخل کا مطلب بیان کرتے ہو ئے  ارشادفرماتے ہیں  : جہاں  خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں  سے روک دینابخل ہے اورجہاں  روکناچاہیے وہاں  خرچ کرنافضول خرچی ہے ان دونوں  کے درمیان اِعتدال کاراستہ ہے اوروہی محمود ہے ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل، بیان حد السخاء۔۔الخ، ۳/ ۳۲۰)

         مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ارشادفرماتے ہیں  : بخل کے معنٰی ہے روکنا، اِصطلاح میں  بخل یہ ہے (کہ) وہاں  (خرچ کرنے)سے مال وغیرہ کا روکناجہاں  سے(روکنا)مناسب نہ ہو، ، حقوق کاادانہ کرنابھی بخل ہے، خواہ انسانوں  کاحق ادا نہ کرے یاشریعت کایا اللّٰہ  تَعَالٰی  کا، لہٰذا زکوٰۃ نہ دینے والا، اپنے حاجت مند ماں باپ، بال بچوں  ، اہلِ قرابت پرخرچ نہ کرنے والانیز اپنے پرخرچ نہ کرنے والابخیل( ہے)، یوں  ہی بوقتِ ضرورت مسلمانوں  پرخرچ نہ کرنے والا، جہاد میں  باوجود ضرورت کے صَرْف نہ کرنے والابخیل( ہے)۔ (تفسیرنعیمی ، ۴/ ۳۷۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بخیل جنت سے دُور ہے

         نُور کے پیکر، تمام نبیوں  کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : سخی شخص اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    کے قریب ہے لوگوں  سے قریب ہے ، جنت سے قریب ہے اوردوزخ سے دُور ہے جب کہ بخیل اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے دور ہے جنت سے دُورہے لوگوں  سے دُورہے اوردوزخ سے قریب ہے ۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی السخاء، ۳/ ۳۸۷، حدیث  : ۱۹۶۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:53

خوش طبع مہمان اوربخیل میزبان

         حضرت سیِّدُنا ابو عبدُاللّٰہ سُتوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ایک بار کسی دنیاداربخیل شخص کے دسترخوان پر تشریف فرما تھے ، اس نے بُھنا ہوا بچھڑا آپ کے آگے رکھا ، جب اس نے لوگوں  کو بچھڑے کے ٹکڑے کرتے دیکھا تو تنگ دل ہوکر اپنے غلام سے کہا :  یہ بچوں  کے  لئے لے جاؤ ۔ غلام اسے اٹھا کر گھر کے اندر جانے لگا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس کے پیچھے ہو لئے ۔ عرض کی  گئی   :  آپ کہاں  تشریف لے جا رہے ہیں  ؟ فرمایا :  میں  بچوں  کے ساتھ کھاؤں  گا ۔ یہ سن کرمیزبان بڑا شرمندہ ہوا اورغلام کو بچھڑا واپس لانے کا کہا ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الاکل، آداب احضار الطعام، ۲ / ۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۴پوشیدہ صدقے اور صلہ رحمی کی فضیلت

        اَعرابی کا چوبیسواں  سوال یہ تھا کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کے غضب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  چپکے چپکے صدقہ کرنااور صِلہ رحمی۔

سب سے مضبوط مخلوق

        حضرت سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تمام نبیوں  کے سَرْوَر، دو جہاں  کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جب اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ کانپنے لگی، اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے پہاڑوں  کو پیدا فرماکر انہیں  زمین کے  لئے میخیں  بنادیا اور زمین ٹھہر  گئی  ۔فرشتوں  کو پہاڑوں  کی قوت پر تعجب ہوا اورانہوں  نے عرض کی : اے پروردگار!کیا تیری مخلوق میں  پہاڑوں  سے بھی طاقتور کو ئی  چیز ہے؟اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے ارشاد فرمایا :  لوہا۔فرشتوں  نے پھر استفسار کیا : کیا تیری مخلوق میں  لوہے سے بھی مضبوط کو ئی  چیز ہے؟ارشاد فرمایا : آگ۔ فرشتوں  نے پھر وہی سوال کیا تو ارشاد ہوا :  پانی، فرشتوں  نے وہی سوال دہرایا تو جواب ملا : ہوا۔ فرشتوں  نے سوال کیا : اے پروردگار!کیا تیری مخلوق میں کو ئی  ہوا سے بھی طاقتور ہے؟ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے ارشاد فرمایا : ہاں  وہ انسان جو سیدھے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے اپنے اُلٹے ہاتھ سے پوشیدہ رکھے۔(ترمذی، کتاب التفسیر، ۵/ ۲۴۲، حدیث  : ۳۳۸۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

پوشیدہ عمل افضل ہے

        نبی پاک صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ـ ظاہری عمل کے مقابلے میں  پوشیدہ عمل افضل ہے ۔(شُعَبُ الْاِیمان ، ۵/ ۳۷۶، حدیث  : ۷۰۱۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تھیلی تو ملتی مگر دینے والے کا پتا نہ چلتا

        حضرتِ سیِّدُنا عامر بن عبدُاللّٰہ بن زُبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ان بندوں  کے پاس جو سجدے میں  ہوتے درہم و دینار سے بھری تھیلیاں  لے کر جاتے اور ان کی چَپَّلوں  کے پاس ایسے انداز میں  رکھ کر آجاتے کہ انہیں  تھیلی کا تو پتہ چل جاتا مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا پتہ نہیں  لگ پاتا ۔ کسی نے ان سے عرض کی :  آپ خود جانے کے بجا ئے  کسی کے ہاتھ تھیلیاں  کیوں  نہیں  بھجواتے ؟ فرمایا :  میں  نہیں  چاہتا کہ جب کبھی وہ میرے قاصد کو دیکھا کریں  یا مجھ سے ملا کریں  تو احسان تلے ہونے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کریں  ۔ (منہاج القاصدین، کتاب اسرار الزکاۃ، ص۱۷۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:54

بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا

 



Total Pages: 32

Go To