Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۳ / ۲۷۲ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۵ / ۴۵۵ ،  تفسیر کبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۸ / ۱۲۲ ،  ملتقطاً)

            اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مرد تھے ،  کوئی عورت نبی نہ ہوئی۔

{فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:تو اے لوگو! علم والوں  سے پوچھو اگر تم نہیں  جانتے۔} آیت کے اس حصے میں  کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں  گزشتہ زمانوں  میں  تشریف لانے والے رسولوں  کے احوال معلوم نہیں  تو تم اہلِ کتاب کے ان علماء سے پوچھ لو جنہیں  ان کے احوال کا علم ہے  ، وہ تمہیں  حقیقت ِ حال کی خبر دیں  گے۔( جلالین مع صاوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۴ / ۱۲۹۱)

 شرعی معلومات نہ ہونے اور نہ لینے کے نقصانات:

            اس آیت میں  نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ناواقف کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں  کہ وہ واقف سے دریافت کرے اور جہالت کے مرض کا علاج بھی یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عمل کرے اور جو اپنے اس مرض کا علاج نہیں  کرتا وہ دنیا و آخرت میں  بہت نقصان اٹھاتا ہے۔ یہاں  اس کے چند نقصانات ملاحظہ ہوں

(1)… ایمان ایک ایسی اہم ترین چیز ہے جس پر بندے کی اُخروی نجات کا دارومدار ہے اور ایمان صحیح ہونے کے لئے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے ،  لہٰذا صحیح اسلامی عقائد سے متعلق معلومات ہونا لازمی ہے۔ اب جسے اُن عقائد کی معلومات نہیں  جن پر بندے کا ایمان درست ہونے کا مدار ہے تو وہ اپنے گمان میں  یہ سمجھ رہا ہو گا کہ میرا ایمان صحیح ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور اگر حقیقت بر عکس ہوئی اور حالت ِکفر میں  مر گیا تو آخرت میں  ہمیشہ کے لئے جہنم میں  رہنا پڑے گا اور ا س کے انتہائی دردناک عذابات  سہنے ہوں  گے۔

(2)…فرض و واجب اور دیگر عبادات کو شرعی طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے ، اس لئے ان کے شرعی طریقے کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے۔ اب جسے عبادات کے شرعی طریقے اوراس سے متعلق دیگر ضروری چیزوں  کی معلومات نہیں  ہوتیں  اور نہ وہ کسی عالم سے معلومات حاصل کرتا ہے تو مشقت اٹھانے کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں  ہوتا۔ جیسے نماز کے درست اور قابلِ قبول ہونے کے لئے ’’طہارت‘‘ ایک بنیادی شرط ہے اور جس کی طہارت درست نہ ہو تووہ اگرچہ برسوں  تک تہجد کی نما زپڑھتا رہے ،  پابندی کے ساتھ پانچوں  نمازیں  باجماعت ادا کرتا رہے اورساری ساری رات نوافل پڑھنے میں مصروف رہے ،  اس کی یہ تمام عبادات رائیگاں  جائیں  گی اور وہ ان کے ثواب سے محروم رہے گا۔

(3)…کاروباری ،  معاشرتی اور ازدواجی زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں  جن کے لئے شریعت نے کچھ اصول اور قوانین مقرر کئے ہیں  اور انہی اصولوں  پر اُن معاملات کے حلال یا حرام ہونے کا مدار ہے اور جسے ان اصول و قوانین کی معلومات نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی سے ان کے بارے میں  معلومات حاصل کرے تو حلال کی بجائے حرام میں  مبتلا ہونے کا چانس زیادہ ہے اور حرام میں  مبتلا ہونا خود کو  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حقدار ٹھہرانا ہے۔

            سرِ دست یہ تین بنیادی اور بڑے نقصانات عرض کئے ہیں  ورنہ شرعی معلومات نہ لینے کے نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جسے یہاں  ذکر کرنا ممکن نہیں ۔ دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو عقائد ،  عبادات  ، معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں  شرعی معلومات حاصل کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

