Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

تعداد کو دیکھ کر، بے شمار مالدار ایسے ہیں  جن پر حج فرض ہوچکا ہوتا ہے لیکن وہ اس فرض کی ادا ئی گی میں  کوتاہی کرتے ہیں  ، سالہا سال سے زکوٰۃ واجب ہورہی ہوتی ہے لیکن دینے سے کتراتے ہیں ۔اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      ہمیں  شرعی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۱۰)گناہوں  سے پاک ہونے کا طریقہ

        اَعرابی کا دسواں  سوال یہ تھا کہ (روزقیامت) گناہوں  سے پاک ہوکر  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے ملنا چاہتا ہوں ۔ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : غسلِ جنابت خوب اچھی طرح کیا کرو، اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     سے اس حال میں  ملو گے کہ تم پر کو ئی  گناہ نہ ہوگا۔

جنت میں  داخل ہوگا

        حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانا ئے  غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا : پانچ چیز یں  ایسی ہیں  جو انہیں  ایمان کی حالت میں  ادا کریگا جنت میں  داخل ہوگا : (۱) پانچ نَماز وں  کے وُضو ، رکوع ، سجود اور اوقات کا لحاظ رکھے (۲) رمضان کے روزے رکھے (۳) اگر اِستطاعت رکھتا ہو تو بیتُ اللّٰہ کا حج کرے(۴) خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ دے (۵)اور اما نت ادا کرے۔عر ض کیا گیا : یا نَبِیَّ اللّٰہ!اما نت کی ادا  ئی گی سے کیا مرا د ہے؟ارشاد فرمایا :  غسلِ جنابت کر نا ، بے شک  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     نے ابن آدم کو اپنے دین میں  سے غسل کے علاوہ کسی چیز کا امین نہیں  بنایا۔(مجمع الزوا ئد ، کتاب الایمان ، با ب فیمابنی علیہ الاسلام، ۱/ ۲۰۴، حدیث  : ۱۳۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

اچھی طرح غسل کرنے کا طریقہ

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ616صَفحات پر مشتمل کتاب، نیکی کی دعوت(حصہ اول) صَفْحَہ137پر  ہے : نیّت کے بغیر بھی غسل ہو جا ئے  گا مگر ثواب نہیں  ملیگا، اس  لئے بِغیرزَبان ہِلا ئے  دل میں  اس طرح نیّت  کیجئے  کہ میں  پاکی حاصِل کرنے کی لئے غسل کرتا ہوں ۔ پہلے دونوں  ہاتھ پہنچوں  تک تین تین بار دھو ئیے، پھراِستِنجے کی جگہ دھو ئیے خواہ نَجاست ہویانہ ہو، پھرجِسم پر اگرکہیں  نَجاست ہوتو اُس کودُور کیجئے  پھرنَمازکاساوُضو کیجئے  مگرپاؤں  نہ دھو ئیے، ہاں  اگرچَوکی وغیرہ پر غسل کررہے ہیں  توپاؤں  بھی دھولیجئے، پھربدن پرتیل کی طرح پانی چُپڑلیجئے، خُصو صًا سرد یوں  میں (اِس دَوران صابُن بھی لگاسکتے ہیں )پھرتین بار سید ھے کندھے پرپانی بہایئے ، پھرتین باراُلٹے کندھے پر، پھرسر پراورتمام بدن پرتین بار، پھر غسل کی جگہ سے الگ ہوجائیے ، اگروُضوکرنے میں  پاؤں  نہیں  دھو ئے  تھے تواب دھو لیجئے۔نَہانے میں  قبلہ رُخ نہ ہوں ، تمام بدن پرہاتھ پَھیر کرمل کرنہائیے۔ایسی جگہ نہانا چا ہئےجہاں  کسی کی نظر نہ پڑے اگریہ ممکِن نہ ہوتومَرد اپناسَتر(ناف سے لے کر دونوں  گُھٹنوں  سَمیت)کسی موٹے کپڑے سے چھپالے، موٹاکپڑانہ ہوتوحَسبِ ِضَرور ت دو یا تین کپڑے لپیٹ لے کیوں  کہ باریک کپڑاہوگاتوپانی سے بدن پر چِپک جا  ئے  گا اورمَعَاذَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ! گُھٹنوں  یارانوں  وغیرہ کی رنگت ظاہِر ہوگی، عورت کو تو اور بھی زِیادہ احتیاط کی حاجت ہے۔دَورانِ غسل کسی قسم کی گُفتگومت کیجئے ، کو ئی  دُعا بھی نہ پڑھئے ، نَہانے کے بعدتَولیے وغیرہ سے بدن پُونچھنے میں  حَرَج نہیں ۔نہانے کے بعدفورًاکپڑے پہن لیجئے۔اگرمکروہ وقت نہ ہوتودو رَکعت نَفل اداکرنا مُستَحَب ہے۔  (عا لمگیری ج ۱ص۱۴ماخوذا، بہارِ شریعت ، ۱/ ۳۱۹ وغیرہ)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱) کسی پر ظلم مت کرو

        اَعرابی کا گیارہواں  سوال یہ تھا کہ میں  چاہتا ہوں  کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں  ہو۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : کسی پر ظُلْم مت کرو، تمہارا حشر نور میں  ہوگا۔

ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہوگا

         حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں  ہوگا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں  کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں  رغبت دی کہ انہوں  نے خون ریزی کی اورحرام کو حلال جانا ۔

(مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۳۹۴ا ، حدیث  : ۲۵۷۸)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان  اِس حدیث  پاک کے تحت لکھتے ہیں  : ظلم کے لُغوی معنٰے ہیں  کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں  ہیں  : ٭گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے ٭ قرابت داروں  یا قرض خواہوں  کا حق نہ دینا ان پر ظلم٭کسی کو ستانا اِیذاء دینا اس پرظلم، یہ حدیث  سب کو شامل ہے اور حدیث  اپنے ظاہری معنٰے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں  میں  گھرا ہوگا، یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا ، جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کے نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں  گے، رب  تَعَالٰی  فرماتاہے :

یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ (وَ بِاَیْمَانِهِمْ)

(ترجمۂ کنزالایمان : ان کا نور ہے ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ۔۲۷، الحدید : ۱۲))

چونکہ ظالم دنیا میں  حق ناحق میں  فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں  رہا۔(مراۃ المناجیح، ۳/ ۷۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 32

Go To