Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

        حضرت سیدنا ابومسلم خولانی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کثرت سے ذکرُ اللّٰہ  کیا کرتے تھے۔ایک شخص نے آپ کی یہ حالت دیکھ کرآپ کے مُصاحِبِین سے کہا : یہ تو  مجنون ہیں ۔آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس کی یہ بات سن لی اور ارشاد فرمایا : یہ(یعنی ذکرُ اللّٰہ) جنون نہیں  بلکہ جنون کی دوا ہے۔ (فیض القدیر، ۱/ ۵۸۴، تحت الحدیث   : ۹۰۲)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جنت میں  بھی افسوس!

       تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان رحمت نشان ہے، ’’ اہل جنت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں  ہوگا سوا ئے  اس ساعت (گھڑی ) کے جو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کے ذکر کے بغیر گزر گئی  ۔ (المعجم الکبیر، ۲۰/ ۹۳، حدیث  : ۱۸۲)

ذِکرودُرود ہر گھڑی وِردِ زباں  رہے

میری فضول گو ئی  کی عاد ت نکال دو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

مرغ کیا کہتا ہے؟

حضرت سیدنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا فرمان ہے : مرغ کہتا ہے : اُذْکُرُوا اللّٰہَ یَا غَافِلِیْنیعنی اے غافلو!اللّٰہ کا ذکر کرو۔(فیض القدیر، ۱ / ۴۸۸، تحت الحدیث   : ۶۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جہاں  ذکر ہوتا ہے ہر چیز گواہ ہوجاتی ہے

حضرت سیدنااَبُوالْملیح علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ السَّمیع جب ذکرُاللّٰہ کرتے تو جھوم اٹھتے اور فرماتے کہ میری یہ کیفیت اس  لئے ہوتی ہے کہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      مجھے یاد کرتا ہے، کیونکہ  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ      فرماتا ہے :

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ                         (پ۲، البقرۃ : ۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان : تو میری یاد کرو میں  تمہارا چرچا کروں  گا  ۔

اگر وہ کسی جگہ جاتے ہو ئے  راستہ میں  ذکرُاللّٰہکرنا بھول جاتے تو واپس آجاتے اور دوبارہ اُسی راستہ میں   ذکرُاللّٰہ کرتے ہو ئے  گزرتے۔ اگرچہ ایک منزل کا فاصلہ ہوتا اور فرماتے : میں  چاہتا ہوں  کہ میں  جس جس بُقعَۂ زمین (علاقے ) سے گزروں  وہ سب قِیامت میں  میرے  ذکرُاللّٰہ کی گواہی دیں  ۔( تنبیہ المغترین ، ص۱۰۴)

اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ     کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        سُبْحٰنَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ! ہمارے بُزرگوں  کی کیفیات کیسی ہوتی تھیں  کہ اگر کسی گلی سے گزرتے ہو ئے  ذکر چھوٹ جاتا تو دوبارہ لوٹ جاتے اور پھر ذکر کرتے ہو ئے  وہیں  سے گزرتے کہ کو ئی  گلی ، کو ئی  کوچہ ایسا نہ ہو جو  ذکرُاللّٰہ  سے خالی رہ جا ئے  مگر ہم اپنے راستے میں  آنے والی چیزوں  کو کس بات پر گواہ بناتے ہیں  ؟ اس پر ہر ایک کو غور کر لینا چا ہئےبالخصوص کار ، ویگن ، بس، ٹرین اور جہازوغیرہ میں  فلمیں ، ڈرامے اور گانے دیکھنے سننے والوں  کو سنبھل جانا چا ہئےکہ اسی حالت میں  موت آ گئی   تو ہماراکیا بنے گا؟

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت :21

پہاڑوں  کو کلمہ پڑھ کر گواہ کیوں  نہیں  کر لیتے؟

         میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے جبل پور کے سفر کا واقعہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے خدام ومصاحبین کے ہمراہ جبل پور کے درہ میں  کشتی پر سفر کیا ، اس سفر کے راوی لکھتے ہیں  : یہ درّہ پانی نے سنگِ مرمر کے پہاڑ کا ٹ کر پیدا کیا ہے اونچی اونچی چوٹی کی پہاڑیوں  کا سلسلہ دور تک چلاگیا ہے، یہ راستہ پانی نے پہاڑوں  کو کاٹ کر حاصل کیا ہے ، دُور تک دو ر ویہ ( یعنی دونوں  طرف) سنگِ مرمر کے پہاڑ سر بَفَلک ( یعنی بہت بلند) دیوار وں  کی طرح چلے  گئےہیں ، ک ئی  میل کے سفر میں  صرف ایک جگہ کنارہ دیکھا جو غالباً (8)گز چوڑا تھا ۔ اس ہیبت ناک منظر کا نام بر ادر مکرم مولانا مولوی حسنین رضا خان صاحب  ( یعنی سرکار اعلیٰ حضرت کے بھتیجے)نے فِی البَدِیہہ ( یعنی بے ساختہ) ’’دَہانِ مرگ ‘‘ ( یعنی موت کا دہانہ ) رکھا ، کشتی نہایت تیز جارہی تھی ، لوگ آپس میں  مختلف باتیں  کررہے تھے ، اِس پر ارشاد فرمایا : ’’ اِن پہاڑوں  کو کلمۂ شہادت پڑھ کر گواہ کیوں  نہیں  کرلیتے!‘‘

حکایت:22

مٹی کے ڈھیلوں  کواپنے ایمان کا گواہ بنانے کا انعام

          (پھر فرمایا)ایک صاحب کا معمول تھا جب مسجد تشریف لاتے تو سات ڈھیلوں  کو جوباہر مسجد کے طاق میں  رکھے تھے اپنے کلمۂ شہادت کا گواہ کرلیا کرتے ، اِسی طر ح جب واپس ہوتے تو گواہ بنالیتے ۔ بعدِ انتقال ملاءکہ ان کو جہنم کی طرف لے چلے، اُن ساتوں  ڈھیلوں  نے سات پہاڑ بن کر جہنم کے ساتوں  دروازے بند کر دی ئے  اور کہا : ’’ہم اس کے کلمۂ شہادت کے گواہ ہیں ۔‘‘ انہوں  



Total Pages: 32

Go To