Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

مظلوم کی بددعا مقبول ہے

         رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی ہوکیونکہ اس کے سامنے کو ئی  حِجاب نہیں  ہوتا۔

 (مسند احمد، ۴ / ۳۰۶، حدیث  : ۱۲۵۵۱)

        شارِح بخاری علامہ ابوالحسن علی بن خلف قُرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  شرح بخاری میں  لکھتے ہیں  : ظلم تمام شریعتوں  میں  حرام تھا، حدیث  پاک میں  ہے : مظلوم کی دعا رَد نہیں  کی جاتی اگرچہ وہ کافر ہی کیوں  نہ ہو۔اس حدیث  کا معنی یہ ہے کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   جس طرح مومن پر ظلم کرنے سے ناراض ہوتا ہے اسی طرح کافر پر ظلم سے بھی ناراض ہوتا ہے۔

(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الزکاۃ، باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء، ۳/ ۵۴۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مظلوم جانور کی بددعا

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں  :  مظلوم جانور بلکہ مظلوم کافِر و فاسِق کی بھی دعا قبول ہوتی ہے اگرچہ مسلمان مظلوم کی دعا زیادہ قبول ہے، کیونکہ مظلوم مضطرو بے قرار ہوتا ( ہے) اور بے قرار کی دعا عرش پر قرار کرتی ہے رب فرماتاہے :

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ

(ترجمۂ کنزالایمان :  یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے۔  (پ۲۰، النمل : ۶۲)    (مراٰۃ المناجیح ، ۳/ ۳۰۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 گھوڑے نے کبھی ٹھوکر کیوں  نہ کھا ئی ؟

        حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمسے اِستفسار کیا گیا : کیا بات ہے کہ آپ کے گھوڑے نے کبھی ٹھوکر نہیں  کھا ئی ؟ارشاد فرمایا : میں  نے اس سے کبھی کسی مسلمان کی کھیتی کو نہیں  روندا۔(فیض القدیر، ۱/ ۴۰۰، تحت الحدیث   :  ۵۱۰)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حکایت:27

 کھوٹاسکہ

        راہِ خدا میں  جہاد کرنے والے ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   اپنا واقعہ بیان کرتے ہو ئے  فرماتے ہیں  :  ایک بار میں  اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تا کہ ایک موٹے اور طاقتور غیر مسلم کو قتل کروں  لیکن میرے گھوڑے نے کوتاہی کی تو میں  واپس لوٹ آیا ، پھر وہ موٹا غیرمسلم میرے قریب ہوا تو میں  نے پھر اس پر حملہ کیا لیکن اس بار بھی گھوڑے نے کوتاہی کی ۔ پس میں  واپس لوٹ آیا ، جب میں  نے تیسری بار حملہ کیا تو میرا گھوڑا مجھ سے بھاگ گیا حالانکہ اس کی یہ عادت نہ تھی ۔ چنانچہ ، میں  غمگین ہو کر واپس لوٹا اور شکستہ دل سر جھکا کر بیٹھ گیا کیونکہ وہ غیر مسلم میرے ہاتھوں  قتل ہونے سے رہ گیا تھا نیز گھوڑے کی ایسی عادت میں  نے کبھی نہ دیکھی تھی تو میں  نے خیمہ کے ستون پر اپنا سر رکھاجبکہ میرا گھوڑا کھڑا تھا ۔ پھر میں  نے ایک خواب دیکھا گویا کہ میرا گھوڑا مجھے مخاطب کرتے ہو ئے  کہہ رہاتھا :  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کو یاد کرو ! تم نے تین مرتبہ ارادہ کیا کہ تم میری پیٹھ پر سوار ہو کر غیرمسلم کو پکڑو حالانکہ کل جو تم نے میرے  لئے چارہ خریدا تھا اس کی قیمت میں  کھوٹا درہم دیا تھا ، تویہ(یعنی مجھ پر سوار ہو کرغیر مسلم کو مارنا) ہرگز نہیں  ہو سکتا ۔ فرماتے ہیں  :  میں  گھبرا کر بیدا رہوا اور اس چارہ بیچنے والے کے پاس جا کر وہ دِرہم تبدیل کیا ۔ امام محمدبن محمدغزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی اس کے بعد لکھتے ہیں  :  یہ حکایت اس ظلم کی مثال ہے جس کا ضَرَر ونقصان عام ہے تودیگر مثالوں  کو اسی پر قیاس کر لو ۔   (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الکسب، الباب الثالث، ۲/ ۹۵)   

(۱۲اپنی جان اور  مخلوق پر رحم کرو

        اَعرابی کا بارہواں  سوال یہ تھا کہ میں  چاہتا ہوں  کہ  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      مجھ پر رحم فرما ئے ۔سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : اپنی جان پر اور مخلوقِ خدا پر رحم کرو ، اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      تم پر رحم فرما ئے  گا۔

مسکین پر رحم کرو

        منقول ہے کہ بنی اسرا ئی ل میں  ہر بادشاہ کے ساتھ ایک دانا شخص ہوتا تھا ، جب بادشاہ کوغصہ آتا تو وہ اسے ایک کاغذ دیتا جس پر لکھا ہوتا : مسکین پر رحم کرو، موت سے ڈرو اور آخرت کو یاد رکھو!بادشاہ اسے پڑھتا تو اس کا غصہ ٹھنڈاہوجاتا ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب، بیان علاج الغضب، ۳/ ۲۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت:28

کبوتری کی خاطر خیمہ نہیں  اُکھاڑا

        ’’فُسْطَاطْ‘‘ ملکِ مصْر کا ایک مشہور شہر ہے ، اس کی بنیاد صحابیٔ ٔرسولحضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے رکھی تھی ، جس کا واقعہ یوں  بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مصْر فتح کرنے کے بعد  ۲۰ھ میں  اِسْکَنْدَرِیہ روانہ ہونے لگے تو اپنا خیمہ اکھاڑنے کا حکم دیا ، حکم کی تعمیل کی جانے لگی تو نظر آیاکہ اس کے اوپر تو ایک کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں  ، یہ دیکھ کر



Total Pages: 32

Go To