 فرض علوم سیکھنے کی ضرورت و اہمیت

            یہاں  میری ایک کتاب ’’علم اور علماء کی اہمیت‘‘ سے فرض علوم کی اہمیت و ضرورت پر ایک مضمون ملاحظہ ہو ،  چنانچہ اس میں  ہے کہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہر آدمی پر اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہے نمازی پر نماز کے  ،  روزہ رکھنے والے پر روزے کے  ،  زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ کے  ، حاجی پر حج کے ،  تجارت کرنے والے پر خریدوفروخت کے ،  قسطوں  پر کاروبار کرنے والے کے لئے اس کاروبار کے  ،  مزدوری پر کام کرنے والے کے لئے اجارے کے  ،  شرکت پر کام کرنے والے کے لئے شرکت کے  ،  مُضاربت کرنے والے پر مضاربت کے (مضاربت یہ ہوتی ہے کہ مال ایک کا ہے اور کام دوسرا کرے گا) ،  طلاق دینے والے پر طلاق کے ،  میت کے کفن ودفن کرنے والے پر کفن ودفن کے ،  مساجد ومدارس ،  یتیم خانوں  اور دیگر ویلفیئرز کے مُتَوَلّیوں  پر وقف اور چندہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے ۔ یونہی پولیس ،  بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں  اوردیگر محکموں  کے ملازمین نیز جج اور کسی بھی ادارے کے افسر وناظمین پر رشوت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں  ۔ اسی طرح عقائد کے مسائل سیکھنا یونہی حسد  ،  بغض  ،  کینہ  ،  تکبر ،  ریاوغیرہا جملہ اُمور کے متعلق مسائل سیکھنا ہر اس شخص پر لازم ہے جس کا ان چیزوں  سے تعلق ہوپھر ان میں  فرائض ومُحَرّمات کا علم فرض اور واجبات ومکروہِ تحریمی کا علم سیکھنا واجب ہے اور سنتوں  کا علم سیکھنا سنت ہے۔

             اس مفہوم کی ایک حدیث حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ،  سرکا رِ دو عالَمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: علم کا طلب کرنا ہر مومن پر فرض ہے یہ کہ وہ روزہ ،  نماز اور حرام اور حدود اور احکام کو جانے۔(الفقیہ والمتفقہ ،  وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین ،  ۱ / ۱۶۸ ،  الحدیث: ۱۵۷)

            اس حدیث کی شرح میں  خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ہرشخص پر فرض ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت کے مسائل سیکھے جس پر اس کی لاعلمی کو قدرت نہ ہو۔( الفقیہ والمتفقہ ،  وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین ،  ۱ / ۱۷۱)

            اسی طرح کا ایک اور قول حضرت حسن بن ربیعرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  سے مروی ہے  ، وہ فرماتے ہیں  کہ میں  نے حضرت عبداللّٰہبن مبارک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے پوچھا کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ کی تفسیر کیا ہے؟آپ نے فرمایا :یہ وہ علم نہیں  ہے جس کو تم آج کل حاصل کر رہے ہو بلکہ علم کاطلب کرنا اس صورت میں  فرض ہے کہ آدمی کو دین کاکوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ اس مسئلے کے بارے میں  کسی عالم سے پوچھے یہا ں  تک کہ وہ عالم اسے بتا دے۔( الفقیہ والمتفقہ ،  وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین ،  ۱ / ۱۷۱ ،  روایت نمبر: ۱۶۲)

            حضرت علی بن حسن بن شفیقرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہے کہ میں  نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے پوچھا :علم سیکھنے کے اندر وہ کیا چیز ہے جو لوگوں  پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا :وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کام کی طرف قدم نہ اٹھائے جب تک اس کے بارے میں  سوال کر کے اس کا حکم سیکھ نہ لے ،  یہ وہ علم ہے جس کا سیکھنا لوگوں  پر واجب ہے ۔



Total Pages: 235

Go To