Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اورپھر اپنے اس کلام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اگر کسی بندے کے پاس مال نہ ہو تو اس پر واجب نہیں  کہ زکوٰۃ کے مسائل سیکھے بلکہ جب اس کے پاس دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا) آجا ئے تو اس پر یہ سیکھنا واجب ہوگا کہ وہ کتنی زکوٰۃ ادا کرے گا؟ اور کب نکالے گا؟ او ر کہاں  نکالے گا؟ اور اسی طرح بقیہ تمام چیزوں  کے احکام ہیں  ۔ (یعنی جب کوئی چیز پیش آئے گی تو اس کی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہو جائے گا)( الفقیہ والمتفقہ ،  وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین ،  ۱ / ۱۷۱ ،  روایت نمبر: ۱۶۳)

            امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ہر مسلمان پر یہ بات واجب ہے کہ وہ کھانےپینے ،  پہننے میں  او ر پوشیدہ امور کے متعلق ان چیزوں  کا علم حاصل کرے جو اس کے لیے حلال ہیں  اور جو اس پر حرام ہیں  ۔ یونہی خون اور اموال میں  جو اس پر حلال ہے یا حرام ہے یہ وہ تمام چیزیں  ہیں  جن سے بے خبر (غافل ) رہنا کسی کو بھی جائز نہیں  ہے اور ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ ان چیزوں  کو سیکھے ۔۔۔۔اور امام یعنی حاکمِ وقت عورتوں  کے شوہروں  کو اور لونڈیوں  کے آقاؤں  کو مجبور کرے کہ وہ انہیں  وہ چیزیں  سکھائیں  جن کا ہم نے ذکر کیا اور حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ وہ لوگوں  کی اس بارے میں  پکڑ کرے اور جاہلوں  کو سکھانے کی جماعتیں  ترتیب دے اور ان کے لئے بیت المال کے اندر رزق مقرر کرے اور علماء پر واجب ہے کہ وہ جاہلوں  کو وہ چیزیں  سکھائیں  جن سے وہ حق وباطل میں  فرق کرلیں ۔( الفقیہ والمتفقہ ،  وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین ،  ۱ / ۱۷۴)

            ان تمام اَقوال سے روزِ روشن کی طرح عیاں  ہے کہ علمِ دین سیکھنا صرف کسی ایک خاص گروہ کا کام نہیں  بلکہ اپنی ضرورت کی بقدر علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں  کی اکثریت علمِ دین سے دور نظر آتی ہے ۔ نمازیوں  کو دیکھیں  تو چالیس چالیس سال نماز پڑھنے کے باوجود حال یہ ہے کہ کسی کو وضو کرنا نہیں  آتا تو کسی کو غسل کا طریقہ معلوم نہیں  ،  کوئی نماز کے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا نہیں  کرتا تو کوئی واجبات سے جاہل ہے ،  کسی کی قرأ ت درست نہیں  تو کسی کا سجدہ غلط ہے۔ یہی حال دیگر عبادات کا ہے خصوصاً جن لوگوں  نے حج کیا ہو ان کو معلوم ہے کہ حج میں  کس قدر غلطیاں  کی جاتی ہیں ! ان میں اکثریت ان لوگوں  کی ہوتی ہے جو یہ کہتے نظر آتے ہیں  کہ بس حج کے لئے چلے جاؤ جو کچھ لوگ کر رہے ہوں  گے وہی ہم بھی کرلیں  گے۔ جب عبادات کا یہ حال ہے تو دیگر فرض علوم کا حال کیا ہوگا؟ یونہی حسد ،  بغض ،  کینہ ،  تکبر ،  غیبت ،  چغلی ،  بہتان اورنجانے کتنے ایسے امور ہیں  جن کے مسائل کا جاننا فرض ہے لیکن ایک بڑی تعداد کو ان کی تعریف کا پتہ تک نہیں  بلکہ ان کی فرضیت تک کا علم نہیں ۔ یہ وہ چیزیں  ہیں  جن کا گناہ ہونا عموماً لوگوں  کو معلوم ہوتا ہے اور وہ چیزیں  جن کے بارے میں  بالکل بے خبر ہیں  جیسے خریدوفروخت ،  ملازمت ،  مسجدو مدرسہ اور دیگر بہت سی چیزیں  ایسی ہیں  جن کے بارے لوگوں  کو یہ تک معلوم نہیں  کہ ان کے کچھ مسائل بھی ہیں  ،  بس ہر طرف ایک اندھیر نگری مچی ہوئی ہے  ، ایسی صورت میں  ہر شخص پر ضروری ہے خود بھی علم سیکھے اور جن پر اس کا بس چلتا ہو انہیں  بھی علم سیکھنے کی طرف لائے اور جنہیں خود سکھا سکتا ہے انہیں  سکھائے ۔

