Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہوتی کہ محمد مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت ِ دعوت کے عذاب میں  قیامت تک تاخیر کی جائے گی اور سابقہ امتوں  کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دینے والا عذاب ان پر نازل نہیں  کیا جائے گااور قیامت کے دن ان کے عذاب کی ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور عذاب انہیں  دنیا ہی میں  لپٹ جاتا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۹ ،  ۵ / ۴۴۳)

اس امت پر عذابِ عام نہ آنے کی وجوہات:

            اس سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی امت میں  سے جو لوگ آپ کو جھٹلائیں  گےاور آپ پر ایمان نہ لائیں  گے توان پر دنیا میں  ویسا عذاب نہیں  آئے گا جیسا پچھلی امتوں  کے کفار پر نازل کیا گیا تھا کہ ان کی تمام بستیاں  تباہ و برباد کر دی جائیں  اور ان میں  سے کوئی کافر زندہ نہ بچے ،  مفسرین نے اس کی چند وجوہات بھی بیان کی ہیں  جو کہ درج ذیل ہیں  :

(1)…  اللہ تعالیٰ کے علم میں  ہے کہ ان جھٹلانے والوں  میں  سے بعض کفارایمان لے آئیں  گے اس لئے ان پر ویسا عذاب نازل نہ ہو گا۔

(2)… اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان جھٹلانے والوں  کی نسل میں  کچھ ایسے لوگ پیداہوں  گے جومسلمان ہوجائیں  گے ،  اس لئے اگران پرعذاب نازل کردیاجائے تووہ لوگ بھی ہلاک ہوجائیں  گے ۔

(3)…بعض مفسرین کہتے ہیں  کہ اس میں  کوئی مصلحت پوشیدہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔

(4)… اللہ تعالیٰ مالک ومولیٰ ہے جسے چاہے عذاب دے اورجسے چاہے اپنے فضل کی وجہ سے عذاب سے مُستثنیٰ کردے۔(تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۹ ،  ۸ / ۱۱۲)

(5)…علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’بے شک  اللہ تعالیٰ کے علم میں  تھا کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اِکرام کی وجہ سے ان کی امت سے عذابِ عام کو مُؤخَّر فرما دے گا اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس امت پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہوتا جیسا سابقہ امتوں  پر نازل ہوا تھا۔( صاوی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۹ ،  ۴ / ۱۲۸۶)

            عذاب مؤخر کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ جس نے (اپنے کفر و مَعاصی سے) توبہ کرنی ہے وہ توبہ کر لے اور جو (اپنے کفر و معاصی پر) قائم رہنا چاہتا ہے اس کی حجت ختم ہو جائے لہٰذا ہر عقلمند مُکَلَّف کو چاہئے کہ وہ قرآن مجید کی نصیحتوں  سے نصیحت حاصل کرے اور قادر و حکیم رب تعالیٰ سے ڈرے اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور ا س کی بارگاہ میں  سرِ تسلیم خم کرنے کی بھرپور کوشش کرے اور انسان ہونے ،  اشرفُ المخلوقات ہونے اور تمام مصنوعات میں  سب سے بہترین ہونے کے باوجود جمادات سے بھی برا نہ بنے کہ قرآن پاک میں  ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے خوف سے پتھر بھی اپنی جگہ سے گر جاتے ہیں  اور ان سے بھی پانی جاری ہوتا ہے۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ-وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى(۱۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی باتوں  پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں  میں  اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں  پر اس امید پر کہ تم راضی ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کی باتوں  پر صبر کرو اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو اور رات کی کچھ گھڑیوں  میں اور دن کے کناروں  پر (بھی  اللہ کی) پاکی بیان کرو ،  اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔

{فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ:تو آپ ان کی باتوں  پر صبر کریں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کو جھٹلانے والوں  سے عذاب مؤخر کر کے ہم نے انہیں  مہلت دی ہے  ،  اب اگر یہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تو ضرور عذاب میں  مبتلا ہوں  اس لئے آپ ان کی دل آزار باتوں  پر صبر کرتے رہیں  یہاں  تک کہ ان کے بارے میں  کوئی حکم نازل ہو جائے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ۵ / ۴۴۴)

{وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:اوراپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔} یہاں  سے سورج طلوع ہونے سے پہلے  ،  غروب ہونے سے پہلے  ،  رات کی کچھ گھڑیوں  میں اور دن کے کناروں  پر حمد کے ساتھ  اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ،  سورج طلوع ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد نمازِفجر ادا کرنا ہے ۔ سورج غروب ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد ظہر و عصر کی نمازیں  ادا کرنا ہیں  جو کہ دن کے دوسرے نصف میں  سورج کے زوال اور غروب کے درمیان واقع ہیں  ۔ رات کی کچھ گھڑیوں  میں  پاکی بیان کرنے سے مغرب اور عشا کی نمازیں  پڑھنا مراد ہے۔ دن کے کناروں  میں  پاکی بیان کرنے سے فجر اور مغرب کی نمازیں  مراد ہیں  اور یہاں  تاکید کے طور پر ان نمازوں  کی تکرار فرمائی گئی ہے ۔ بعض مفسرین سورج غروب ہونے سے پہلے سے نمازِ عصر اور دن کے کناروں  سے نمازِ ظہر مراد لیتے ہیں   ،  ان کی تَوجیہہ یہ ہے کہ نمازِ ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے پہلے نصف اور دوسرے نصف کے کنارے ملتے ہیں  اور یہاں  پہلے نصف کی انتہا اور دوسرے نصف کی ابتدا ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ص۷۰۷ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ۳ / ۲۶۹ ،  ملتقطاً)

{لَعَلَّكَ تَرْضٰى: اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان اوقات میں  اس امید پر  اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہیں  کہ آپ  اللہ تعالیٰ کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اِکرام سے راضی ہوں  ،  آپ کو امت کے حق میں  شفیع بنا کر آپ کی شفاعت قبول فرمائے اور آپ کو راضی کرے۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ۵ / ۴۴۴-۴۴۵ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۳۰ ،  ۳ / ۲۶۹)

 اللہ تعالٰی اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا چاہتا ہے :

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اس آیت کے تحت اپنی مشہور کتاب تفسیر صاوی میں  فرماتے ہیں  :اے بندے! اس لطف و کرم والے خطاب کو دیکھ ،  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ کے حبیب ہیں  اور ساری مخلوق سے افضل ہیں  کیونکہ  اللہ تعالیٰ نے ان سے یوں  نہیں  ارشاد فرمایا ’’تاکہ میں  آپ سے راضی ہو جاؤں۔یونہی اس طرح کا کوئی اور کلام نہیں  فرمایا (جیسے یوں  نہیں  فرمایا ’’تاکہ آپ کو میری رضا حاصل ہو جائے) بلکہ یوں  ارشاد فرمایا ہے ’’لَعَلَّكَ تَرْضٰى‘‘ یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ



Total Pages: 235

Go To