            اگر تمام والدین اپنی اولاد کو اور تمام اساتذہ اپنے شاگردوں  کو اور تمام پیر صاحبان اپنے مریدوں  کو اور تمام افسران و صاحب ِ اِقتدار حضرات اپنے ماتحتوں  کوعلمِ دین کی طرف لگا دیں  تو کچھ ہی عرصے میں  ہر طرف دین اور علم کا دَور دورہ ہو جائے گا اور لوگوں  کے معاملات خود بخود شریعت کے مطابق ہوتے جائیں  گے۔ فی الوقت جو نازک صورتِ حال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں  کہ ایک مرتبہ سناروں  کی ایک بڑی تعداد کوایک جگہ جمع کیا گیا جب ان سے تفصیل کے ساتھ ان کا طریقۂ کار معلوم کیا گیا تو واضح ہوا کہ اس وقت سونے چاندی کی تجارت کا جو طریقہ رائج ہے وہ تقریباً اسی فیصد خلافِ شریعت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری دیگر تجارتیں  اور ملازمتیں  بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں ۔

            جب معاملہ اتنا نازک ہے تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرسکتا ہے ،  اس لئے ہر شخص پر ضروری ہے کہ علمِ دین سیکھے اور حتّی الامکان دوسروں  کو سکھائے یا اس راہ پر لگائے اور یہ محض ایک مشورہ نہیں  بلکہ  اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا حکم ہے  ، چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: تم میں  سے ہر ایک حاکم ہے اور تم میں  سے ہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں  سوال کیا جائے گا پس شہر کا حکمران لوگوں  پرحاکم ہے اس سے اس کے ماتحت لوگو ں  کے بارے میں  پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں  پر حاکم ہے اور اس سے اس کی بیوی کے بارے میں  اور ان(غلام لونڈیوں  ) کے بارے میں  پوچھا جائے گاجن کا وہ مالک ہے۔( معجم صغیر ،  باب الدال ،  من اسمہ: داود ،  ص۱۶۱)

            مذکورہ بالا حدیث میں  اگرچہ ہر بڑے کو اپنے ماتحت کو علم سکھانے کا فرمایا ہے لیکن والدین پر اپنی اولاد کی ذمہ داری چونکہ سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کو بطورِ خاص تاکید فرمائی گئی ہے  ، چنانچہ حضرت عثمان الحاطبیرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : میں  نے حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَاکو سنا کہ آپ ایک شخص کو فرما رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ ،  بے شک تم سے تمہارے لڑکے کے بارے میں  پوچھا جائے گا جو تم نے اسے سکھایا اور تمہارے اس بیٹے سے تمہاری فرمانبرداری اور اطاعت کے بارے میں  پوچھا جائے گا۔( شعب الایمان ،  الستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۶ / ۴۰۰ ،  روایت نمبر: ۸۶۶۲)

            اس حدیث پر والدین کو خصوصاً غور کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن اولاد کے بارے میں  یہی گرفت میں  آئیں  گے ،  اگر صرف والدین ہی اپنی اولاد کی دینی تربیت و تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دے لیں  تو علمِ دین سے دوری کا مسئلہ حل  ہو سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ دُنْیَوی علوم کے سکھانے میں  تو والدین ہرقسم کی تکلیف گوارا کرلیں  گے  ، اسکول کی بھاری فیس بھی دیں  گے ،  کتابیں  بھی خرید کر دیں  گے اور نجانے کیاکیا کریں  گے لیکن علمِ دین جو ان سب کے مقابلے میں  ضروری اور مفید ہے اس کے بارے میں  کچھ بھی توجہ نہیں  دیں  گے ،  بلکہ بعض ایسے بدقسمت والدین کو دیکھا ہے کہ اگر اولاد دین اور علمِ دین کی طرف راغب ہوتی ہے تو انہیں  جبراً منع کرتے ہیں  اور کہتے ہیں  کہ اس میں  کیا رکھا ہے ۔ہم دنیوی علم کی اہمیت و ضرورت کا انکار نہیں  کرتے لیکن یہ دینی علم کے بعد ہے اور والدین کا یہ کہنا کہ علمِ دین میں  رکھا ہی کیا ہے؟ یہ بالکل غلط جملہ ہے۔ اول تو یہ جملہ ہی کفریہ ہے کہ اس میں  علمِ دین کی تحقیر ہے۔ دوم اسی پر غور کرلیں  کہ علمِ دین سیکھنا اور سکھانا افضل ترین عبادت ،  انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وراثت ،  دنیا و آخرت کی خیر خواہی اور قبروحشر کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔آج نہیں  تو کل جب حساب کے لئے بارگاہِ الہٰی میں  حاضر ہونا پڑے گااس وقت پتہ چلے گا کہ علمِ دین کیا ہے؟ بلکہ صرف اسی بات پر غور کرلیں  کہ مرتے وقت آج تک آپ نے کسی شخص کو دیکھا ہے کہ جس کو دنیا کا علم حاصل نہ کرنے پر افسوس ہورہا ہو ۔ہاں  علمِ دین حاصل نہ کرنے  ،  دینی راہ پر نہ چلنے ،   اللہ تعالیٰ کی رضا کے کام نہ کرنے پر افسوس کرنے والے آپ کو ہزاروں  ملیں  گے اور یونہی



Total Pages: 235

Go To